Aik Arzoo by Allama Iqbal | Bang-e-Dra : 19

WhatsApp Channel Join Now

Aik Arzoo by Allama Iqbal


ایک آرزو


دنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یارب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
معانی: اکتا جانا: تنگ آنا، بیزار ہونا: انجمن: بزم، باہم مل کر بیٹھنے کی جگہ ۔ دل بجھ جانا: کوئی خواہش نہ ہونا ۔
مطلب: اس نظم میں اقبال اپنی دلی خواہش کا کمال چابکدستی سے اظہار کرتے ہیں چنانچہ نظم کا آغاز کرتے ہوئے علامہ اقبال رب ذوالجلال کو مخاطب کر کے اس طرح سے گویا ہوتے ہیں کہ اب دنیا کی محفلوں اور ان کے جھمیلوں سے میری طبیعت اکتا گئی ہے ۔ اس لیے کہ جب حوادث زمانہ سے دل ہی بجھ کر رہ جائے تو ایسی محفلوں کا وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔


شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
معانی: شورش: غل غپاڑہ، ہنگامہ ۔ تقریر: بولنے کی حالت ۔ بھاگنا: مراد پسند نہ کرنا ۔
مطلب: اب تو دنیا کے شور و شر سے طبیعت بیزار ہو کر رہ گئی ہے چنانچہ مجھے ایسی خاموشی اور سکوت کی تلاش ہے جس پر تقریر کو بھی رشک آ جائے ۔


مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
معانی: دامن: وادی ۔
مطلب: میں تو اب پر سکون زندگی پر فدا ہونے کا خواہاں ہوں اور اتنی ہی آرزو ہے کہ کسی پہاڑ کے دامن میں ایک مختصر سا جھونپڑا میسر آ جائے جہاں ساری دنیا سے الگ تھلگ پرسکون زندگی بسر کر سکوں ۔


آزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
معانی: فکر سے آزاد : غموں دکھوں سے نجات پانے والا ۔ عزلت: تنہائی کا کونا ۔ دن گزارنا: زندگی بسر کرنا ۔
مطلب: صورت یہ ہو کہ انتہائی تنہائی میں دن گزارنے کے باوجود ہر قسم کے فکر و فاقے سے آزاد ہو جاؤں اور یہاں دنیا کا ایسا کوئی غم نہ ہو جو میرے سکون کو برباد کر سکے ۔


لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
معانی: سرود: نغمہ، گیت ۔ چہچہوں : جمع چہچہا، پرندوں کے بولنے کی آواز ۔ شورشوں : جمع شورش، غل ، شور ۔
مطلب: میرے مسکن کے گردوپیش کی کیفیت یہ ہو کہ چڑیوں کی چہچہاہٹ میں نغمے بکھر رہے ہوں اور بہتے ہوئے چشموں کی صداؤں میں باجا سا بجتا محسوس ہو رہا ہو ۔


گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جامِ جہاں نما ہو
معانی: چٹک کر: کِھل کر ۔ کسی کا: مراد محبوب حقیقی کا ۔ ساغر: شراب کا پیالہ، کلی کو کہا ۔ جامِ جہاں نما: ایسا پیالہ جس میں دنیا نظر آئے ۔
مطلب: کلیاں جب چٹکیں تو یوں لگے جیسے وہ کسی کا پیغام مجھ تک پہنچا رہی ہیں ۔ کلیوں اور پھولوں کے شگفتہ دہانے میرے لیے ایسے ساغر کی حیثیت اختیار کر لیں جن میں تمام مناظر فطرت کا جائزہ لے سکوں ۔


ہو ہاتھ کا سرہانا، سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہو
معانی: سبزہ: گھاس ۔ جلوت: بزم، انجمن ۔
مطلب: اس جھونپڑے میں جب آرام کی خواہش ہو تو فرش زمین کی سبز سبز گھاس میرا بچھونا ہو اور سرہانا خود میرا ہاتھ ہو ۔ اس لمحے ایسی تنہائی کا عالم ہو جو انجمن آرائی سے کہیں دلنشیں محسوس ہو ۔


مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مِرا ہو
معانی: مانوس: ملی ہوئی، عادی ۔
مطلب: وہاں موجود بلبل اور دوسرے ننھے ننھے پرندے مجھ سے اس طرح مانوس ہو جائیں جس طرح کہ ان کے دل سے ہرطرح کا خوف دور ہو گیا ہو ۔


صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
معانی: صف باندھے: قطاروں کی صورت میں ۔ تصویر لینا: صاف پانی میں عکس اتارنا ۔
مطلب: یہی نہیں بلکہ ہر جانب سرسبز پودے پوری شان و شوکت سے ایستادہ ہوں ۔ سامنے ندی کا شفاف پانی ایسے بہہ رہا ہوجس طرح کہ اس میں ان پودوں کی تصویر منعکس ہو رہی ہو ۔


ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر، اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو
معانی: دل فریب: دل کو بھانے والا ۔
مطلب: یہاں موجود پہاڑوں کا نظارہ بھی اتنا دلکش ہو کہ ندی اور چشموں کا پانی موجوں کی صورت میں بلند ہو کر جس کو دیکھ سکے ۔


آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ
پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو
معانی: آغوش: گود، پہلو ۔
مطلب: سرسبز گھاس اس طرح سے ایستادہ ہو جیسے کہ وہ زمین کی آغوش میں محو خواب ہو ۔ اور جہاں تک بہتے ہوئے پانی کا تعلق ہو وہ جھاڑیوں میں سے گزرتا ہوا شفاف آئینے کی مانند چمک رہا ہو ۔


پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
مطلب: پھر اس بہتے ہوئے پانی کو پھولوں کی ٹہنیاں اس طرح سے چھو رہی ہوں جیسے کوئی خوبرو حسینہ آئینہ دیکھ رہی ہو ۔


مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سُرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
معانی: شام کی دلہن: مراد شام ۔ مہندی: اشارہ ہے شفق کی طرف ۔ سرخی: چہرے کو ملنے والا غازہ ۔ قبا: لباس ۔
مطلب: وقت غروب جب سورج کی سرخی اور سنہری کرنیں شام کے وقت عکس ریز ہوں تو یوں محسوس ہو جیسے دلہن کو مہندی لگائی جا رہی ہے ۔ پھولوں کی کیفیت بھی ایسی ہو جیسے وہ سرخ اور سنہرے رنگ کی قبا پہنے ہوئے ہوں ۔


راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
اُمید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
مطلب: رات کے راہی جب سفر کرتے کرتے تھک کر رہ جائیں تو میرے جھونپڑے کے دیئے کی دھندلی روشنی ان کے لیے امید کی علامت بن جائے ۔


بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سُو بادل گھِرا ہوا ہو
معانی: کٹیا: جھونپڑی ۔ ہر سو: ہر طرف ۔ بادل گھرنا: بادل چھا جانا ۔
مطلب : اور جب آسمان پر ہر طرف بادل چھائے ہوئے ہوں اور راستہ نظر نہ آئے تو بجلی اس طرح سے چمک اٹھے کہ اس کی روشنی میں ان تھکے ہوئے مسافروں کو میری کٹیا نظر آئے ۔


پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذن
میں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہو
معانی: موذن: اذان دینے والا، والی ۔ ہمنوا: ساتھ مل کر بولنے، گانے والا ۔
مطلب : یہی نہیں جب رات کے آخری لمحات میں صبح کے موذن کی طرح کوئل کی صدا بلند ہو تو میں اس کا ساتھ دوں اور اسی طرح وہ میری ہم نوا بھی ہو ۔


کانوں پہ ہو نہ میرے دَیر و حرم کا احساں
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو
معانی: روزن: سوراخ ۔ سحر نما: دن چڑھنے کا پتہ دینے والا ۔
مطلب: مسجدوں اور مندروں سے سحر کے عبادت گزاروں کو مطلع کرنے کے لیے جو اذانیں بلند ہوتی ہیں اور ناقوس کی صدا آتی ہے مجھے ان کی ضرورت نہ ہو بلکہ طلوع ہوتے ہوئے آفتاب کی کرنیں میری جھونپڑی کے سوراخ سے اندر داخل ہو کر مجھے بیدار ی کا پیغام دیں ۔


پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دُعا ہو
مطلب: اور جس لمحے صبح دم شبنم پھولوں پر اس طرح برسے جیسے انہیں وضو کرا رہی ہو تو اس لمحے میری آہ و فغاں میرے لیے وضو اور دعا کا کام دے ۔


اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
معانی: نالہ: فریاد ۔ درا: قافلے کی گھنٹی ۔
مطلب: اس خامشی کے عالم میں میری آہ و فغاں اتنی بلند ہو جائے کہ تاروں کے قافلوں کے لیے آغاز سفر کا سبب بن جائے ۔


ہر درد مند دل کو رونا مرا رُلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
معانی: دردمند: غمگین، دکھوں کا مارا ۔ بے ہوش: غافل، عمل اور جدوجہد نہ کرنے والا ۔
مطلب: یوں میرا رونا اس قدر موثر ثابت ہو کہ ہر دردمند دل بھی میرے ہمراہ گریہ کناں ہو جائے اور میری آہ و فغاں سے جو صدا بلند ہو ممکن ہے کہ ان لوگوں کی بیداری کا سبب بن جائے جو ایک عرصے سے مست و بے ہوش پڑے ہیں

Aik Arzoo by Allama Iqbal in Roman urdu

Dunya ki mehfilon se ukta gaya hun ya Rab
Kya kutf anjuman ka jab dil hi bujh gaya ho

Shourish se bhagta hun dil dhoondta hai mera
Aesa sukoot jis par taqreer bhi fida ho

Merta ho khamashi par ye arzoo hai meri
Daman main koh k ek chota sa jhonpara ho

Azad fikr se hon uzlat main din guzaron
Dunya ke gham ka dil se kanta nikl gaya ho

Lazzat surood ki ho chiryon ke chehchon mein
Chashme ki shourishon main baja sa baj raha ho

Gul ki kali chatak kar paigham de kisi ka
Saghar zara sa goya mujh ko jahan numa ho

Ho hath ka sarhana sabze ka ho bichona
Sharmaye jis se jalwat khalwat main wo ada hi

Manoos iss qadar ho soorat se meri bulbul
Nanhe se dil main uss ke khatka na kuch mera ho

Saf bandhe dono janib boote hare hare ho
Nadi ka saaf pani tasveer le raha ho

Ho dil faraib aesa kuhsar ka nazara
Pani bhi mouj ban kar uth uth ke dekhta ho

Aghosh main zameen ki soya huwa ho sabza
Phir phir k jhariyon main pani chamak raha ho

Pani ko chu rahi rahi ho jhuk jhuk ke gul ki tehni
Jaise haseen koi aeena dekhta ho

Mehndi lage suraj jab sham ki dulhan ko
Surkhi liye sunehri har phool ki qaba ho

Raton ko chalne wale reh jae thak ke jis dam
Umeed un ki mera toota howa diya ho

Bijli chamak ke un ko kutiya meri dikha de
Jab asman pe har so badal ghira huwa ho

Pichle pehr k hoeel wo subah ki mouzan
Mein us ka hamnawa ho wo meri humnawa ho

Kanon pe ho na mere dair o haram ka ehsan
Rozan hi jhonpari ka mujhe ko sahr nuam ho

Phoolon ko ayi jis dam shabnam wazo karne
Rona mera wazo ho nala meri dua ho

Iss khamashi main jae itna buland naale
Taron ke qafle ko meri sada dra ho

Har dardmand dil ko rona mera rula de
Behosh jo pare hain shaid inhain jaga de

A longing in english


O lord I have become weary of human assemblages
When the heart is sad no pleasure in assemblages can be

I seek escape from tumult my heart desires
The silence which speech may ardently love

I vehemently desire silence I strongly long that
A small hut in the mountain’s side may there be

Freed from worry I may live in retirement
Freed from the cares of the world I may be

Bird’s chirping may give the pleasure of the lyre
In the spring’s noise may the orchestra’s melody be

The flower bud bursting may give God’s message to me
Showing the whole world to me this small wine cup may be

My arm may be my pillow and the green grass my bed be
Putting the congregation to shame my solitude’s quality be

The nightingale be so familiar with my face that
Her little heart harboring no fear from me may be

Avenues of green trees standing on both sides be
The spring’s clear water providing a beautiful picture be

The view of the mountain range may be so beautiful
To see it the waves sofa water again and again rising be

The verdure may be asleep in the lap of the earth
Water running through the bushes may glistening be

Again and again the flowered boughs touching the water be
As if some beauty looking at itself in mirror be

When the sun apply myrtle to the evening bride
The tunic of every flower may pinkish golden be

When night’s travelers falter behind with fatigue
Their only hope may broken earthenware lamp may be

May the lightning lead them to my hut
When clouds hovering over the whole sky be

The early dawn’ cuckoo that morning mu adhadhin
May my confidante he be and my his confidante I be

May I not be obligated to the temple or to the mosque
May the huts hole alone herald of morning’s arrival be

When the dew may come to perform the flower’s ablution
May wailing my supplication weeping may ablution be


In this silence may my heart’s wailing rise so high
That for star’s caravan the clarion’s call my wailing be

My every compassionate heart weeping with me be
Perhaps it may awaken those who may unconscious be

Full Book with Translation BANG-E-DRA

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.