Zarb-e-Kaleem

Taqdeer | Zarb-e-Kaleem-016

Taqdeer

Taqdeer

Taqdeer in urdu Tashreeh

پہلا شعر کی تشریح
معانی: نا اہل: نالائق ۔ قوت و جبروت: قوت و عظمت ۔ جوہر ذاتی: ذاتی خوبی ۔
مطلب: عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ جو نالائق ہوتے ہیں اور ان میں کوئی ذاتی صلاحیت نہیں ہوتی وہ طاقت ، عظمت اور ہیبت کے مالک بن جاتے ہیں اور حکومت کے عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں ۔ اور اس کے برعکس یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ذاتی قابلیت رکھتے ہیں اور اللہ نے جنہیں ذاتی صلاحیتیں عطا کی ہوئی ہیں وہ زمانے میں ذلیل و خوار دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ تقدیر کے متعلق ایک عام نقطہ نظر ہے جو علامہ نے اس شعر میں پیش کیا ہے

 دوسرا شعر کی تشریح
معانی: منطق: نطق سے، یعنی دلیل سے سمجھائی گئی بات ۔ نہاں : پوشیدہ ۔ تقدیر: اللہ کا فیصلہ ۔
مطلب: نا اہل کے کامیاب اور اہل کے ناکام ہونے کے پیچھے شاید کوئی علم معقول یا دلیل کی بات پوشیدہ ہو لیکن میرے خیال میں تقدیر جو ہے وہ منطق کے زیر فرمان نظر نہیں آتی ۔ اس کا معاملہ ہی اور ہے

 تیسرا شعر کی تشریح
معانی: تاریخ امم: امتوں کی تاریخ ۔
مطلب: اقبال نے دوسرے شعر میں یہ بات بیان کی ہے کہ شاید اہل اور نا اہل کی تقدیر میں کوئی منطق چھپی ہوئی ہو ۔ لیکن اس تیسرے شعر میں کہتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے جو سب کو معلوم ہے اور یہ حقیقت قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ سے صاف ظاہر ہے ۔ جو قو میں عمل سے محروم ہوتی ہیں وہ ذلیل و خوار ہو جاتی ہیں یہ بات اقوام کی تاریخ سے بالکل عیاں ہے

شعر کی تشریح چوتھا
معانی: براّں : تیکھا ۔ کاٹنے والا ۔ تیغِ دو پیکر: دو دھاری تلوار ۔
مطلب: اقبال نے اس شعر میں تقدیر کا صحیح مفہوم بتاتے ہوئے کہا ہے کہ تقدیر ہر لمحہ قوموں کے اعمال پر نظر رکھتی ہے ۔ تقدیر دو دھاری تلوار کی مانند ہے جو اہل عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے اور بے عملوں کو ناکامی کا منہ دکھاتی ہے ۔ اقبال کے نزدیک تقدیر کا وہ مفہوم جو عوام کے ذہن میں ہے کہ نا اہل پھلتے پھولتے ہیں اور اہل خوار نظر آتے ہیں بالکل غلط ہے ۔ تقدیر بندوں کے اپنے اعمال کے نتیجے میں بنتی ہے

Taqdeer in urdu Roman

Na-Ahl Ko Hasil Hai Kabhi Quwwat-o-Jabroot
Hai Khwar Zamane Meinkabhi Johar-e-Zati

Shaid Koi Mantaq Ho Nihan Iss Ke Amal Mein
Taqdeer Nahin Tabe-e-Mantaq Nazar Ati

Haan, Aik Haqiqat Hai Ke Maloom Hai Sub Ko
Tareekh-e-Ummam Jis Ko Nahin Hum Se Chupati

Har Lehza Hai Qoumon Ke Amal Par Nazar Iss Ki
Burran Sift-e-Taeg-e-Do Paikar Nazar Iss Ki

Destiny In English

Oft men who donʹt deserve get might and main,
Anon a Personʹs gifts ungraced remain.

Perhaps some rules of Logic are concealed,
Mishaps that lie in wait are not revealed.

There is a fact that all of us can know,
World annals much light on this matter throw.

Fate keeps its eye on what the nations do,
Like two‐edged sword can riddle through and through.

Full Book Zarb-e-Kaleem 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *