Qoum Goya Jism Hai | Shayar | The Poet | Baang-e-Dara: 29
Qoum Goya Jism Hai
شاعر
قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
معانی: گویا: جیسے ۔ اعضا: جمع عضو، جسم کے حصے ۔ منزل صنعت: کاریگری، دستکاری کا ٹھکانا ۔ رہ پیما: راستہ طے کرنےوالے ۔ دست و پائے قوم: مراد ایسے لوگ ، افراد جو جماعتی کام انجام دینے والے ہیں ۔
مطلب: اس نظم میں اقبال نے انتہائی جاندار الفاظ میں شاعر کی اہمیت کا ذکر کیا ہے ۔ ان کے مطابق قوم کو اگر ایک جسم تصور کر لیا جائے تو افراد کو اس کے اعضاء سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ ان افراد میں جو لوگ صنعت و حرفت کے پیشے سے تعلق رکھتے ہیں وہ عملاً قوم کے دست و بازو کی حیثیت کی حامل ہیں ۔
محفلِ نظم حکومت، چہرہَ زیبائے قوم
شاعرِ رنگیں نوا ہے دیدہَ بینائے قوم
معانی: محفلِ نظم حکومت: حکومت کے انتظامی امور چلانے والے ۔ چہرہ زیبا: خوبصورت چہرہ ۔ رنگیں نوا: مراد دل پر اچھا اثر کرنے والے شعر کہنے والا ۔ دیدہَ بینا بصیرت والی نگاہ ۔
مطلب: اس کے علاوہ جو لوگ نظم و نسق کے ذمہ دار ہوتے ہوئے نظام حکومت چلاتے ہیں وہ قوم کے چہرے پر حسن و خوبصورتی کے مظہر ہوتے ہیں ۔ مراد یہ کہ جس طرح کسی شخص کی خوبصورتی کا اندازہ اس کے چہرے کو دیکھ کر ہوتا ہے اسی طرح کسی قوم کی خوبیوں کو برسر اقتدار طبقے کی صلاحیت اور کردار سے پرکھا جا سکتا ہے ۔ تاہم شاعر کی حیثیت ان سب سے بلند ہے کہ وہ قوم کے لیے دیدہَ بینا کی طرح ہے ۔
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
معانی: مبتلائے درد: تکلیف میں گرفتار ۔ ہمدرد: دوسروں کی تکلیف کا احساس رکھنے والی ۔ کس قدر: مراد بہت زیادہ ۔
مطلب: مشاہدے اور تجربے کے مطابق یہ بات بڑے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جسم کے کسی حصے کو بھی تکلیف پہنچے تو اس کا اظہار آنکھ سے ہی ہوتا ہے ۔ مراد یہ کہ اس تکلیف کے سبب آنکھ میں ہی آنسو آ جاتے ہیں ۔ اس امر سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ آنکھ جسم کی کس قدر ہمدرد ہوتی ہے مطلب یہ کہ شاعر کو اگر قوم کی آنکھ تسلیم کر لیا جائے تو پوری قوم کو اسے غم گسار بھی ماننا پڑے گا ۔
Shayar in Roman Urdu
Qoum Goya Jism Hai, Afrad Hain Azaaye Qoum
Manzil-e-Sanaat Ke Rah Pema Hain Dast-O-Paye Qoum
Mehfil-e-Nazam-e-Hukumat, Chehra-e-Zaibaye Qoum
Shayar-e-Rangee Nawa Hai Dida-e-Beenaye Qoum
Mubtalaye Dard Koi Uzoo Ho, Roti Hai Ankh
Kis Qadar Hamdard Sare Jism Ki Hoti Hai Ankh
The Poet in English
A nation is like a body, and the individuals in it the body’s limbs:
Those who walk the road of industry are its hands and feet,
The office of government is its beautiful face,
And the poet of tuneful melodies is its seeing eye.
If just one limb should suffer pain, Tears will drop from the eye–
How anxious the eye is for the whole body!
Full Book with Translation BANG-E-DRA