Dil of Allama Iqbal | The Heart | Baang-e-Dara: 30

Dil of Allama Iqbal

Dil of Allama Iqbal with Urdu Tashreeh

معانی: قصہ دار و رسن: سولی اور رسی کی داستان، مراد حضرت حسین بن منصور حلاج کو انا الحق کہنے پر پھانسی دیے جانے کا واقعہ ۔ بازیَ طفلانہ: بچوں کا کھیل، مراد بہت آسان کام ۔ اَرِنی: مجھے اپنا جلوہ دکھا، حضرت موسیٰ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ سرخی: مضمون کا عنوان ۔
مطلب: اقبال اس نظم کے دل کے محاسن و خصاءص بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے لیے اپنی جان پر کھیل جانا بے شک ناممکنات سے ہے ۔ لیکن جو اہل دل ہیں یعنی عشاق ان کے لیے یہ عمل بچوں کے کھیل سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ۔ دل کی ماہیت کیا ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بس اتنا ہی ہے کہ خدائے عزوجل کا جلوہ دیکھنے کی خواہش اس داستان کا عنوان بنتا ہے ۔
معانی: جادہ: راستہ ۔ ملکِ بقا: ہمیشہ باقی رہنے والی سلطنت ۔ خط پیمانہَ دل: مراد دل کی رگیں جن میں خون دوڑتا ہے ۔
مطلب: اور ایسا دل جو عشق کی شراب سے لبریز ہو سوچیے تو سہی اس کی قیمت کیا ہو گی کہ یہ تو انسان کے لیے بقائے دوام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مراد یہ کہ انسان اگر دل کو اپنا رہبر بنا لے تو جذبہ عشق اسے بقائے دوام عطا کر دیتا ہے
معانی: ابرِ رحمت: مہربانی کی بارش کرنے والا بادل ۔ مزرعِ ہستی: زندگی، وجود کی کھیتی ۔
مطلب: دراصل اقبال کے نزدیک عشق ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل سے ہے ۔ نہ جانے یہ ابر رحمت تھا یا عشق کی بجلی کہ آخر الذکر کا کام جلانا اور فنا کر دینا ہے جب کہ ابر رحمت تو تخلیق کی علامت ہے ۔ اس شعر میں کہا گیا ہے کہ عشق کے جذبے نے تو زندگی کو فنا کر کے رکھ دیا تھا پھر یہی جذبہ ابر رحمت کی صورت میں ظاہر ہوا اور یوں دل کی تخلیق وجود میں آئی
معانی: گنجِ گراں مایہ: بہت قیمتی خزانہ ۔ فرہاد: شیریں کا عاشق ۔
مطلب: اقبال نے یہاں فرہاد سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ اگر تو دل کی گہرائیوں میں اترنے کی صلاحیت رکھتا تو اپنے عشق میں یقیناً کامیاب ہو جاتا پھر تجھے مشروط بنیاد پر جوئے شیر لانے کے لیے پہاڑ کو کھودنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی
معانی: عرش: تخت، مراد آسمان سے بھی اوپر نور کی دنیا ۔ دھوکا: شک ۔ کاشانہ: گھر، آشیانہ، محل ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال عالم حیرت میں کہتے ہیں کہ کبھی تو دل پر عرش کا دھوکا ہوتا ہے اور کبھی یہ کعبہ کے مانند لگتا ہے ۔ دوسرے مصرع میں وہ رب ذوالجلال سے استفسار کرتے ہیں کہ تو ہی مجھ پر یہ راز ظاہر کر دے کہ میرا دل آخر کس فرد کی آماجگاہ ہے اس شعر سے باسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شاعر نے یہ اشارہ ذات خداوندی کی جانب کیا ہے کہ وہی انسان کے دل میں مقیم ہوتا ہے
معانی: سودا: دیوانگی، عشق کی مستی ۔ دیوانہ: مراد عاشق ۔
مطلب: اقبال کے اس شعر میں تغزل پوری انتہا پر پہنچا ہوا ہے ۔ فرماتے ہیں دل اور میں عملی سطح پر دونوں ہی مجنون اور سودائی ہیں تا ہم فرق اتنا ہی ہے کہ یہ دل تو کسی اور کا دیوانہ ہے جب کہ میں دل پر فریفتہ ہوں ۔ مقصد یہ ہے کہ میرا دل کائنات کو پیدا کرنے والے کے عشق میں سرشار ہے لہذا اس پر میرا فدا ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ عشق کا یہ تعلق با الواسطہ ہے
معانی: رشک صد سجدہ: سیکڑوں سجدوں سے بھی بڑھ کر ۔ لغزشِ مستانہ: عشق کی مستی میں گر گر کر اٹھنا ۔
مطلب: وہ کہ جسے زہد کا دعویٰ ہے وہ اس حقیقت کا ادراک کیسے کر سکے گا ۔ عشق کی ایک لغزش عملی سطح پر سینکڑوں سجدوں سے افضل و اعلیٰ ہے ۔
معانی: خاک کا ڈھیر: معمولی شے، مراد انسان ۔ اکسیر: مراد اعلیٰ مرتبہ والی، والا ۔ خاکسترِ پروانہ: جلے ہوئے پتنگے کی راکھ ۔
مطلب: عشق میں جلنے والے دل کی راکھ تو ایک ایسی اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے جو مٹی کے ڈھیر پر ڈال دی جائے تو اس کو بھی سونا بنا دے ۔ مراد یہ کہ عشق میں کیفیت ہے جو انسان کو بلند مدارج بخشتی ہے
معانی: برق: آسمانی بجلی ۔ نخل: درخت ۔ ہرا ہونا: سرسبز ہونا، پھلنا پھولنا ۔
مطلب: عشق کے دام میں جو پھنس جاتا ہے اس کے باوجود وہ خود کو آزاد سمجھتا ہے ۔ اور اگر اسے ایک پودا تصور کر لیا جائے اور اس پر بجلی گر جائے تو دل خاک ہونے کی بجائے سرسبز ہو جاتا ہے

Dil in Roman Urdu

Qissa-e-Dar-o-Rasan Bazi-e-Tiflana-e-Dil
Iltijaye ‘Arini’ Surkhi-e-Afsana Dil

Ya Rab Iss Saghir-e-Labraiz Ki Mai Kya Ho Gi
Jadah-e-Mulk-e-Baqa Hai Khat-e-Pemane-e-Dil

Abar-e-Rehmat Tha Ke Thi Ishq Ki Bijli Ta Rab!
Jal Gyi Mazraa-e-Hasti To Uga Dana-e-Dil

Husn Ka Janj-e-Giran Maya Tujhe Mil Jata
Tu Ne Farhad! Na Khoda Kabhi Weera-e-Dil

Arsh Ka Hai Kabhi Kaabe Ka Hai Dhoka Iss Par
Kis Ki Manzil Hai Elahi! Mera Kashana-e-Dil

Iss Ka Apna Hai Junoon Aur Mujhe Souda Apna
Dil Kisi Aur Ka Diwana, Mein Diwana-e-Dil

Tu Samajta Nahin Ae Zahid-e-Nadan Iss Ko
Rashk-e-Sad Sajda Hai Ek Laghzish-e-Mastana-e-Dil

Khak Ke Dhair Ko Ikseer Bana Deti Hai
Woh Asar Rakhti Hai Khakstar-e-Parwana-e-Dil

Ishq Ke Daam Mein Phans Kar Ye Riha Hota Hai
Barq Girti Hai To Ye Nakhl Hara Hota Hai

The Heart in English

Tales of gallows and crucifixion are mere child’s play for the Heart
The request of Arini is only the title of the story of the Heart

O Lord! How powerful the full cup of that wine would be?
The Way to eternity is each single line on the measuring cup of the Heart

O Lord! Was it the cloud of mercy or the thunderbolt of Love
When the life’s crop got burned down, sprouted the seed of the Heart

You would have got the Beauty’s bountiful treasure
O Farhad! You never dug into the ruins of the Heart

Now it looks like the ‘Arsh‘, now like the Ka’bah
O God! Whose lodging is the abode of my Heart

It has its own junun and I have my own sawda (passion)
The Heart loves someone else and I love the Heart

You do not comprehend this, O simple hearted ascetic!
Envy of a thousand prostrations is one slip of the Heart

It changes the heap of earth into elixir
Such is the power of the ashes of the Heart

It gains freedom after being caught in the net of Love
On being thunder‐struck greens up the tree of the Heart.

Full Book with Translation BANG-E-DRA

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *