Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan | Farewell O World’s Congregation | Bang-e-Dra-032

Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan

Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan urdu Tashreeh

پہلا شعر کی تشریح معانی: ایمرسن: مشہور امریکی شاعر، فلسفی، مقالہ نگار ۔ بزمِ جہاں : دنیا کی محفل ۔ سوئے وطن: وطن کی طرف ۔ آباد ویرانہ: یہ دنیا جو میں آباد ہے لیکن شاعر کا ہم خیال کوئی نہیں ۔ مطلب: جیسا کہ بتایا گیا ہے یہ نظم اقبال کی طبع زاد نہیں بلکہ ایمرسن کی ایک نظم سے ماخوذ ہے ۔ اس کے باوجود اکثر مقامات پر اس نظم میں علامہ کے فکر و نظریات کی جھلک موجو دیکھنےد ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا سے میرا دل اچاٹ ہو چکا ہے یہ دنیا تو ایک ایسی آبادی کی مانند ہے جو عملی سطح پر ایک ویرانے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میرا دل اس سے گھبرانے لگا ہے

دوسرا شعر کی تشریح معانی: بسکہ: بہت زیادہ ۔ درخورِ محفل: بزم یا دوسروں کے ساتھ مل بیٹھنے کے لائق ۔ مطلب: حقیقت یہ ہے کہ میں اتنا افسردہ دل ہو چکا ہوں کہ کسی طرح کی محفل آرائی کو پسند نہیں کر سکتا ۔ بس اے دنیا اب تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نہ ہی تو میرے قابل ہے اور نا ہی میں تیرے قابل ہوں

تیسرا شعر کی تشریح معانی: دربارِ سلطان: مراد حکمران، حکمرانوں کے دربار یا محل ۔ شبستان: رات گزارنے کی جگہ، مراد محل ۔ زنجیرِ طلائی: سونے کی زنجیر، مراد سرکاری ، درباری پابندی ۔ مطلب: یہ دنیا امیر و وزیر اور بادشاہوں کے درباروں میں گرفتار ہو کر رہ گئی ہے اور جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو ان زنجیروں کو توڑ کر آزاد فضا میں سانس لینے کا خواہاں ہوں

شعر کی تشریح چوتھا معانی: ہنگامہ آرائی: مراد دنیا کی رونق، چہل پہل ۔ اجنبیت: غیریت، ناواقف ہونے کی حالت ۔ شناسائی: واقفیت، اپنائیت ۔ مطلب: یہ تسلیم کہ تجھ میں جو زندگی اور رونق ہے وہ ہر شخص کے لیے بیشک کشش انگیز ہے ۔ اس کے برعکس میرے لیے تو تیرا وجود اجنبی کا حامل ہے پانچواں شعر کی تشریح معانی: خود آرا: مراد خود کو بڑا ظاہر کرنے والے ۔ ہم صحبت: پاس بیٹھنے اٹھنے والا ۔ موجِ بحر: سمندر کی لہر ۔ صورت: مانند ۔ مطلب: یہ درست ہے کہ ایک عرصے تک ان خود پسند اور متکبر لوگوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہوں جو تیرے دامن میں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہر ممکن برداشت کے باوجود ان کے مابین اس طرح سے مضطرب اور تڑپتا رہا جس طرح کہ سمندر کی بے چین موج مضطرب اور پریشان رہتی ہے ۔ مراد یہ کہ یہ ماحول سدا سے میرے لیے ناقابل برداشت ہی رہا

چھٹاشعر کی تشریح معانی: ہنگامہَ عشرت: مراد عیش و عشرت کی محفلیں ۔ ظلمت: تاریکی ۔ مطلب: بزم جہاں سے مخاطب ہوتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک مدت تک تیرے ہنگاموں میں شریک رہا ہوں لیکن یہ عرصہ ایک طرح سے بیکار ہی ضائع ہوا ۔ میں نے ہر چند کوشش کی کہ اس ظلمت کدے سے روشنی پالوں لیکن کچھ حاصل نہ کر سکا

ساتواں شعر کی تشریح معانی: ڈھونڈا کیا: تلاش کرتا رہا ۔ نظارہَ گل: پھول کو دیکھنے کی کیفیت ۔ خار: کانٹا ۔ یوسف: مراد محبوب، حسین ۔ ہاتھ نہ آنا: نہ ملنا، حاصل نہ ہونا ۔ مطلب: یہ میری راہ کے کانٹے تھے جن میں مدتوں پھول کے نظارے تلاش کرتا رہا لیکن تیرے بازار میں اس یوسف کو نہ پا سکا ۔ مراد یہ ہے کہ ہر ممکن سعی کے باوجود میں حصول مدعا میں ناکام رہا

آٹھواں شعر کی تشریح معانی: چشم حیراں : حیرانی میں ڈوبی ہوئی نگاہ ۔ طوفان کا مارا: مراد ٹھوکروں پر ٹھوکر کھا کر بھی مقصد حاصل نہ کر سکا ۔ مطلب: اب تو کیفیت یہ ہو چکی ہے کہ میری آنکھیں ایک اور نظارے کی متلاشی ہیں جو اس امر کی آرزومند ہیں کہ میں جو طوفان میں گھرا ہوا ہوں اس کی ساحل تک رسائی ہو جائے

دسواں شعر کی تشریح معانی: بو: خوشبو ۔ چمن: مراد دنیا ۔ مطلب: چنانچہ تیرے چمن کو اس طرح سے چھوڑ کر جا رہا ہوں جس طرح سے کہ پھول سے خوشبو رخصت ہوتی ہے ۔ اس صورت میں تجھ سے اے بزم جہاں رخصت ہو کر اپنے حقیقی وطن جا رہا ہوں

گیارہواں شعر کی تشریح معانی: دامن کہسار: پہاڑ کی وادی ۔ موسیقی گفتار: باتوں کی سر تال یعنی باتیں ۔ مطلب: نظم کے اس حصے میں اس دوسرے منظر کی نشاندہی کرتے ہیں جو بقول ان کے حقیقی وطن بننے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وطن میں رہنے کے لیے جو گھر بنایا ہے وہ دامن کہسار میں واقع ہے اور وہاں ایک ایسا سکوت ہے جس کے مقابلے میں آواز کی موسیقیت میں بھی لطف نہیں ہوتا

بارہواں شعر کی تشریح معانی: ہم نشیں : ساتھ بیٹھنے والا ۔ نرگسِ شہلا: ایک زرد یا سیاہ رنگ کا پھول جس کی شکل آنکھ سے ملتی جلتی ہے ۔ مطلب: یہاں مجھے نرگس اور گلاب کے پھولوں کی ہم نشینی اور رفاقت حاصل ہے ۔ یہاں کا گلستاں ہی میرا وطن ہے ۔ جہاں بلبل کے گھونسلے کی قربت میں میرا گھر واقع ہے تیرہواں شعر کی تشریح معانی: فرشِ سبز: مراد سبزہ ۔ کوئل: سیاہ رنگ کا خوش آواز پرندہ ۔ مطلب: اس خوبصورت ماحول میں چشموں کی مست آوازیں مجھے نیند سے ہم کنار کرتی ہیں اور صبحدم کوئل کی کوک میرے لیے بیداری کا پیغام دیتی ہے

چودہواں شعر کی تشریح معانی: محفل آرائی: باہم مل بیٹھنا ۔ کُنج تنہائی: ایسی الگ تھلگ جگہ جہاں کوئی اور نہ ہو ۔ مطلب: اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی زندگی میں خواص و عوام ہر لمحے محفل آرائی اور ہنگاموں کو پسند کرتے ہیں اس کے برعکس مجھ ایسے شاعر کو تو ایسا گوشہ مرغوب ہے جو ہر طرح سے پر سکون ہو

پندرہواں شعر کی تشریح مطلب: نظم کے اس حصے میں اقبال ایک بار پھر اپنی کیفیت اور اضطراب کا احوال بیان کرتے ہوئے یوں گویا ہوتے ہیں کہ میں تو شاید سودائی ہو گیا ہوں کہ آبادی سے گھبراہٹ ہونے لگی ہے ۔ بار بار خود ہی اس سوچ میں گم ہو رہا ہوں کہ وہ کون سی ہستی ہے جس کو دامن کوہ میں تلاش کرنے آ نکلا ہوں

سولہواں شعر کی تشریح معانی: شوق: عشق ۔ سبزہ زار: جہاں سبزہ بہت ہو ۔ مطلب: ایسا کس چیز کا شوق ہے جو مجھے ان سبزہ زاروں میں سرگرداں کیے ہوئے ہے اور جس کے سبب میں چشموں کے کناروں پر محو استراحت ہوتا ہوں س

ولہواں معانی: طعنہ زن: طعنے مارنے والا ۔ شیدا: محبت کرنے والا ۔ پیامی: پیغام لے جانے والا، قاصد ۔ مطلب: اے بزم جہاں ! تو مجھے یہ طعنہ دے رہی ہے کہ میں تنہائی کا عادی ہو گیا ہوں حالانکہ تجھے اس حقیقت کا علم ہی نہیں کہ میں تو فطرت اور اس کے مظاہر کو پیش کرنے والا ہوں

سترہواں معانی: ہم وطن: ایک ہی شہر ، ملک کے باشندے ۔ شمشاد: سرو کی طرح کا لمبا درخت ۔ قُمری: فاختہ ۔ ہم راز: ایک دوسرے کے بھید جاننے والے ۔ مطلب: میں تو صنوبر کے درخت کی قربت سے استفادہ کر رہا ہوں اور قمری کے رازوں سے بھی آگاہی رکھتا ہوں ۔ ہر چند کہ یہ چمن جہاں میں مقیم ہوں پر سکوت ہے لیکن اس کی خاموشی میں بھی کچھ ایسی آوازیں ہیں جن کو میں سننے کا اہل ہوں

اٹھارہواں مطلب: اور یہاں جو کچھ سنتا ہوں اس کو دوسروں تک بھی پہنچاتا ہوں ۔ مزید برآں جو کچھ دیکھتا ہوں وہ دوسروں کو دکھانے کی سعی بھی کرتا ہوں

بیسواں معانی: خندہ زن: ہنسی، مذاق اڑانے والا ۔ مسند: مراد تخت ۔ دارا: ایران کا قدیم بادشاہ جسے سکندر اعظم نے شکست دی تھی ۔ سکندر: سکندر اعظم ۔ مطلب: بے شک میں تنہائی کا عاشق ہوں لیکن میرا دل اپنے اسی گھر پر ناز کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے پر دارا اور سکندر جیسے شان و شوکت رکھنے والے بادشاہوں کے عشرت کدے میرے نزدیک انتہائی مضحکہ خیز ہیں

اکیسواں معانی: زیرِ شجر: درخت کے نیچے ۔ جادو کا اثر: مراد آدمی پر پر کیف حالت طاری کرنا ۔ رہ رہ کر: بار بار ۔ مطلب: جب کسی درخت کے زیر سایہ شب کو محو استراحت ہوتا ہوں اور اس عالم میں آسمان پر چمکتے ہوئے تاروں پر نظر پڑتی ہے تو مسحور ہو کر رہ جاتا ہوں

بائیسواں معانی:علم کا حیرت کدہ: مراد فلسفہ کا فلسفی کائنات پر حیران تو ہوتا ہے لیکن اس کے بھید اور حقیقت کو نہیں پا سکتا ۔ رازِ ہست و بود: مراد کائنات، موجودات کی حقیقت، بھید ۔ مطلب: مجھے تو پھول کی پتی سے ہی موت اور زندگی کے پوشیدہ اسرار کا انکشاف ہو جاتا ہے ۔ جب کہ علم و فلسفے میں میرے نزدیک یہ خصوصیت ناپید ہے

Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan in Roman Urdu

Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan
(Makhooz Az Emerson)

Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan! Sooye Watan Jata Hun Main
Ah! Iss Abad Weerane Mein Ghabrata Hun Main
Bas Ke Main Afsurda Dil Hun, Dar Khor-e-Mehfil Mehfil Nahin
Tu Mere Qabil Nahin Hai, Main Tere Qabil Nahin
Qaid Hai Darbar-e-Sultan-o-Shabistan-e-Wazir
Tor Kar Nikle Ga Zanjeer-e-Talai Ka Aseer
Go Bari Lazzat Teri Hangama Arayi Mein Hai
Ajnabiat Si Magar Teri Shanasai Mein Hai
Muddaton Tere Khud Araon Se Hum-Sohbat Raha
Muddaton Betaab Mouj-e-Behr Ki Soorat Raha
Muddaton Baitha Tere Hangama-e-Ishrat Mein Main
Roshani Ki Justujoo Karta Raha Zulmat Mein Main

Muddaton Dhoonda Kiya Nazara-Egul, Khar Mein
Ah, Woh Yousaf Na Hath Aya Tere Bazaar Mein
Chashm-e-Heeran Dhoondti Ab Aur Nazare Ko Hai
Arzu Sahil Ki Mujh Toofan Ke Mare Ko Hai
Chor Kar Manind-e-Bu Tera Chaman Jata Hun Main
Rukhsat Ae Bazm-e-Jahan! Sooye Watan Jata Hun Main
Ghar Banaya Hai Sukoot-e-Daman-e-Kuhsar Mein
Ah! Ye Lazzat Kahan Mausiqi-e-Guftar Mein
Hum-Nasheen-e-Nargis-e-Shehla, Rafeeq-e-Gul Hun Main
Hai Chaman Mera Watan, Humsaya-e-Bulbul Hun Main
Sham Ko Awaz Chashmon Ki Sulati Hai Mujhe
Subah Farsh-e-Sabz Se Ko’el Jagati Hai Mujhe
Bazm-e-Hasti Mein Hai Sub Ko Mehfil Arayi Pasand
Hai Dil-e-Shayar Ko Lekin Kunj Tanhai Pasand
Hai Junoon Mujh Ko Ke Ghabrata Hun Abadi Mein Main
Dhoondta Phirta Hun Kis Ko Koh Ki Wadi Mein Main?
Shauq Kis Ka Sabza Zaron Mein Phirata Hai Mujhe
Aur Chashmon Ke Kinaron Par Sulata Hai Mujhe?
Tanaa Zan Hai Tu Ke Saida Kunj Uzlat Ka Hun Main
Dekh Ae Ghafil! Pyami Bazm-e-Qudrat Ka Hun Main
Hum Watan Shamshad Ka, Qumri Ka Main Humraaz Hun
Iss Chaman Ki Khamashi Mein Gosh Bar-Awaz Hun
Kuch Jo Sunta Hun To Auron Ko Sunane Ke Liye
Dekhta Hun Kuch To Auron Ko Dikhane Ke Liye
Ashiq-e-Uzlat Hai Dil, Nazan Hun Apne Ghar Pe Main
Khanda-Zan Hun Masnad-e-Dara-o-Iskandar Pe Main
Laitna Zaire-Shajar Rakhta Hai Jadoo Ka Asar
Shaam Ke Tare Pe Jab Parti Ho Reh Reh Kar Nazar
Ilm Ke Hairat-Kade Mein Hai Kahan Iss Ki Namood!
Gul Ki Patti Mein Nazar Ata Hai Raaz-e-Hast-o-Bood

Farewell O Worldʹs Congregation in English

Farewell O Worldʹs Congregation!
(Adapted from Ralph Waldo Emerson)

Farewell O worldly companions! I am going to my homeland
I am feeling unhappy in this well‐populated wilderness

I am very much dejected, unsuitable for assemblies I am
Neither you are suitable for me nor suitable for you I am

The king’s audience and the minister’s bedchamber each is a prison
The golden chain’s prisoner will break himself free from this prison

Though much pleasure is in embellishing your assembly
But some kind of strangeness is in your acquaintance

I remained long in company of your self‐centered people
I remain restless for long like the waves of the ocean

I remained long in your luxury gatherings
I remained long searching for light in the darkness

I searched long for the rose’ sight among thorns
Ah! I have not found that Yusuf in your market place

The perplexed eye for another scene is searching
As storm‐stricken my eye for coast is searching

Leaving your garden like fragrance I am going
Farewell! O worldly company I am going to the homeland

I have made my home in the quietness of the mountain side
Ah! I do not get this pleasure in conversation’s music!

Associate of Nargis‐i‐Shahlah, and rose’s companion I am
The garden is my homeland, nightingale’s associate I am

The sound of the spring’s music lulls me to sleep
The morning cuckoo from the green carpet wakes me up

Everyone in the world assemblage social life likes
The poet’s heart but the solitude’s corner likes

I am verged on lunacy by being perturbed in habitations
For whom I am searching, roaming in the mountain valleys?

Whose love makes me roam in the meadows?
And makes me sleep on the spring’s banks?

You taunt me that fond of the corner of retirement I am
Look O imprudent one! Messenger of Nature’s assembly I am

Compatriot of the elms, turtle‐dove’s confidante I am!
In this garden’s silence in the state of anxiety I am!

If I do hear something it is only to tell others
If I do see something it is only to show others

My heart is a lover of retirement, proud of my home I am
Scoffing at the thrones of Dara and Sikandar I am

How enchanting is the act of lying under the trees
As now and then my sight falls at the evening star

Full Book with Translation BANG-E-DRA

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *