Ik Makra aur Makhi | Bang e Dra – 006

WhatsApp Channel Join Now

 

Ik Makra aur Makhi


ایک مکڑا اور مکھی
(ماخوز)


اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا
معانی: مکڑا: جالا بن کر رہنے والا کیڑا ۔
مطلب: ایک مکڑا کسی مکھی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تم ہر روز ادھر سے گزرتی ہو ۔


لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا
معانی: کُٹیا: جھونپڑی ۔ قسمت جاگنا: اچھے دن آنا ۔
مطلب: لیکن میری جھونپڑی کی قسمت میں تمہارا بھولے سے بھی آنا نہیں ہوتا اور تم نے میرے غریب خانے میں قدم رکھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی ۔


غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
معانی: غیر: اجنبی، ناواقف ۔ کھنچ کے رہنا: دور دور رہنا ۔
مطلب: یہ درست ہے کہ اگر غیروں سے نہ ملا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اپنوں کے ساتھ اس طرح کی لاتعلقی مناسب معلوم نہیں ہوتی ۔


آوَ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری
وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
معانی: منظور ہونا: پسند آنا ۔
مطلب: اگر تم میرے گھر آوَ تو میری عزت افزائی ہو گی ۔ میری یہ دعوت منظور کر لو تو سامنے جو سیڑھی ہے اس سے آ جاوَ ۔


مکھی نے سُنی بات جو مکڑے کی تو بولی
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
معانی: ناداں : بے سمجھ، کم عقل ۔
مطلب: مکھی نے مکڑے کی بات کو بغور سنا پھر گویا ہوئی کہ حضرت! یہ دھوکا کسی احمق کو دیجیے گا ۔


اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے
جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا، پھر نہیں اترا
معانی: جال میں آنا: دھوکے میں آنا ۔ نہیں اترا: مراد نہیں بچا ۔
مطلب: اس لیے کہ میں تو اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہوں کہ جو آپ کی سیڑھی پر چڑھا پھر واپس نہیں آیا ۔


مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
معانی: فریبی: دھوکا دینے والا ۔
مطلب: اس مرحلے پر مکڑے نے بڑی سختی کے ساتھ مکھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ تم مجھے دھوکے باز سمجھ کر نادانی کا ثبوت دے رہی ہو ۔


منظور تمہاری مجھے خاطر تھی وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
معانی: خاطر: دعوت ۔
مطلب: میں نے جو تمہیں یہاں آنے کی دعوت دی تو محض تمہاری خاطر داری منظور تھی جب کہ اس میں میرا کوئی فائدہ نہ تھا ۔


اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں بُرا کیا

مطلب: تم جانے کتنی دور دراز سے اڑتی آ رہی ہو ۔ اس میں برائی کیا ہے کہ چند لمحوں کے لیے یہاں رک کر سانس لے لو ۔


اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں
باہر سے نظر آتا ہے، چھوٹی سی یہ کٹیا
مطلب: ہر چند کہ میرا گھر باہر سے بالکل معمولی نظر آتا ہے لیکن اس میں کئی ایسی نادر اشیا موجود ہیں جنہیں دیکھ کر تم خوش ہو جاوَ گی ۔


لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے
دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا
مطلب: اندر جو دروازے موجود ہیں ان پر میں نے خوش رنگ پردے لٹکائے ہوئے ہیں ۔ اور جو دیواریں ہیں ان پر شیشے جڑے ہوئے ہیں ۔


مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے
ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
معانی: میسر ہونا: حاصل ہونا ۔
مطلب: یہی نہیں بلکہ مہمانوں کے آرام کے لیے بستر بھی حاضر ہیں ۔ تم جانتی ہو کہ ہر شخص کو ایسی آسائشیں میسر نہیں ہوتیں ۔


مکھی نے کہا خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکن
میں آپ کے گھر آوَں ، یہ امید نہ رکھنا
مطلب: مکھی نے جواباً کہا کہ بے شک تمہاری بات درست ہو گی ۔ پھر بھی میں نہ آوَں اس کی امید بھی نہ رکھنا ۔


ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
مطلب: میں اچھی طرح اس حقیقت سے واقف ہوں کہ ان بستروں پر اگر کوئی بدقسمت سو جائے تو پھر قیامت تک نہیں اٹھ سکتا ۔ لہذا مجھ سے توقع نہ رکھنا کہ سب کچھ جانتے بوجھتے تمہارے گھر آ جاؤں گی ۔


مکڑے نے کہا دل میں ، سنی بات جو اس کی
پھانسوں اسے کس طرح، یہ کمبخت ہے دانا
معانی: دانا: عقل سمجھ والی ۔
مطلب: مکھی کا جواب سن کر مکڑا حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ کم بخت تو بڑی ہوشیار نکلی ۔ چنانچہ سوچنے لگا کہ اس کو پھانسنے کے لیے کونسا حربہ آزمایا جائے ۔


سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں ، خوشامد کا ہے بندا
مطلب: غور و فکر کرنے کے بعد مکڑے نے سوچا دنیا میں جو کام خوشامد سے نکل سکتا ہے وہ کسی اور طرح نکلنا مشکل ہے لہذا اس دنیا میں اکثر خوشامد کے بندے ہیں ۔


یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
معا نی: رتبا: شان، عزت ۔
مطلب: پھر چند لمحوں تک خاموش رہ کر یوں گویا ہوا کہ بی بی بے شک اللہ نے آ پ کو بڑا مرتبہ عطا کیا ہے ۔ جو کوئی نظر بھر کر دیکھ لیتا ہے آپ سے محبت کرنے لگ جاتا ہے ۔


ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
مطلب: جو کوئی نظر بھر کر دیکھ لیتا ہے آپ سے محبت کرنے لگ جاتا ہے ۔

آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
مطلب: آپ کی آنکھوں میں ہیرے کی سی چمک ہے اور سر پر اللہ نے کلغی سجائی ہوئی ہے ۔


یہ حُسن ، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
معانی: پوشاک: لباس ۔
مطلب: آپ کی خوبصورتی، لباس اور نفاست میں کسی کو شک ہو سکتا ہے اور جب پرواز کے دوران آپ نغمہ سرا ہوتی ہیں تو قیامت کا سماں بندھ جاتا ہے ۔


مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی
بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
مطلب: مکھی نے مکڑے کی جب یہ خوشامدانہ باتیں سنیں تو پسیج گئی اور کہنے لگی مجھے آپ سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔


انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں بُرا میں
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا
مطلب: اگر کوئی اس طرح کی دعوت دے تو میں انکار کو خود برا سمجھتی ہوں ۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کسی کا دل توڑنا اچھا فعل نہیں ہوتا ۔


یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اُچھل کر اسے پکڑا
مطلب: یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اڑ کر جیسے ہی مکڑے کے پاس پہنچی تو اچھل کر مکھی کو دبوچ لیا ۔


بھوکا تھا کئی روز سے، اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
مطلب: یوں بھی وہ کئی روز سے بھوکا تھا چنانچہ کسی توقف کے بغیر مکھی کو ہڑپ کر گیا ۔

Ik Makra aur Makhi (Bachon k liye) Roman Urdu

Ek din kisi makhi se ye kehne laga makra
Is rah sa hota hai guzar roz tumhara

Lekin meri kutiya kin a jagi kahi kismet
Bhool se kabhi tum ne yahan paun na rakha

Ghairon se na miliye to koi bat nahi hai
Apno se magar chahiya yu khinch ken a rehna

Ao jo mere ghr mein to izzat hai ye mari
Wo samne seerhi hai jo manzoor ho ana

Makhi ne suni bat jo makre ki to boli
Hazrat ‘ kisi nadan ko diyiye giyiye ga ye dhoka

Iss jaal mein makhi kabhi ane ki nahi hai
Jo ap ki seerhi pe charha, phe nhi utra

Makre ne kaha wah farebi mujhay samjhe
Tum sa koi nadan zamane mein na ho ga

Manzoor tumhari mujh khatir thi wagarna
Kuch faida apna to mera iss mein nahi tha

Urti howi ayi ho kuda jane kahan se
Thehro jo mere ghar mein to hai iss mein bura kya

Is ghr mein khai tum ko dikhane ki hain cheezain
Bahir se nazar ata hain choti se ye kutiya

Latke howay darwazon pe bareek hain parde
Diwaron ko aeyno se hai mein ne sajaya

Mehmanon kea ram ko hazir hain bichone
Her shaks ko saman ye mayaser nahi hota

Makhi ne kaha khair ye sab thek hai lakin
Mein ap keg hr aum ye umeed na rakhna

In naram bichonon se khuda mujh ko bachaye
So jaye koi in pe to phir uth nahi sakta

Makre ne kaha dil mein suni baat jo us ski
Phansun issay kis taraha ye kambakhat hai dana

So kaam khushamad se nikalte hain jahan mein
Dekho jise duniya mein khushamad ka hai banda

Ye soch ke makhi se kaha uss ne bari bee
Allah ne bakhsha hai bara ap ko rutba

Hoti hai usay ap ki soorat se mohhabat
Ho jis ne kabhi nazar ap ko dekha

Aankhain hain ke heeray ki chamakti huwi kaniyan
Ser ap ka allah ne kalgi se sajaya


Ye husan ye poshak, ye khubi, ye safai
Phir iss pe Qayamat hai ye urte huay gana

Makhi ne suni jab ye khushamad to pasiji
Boli ke nahi ap se mujh ko koi khatka

Inkar ki Aadat ko samajhti ho bura mein
Sach ye hai k dil torna acha nahi nhi hota

Ye baat kahi aur uri apni jagha se
Pass ayi to makre ne uchal ker ussy pakra

Bhooka tha k roz se ab hath jo ayi
Aram se ghar baith ke makhi ko uraya

A Spider and a Fly ( Adopted for Children) in English

One day a spider said to a fly
Though you pass this way daily

My hut has never been honored by you
By making a chance visit inside by you

Though depriving strangers of a visit does not matter
Evading the near and dear ones does not look good

My house will be honored by a visit by you
A ladder is before you if you decide to step in

Hearing this the fly said to the spider,
Sire you should entice some simpleton thus

The fly would never be pulled into your net
Whoever climbed your net could never step down

The spider said, how strange, you consider me a cheat
I have never seen a simpleton like you in the world

I only wanted to entertain you
I had no personal gain in view

You have come flying from some unknown distant place
Resting for a while in my house would not harm you

Many things in this house are worth your seeing
Though apparently a humble hut you are seeing

Dainty drapes are hanging from the doors
And I have decorated the walls with mirrors

Beddings are available for guests’ comforts
Not to everyone lot do fall these comforts

The fly said all this may very well be
But do not expect me to enter your house

May God protect me from these soft beds
Once asleep in them getting up again is impossible

The spider spoke to itself on hearing this talk
How to trap it? This wretched fellow is clever

Many desires are fulfilled with flattery in the world
All in the world are enslaved with flattery

Thinking this the spider spoke to the fly thus
Madam God has bestowed great honors on you

Everyone loves your beautiful face
Even if someone sees you for the first time

Your eyes look like clusters of glittering diamonds
God has adorned your beautiful head with a plume

This beauty, this dress this elegance this neatness
And all this is very much enhanced by singing in flight’

The fly was touched by this flattery
And spoke’ I do not fear you any more

I hate the habit of declining requests
Disappointing somebody is bad indeed’

Saying this it flew from its place
When it got close the spider snapped it

The spider had been starving for many days
The fly provided a good leisurely meal

Full Book with Translation BANG-E-DRA

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.