IBLEES KI MAJLIS-E-SHURA ARMAGHAN-E-HIJAZ 01
IBLEES KI MAJLIS-E-SHURA
DR. ALLAMA MUHAMMAD IQBAL
BOOK: ARMAGHAN-E-HIJAZ 01
Armaghan-e-Hijaz 01, Iblees ki Majlis-e-Shoora (The Devils’s Conference)
is an urdu written by Muhammad Iqbal in 1936.
This poem is written as a meeting between Iblees (the first of the Devils, or satans in Islam) and five his advisers.
ابلیس کی مجلسِ شوریٰ
(شیطان کے مشورے کی پارلیمنٹ)
1936ء
ابلیس
یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں
تعارف: جس طرح موجودہ دور میں ملک پر حکومت کرنے کے لیے انتخابات یا کسی اور ذریعہ کو کام میں لا کر قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ بنائی جاتی ہے اوراس میں مختلف معاملات پر بحث کے بعد ان کے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں اسی انداز میں علامہ اقبال نے ایک خیالی اسمبلی تشکیل دی ہے ۔ جس میں حکمران پارٹی شیطان کا ٹولہ اورا س کا سربراہ شیطان خود ہے ۔ اس مجلس شوریٰ میں زیر بحث آنے والے معاملات و مسائل آج کے دور سے تعلق رکھتے ہیں جن پر شیطان کے ساتھ پانچ ارکان اظہار خیال کرتے ہیں اور آخر میں شیطان فیصلہ کن رائے دیتا ہے ۔
معانی: عناصر : عنصر کی جمع، مراد آگ، پانی ، مٹی ، ہوا وغیرہ کے مادی عنصر یا اجزا ۔ عناصر کا پرانا کھیل : مراد ہے کائنات جو مادی عناصر ، آگ، پانی، مٹی اور ہوا وغیرہ کی ترکیب خاص سے معرض وجود میں آئی ہے اور اسے وجود میں آئے ہوئے اتنا طویل عرصہ ہو گیا ہے جس کا اندازہ نہیں اس لیے یہ پرانی ہے ۔ دوں : کمینہ، رذیل ۔ دنیائے دوں : کمینی دنیا ۔ ساکنان: ساکن کی جمع، رہنے والے ۔ عرش: تخت ۔ عرش اعظم: بلند و بالا اور عظمت والے خدا کا تخت جو کہیں آسما نوں سے بھی آگے ہے ۔ یہ تخت کوئی مادی نہیں دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے انوار کا ایک جہان ہے جسے خدا کی عظمت اور حقیقی بادشاہت کی بنا پر تخت کا نام دیا گیا ہے ۔ تمنا: آرزو ۔ تمناؤں کا خون: آرزووَں کا برباد ہونا ۔ ابلیس: شیطان ۔
مطلب: شیطان اپنی مجلس شوریٰ میں سب سے پہلے تقریر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ دنیا ایک پرانا کھیل ہے جو آگ، پانی، مٹی، ہوا وغیرہ سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اسے کھیل اس لیے کہا ہے کہ جس طرح کھیل کی کوءی مستقل حیثیت نہیں ہوتی اسی طرح کاءنات کی بھی کوءی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ یہ کھیل اس لیے بھی ہے کہ جس طرح کھیل کے اسٹیج پر مختلف کردار اور منظر آتے ہیں اور پھر غاءب ہو جاتے ہیں اسی طرح دنیا کے اسٹیج پر بھی لوگ پیدا ہو کر آتے ہیں اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور مر کر چلے جاتے ہیں۔ شیطان بھی یہ کہتا ہے کہ یہ دنیا اپنی فطرت اور ذہنیت کے لحاظ سے کمینہ اور رذیل ہے۔ اس لیے یہ کسی سے وفا نہیں کرتی۔ شیطان نے دنیا کو آسمانوں سے آگے خدا تعالیٰ کے انوار کے جہان میں رہنے والے فرشتوں کی آرزوؤں کی بربادی کا سبب بھی کہا ہے ۔ اللہ نے آدم کو فرشتوں سے افضل بنا دیا ۔ اس تبدیلی کو شیطان فرشتوں کی آرزوؤں کا برباد ہونا کہتا ہے۔
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا جہانِ کاف و نون
معانی: کارساز: بگڑے ہوئے کام بنانے والا ۔ آمادہ ہے: راضی ہے، تلا ہوا ہے ۔ کاف و نوں : حرف کاف اور نون دونوں کو ملا کر لفظ کن بنتا ہے جس کی معنی ہیں ہو جا ۔ اللہ تعالیٰ نے کن کہا اور فیکون ہو گیا یعنی کائنات اور اس کی جملہ اشیاء اللہ کے لفظ کن کہنے سے عدم سے وجود میں آ گئیں ۔
مطلب: وہ بگڑے ہوئے کام بنانے والا خدا جس کے ایک لفظ کن کہنے سے کائنات عدم سے وجود میں آ گئی آج اس کی بربادی پر تلا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ دنیا کے وجود میں آنے کے کئی نظریے پیش کئے جاتے ہیں لیکن قرآن نے یہی بتایا ہے کہ پہلے عدم تھا ۔ خدا کے سوا جو کچھ بھی نہ تھا پھر خدا نے ارادہ کیا اور کن کہا سب کچھ ہو گیا ۔
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
معانی: فرنگی: انگیریز ۔ یورپ کا باشندہ ۔ ملوکیت: بادشاہت ۔ خواب دکھایا: حسین خیال دیا ۔ دیر: مندر، ہندووَں یا دیگر غیر مسلموں کی عبادت گاہ ۔ کلیسا: گرجا، عیسائیوں کی عبادت گاہ ۔ مسجد: مسلمانوں کی عبادت گاہ ۔ فسوں توڑا: جادو توڑا ۔
مطلب: شیطان کہتا ہے کہ میں نے اہل یورپ کو بادشاہت کا حسین خیال دیا اور اس طرح شخصی حکومت قائم کر کے عوام کو بے بس و بے کس بنا دینے کی فکر عطا کی ۔ میں نے صرف یہی نہیں کیا میں نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ان کی عبادت گاہوں سے نفرت دلا دی اور صدیوں سے ان مسجد ، دیر اور کلیسا کا جو اثر تھا اسے ختم کر دیا ۔ اس طرح یاتو ان کے مذہبی عقائد یا مسخ ہو کر رہ گئے یا مذہب ان کے دلوں سے بالکل رخصت ہو گیا ۔
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
معانی: سرمایہ دار: دولت مند ۔ نادار: غریب ۔ منعم: جس پر اللہ نے دولت کا انعام کیا ہے ۔ جنوں : سودا، ایسا جذبہ جس میں کسی خاص مقصد کے سوا کچھ نہ سوجھے ۔
مطلب: دنیا میں دو طبقات ہیں ۔ ایک طبقہ امیر ہے اور دوسرا غریب ۔ شیطان کہتا ہے کہ میں نے دولت مندوں کے ذہن و دل میں دولت کی ایسی محبت پیدا کر رکھی ہے کہ وہ ہر حیلے بہانے، جائز و ناجائز اور حرام و حلال ذریعے سے اسے اکٹھی کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ انہیں اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں اور ان کے مقابلے میں جو مفلس ہیں محنت مشقت سے روزی کماتے ہیں ان کی ذہن و دل میں میں نے یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ وہ تو پیدا ہی امیروں ، وڈیروں ، جاگیرداروں ، نوابوں ، بادشاہوں وغیرہ کی خدمت کرنے اور ان کے ہاتھوں اپنی آزادی اور عزت لٹانے کے لیے ہوئے ہیں وہ اسے تقدیر کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ان کی قسمت میں لکھا ہوا ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔
کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
معانی: آتش سوزاں : جلا دینے والی آگ ۔ ابلیس: شیطان خبیث ۔ ہنگامہ: شورش، زندگی کا کاروبار اور معاملات، زندگی کی فکر وعمل ، جدوجہد ۔ سوزدروں : اندر کی جلن، اندرونی حرارت ۔
مطلب: میں نے جس شخص میں ابلیسی نظام حیات اور شیطانی اقدار زندگی کو جلا دینے والی آگ جلا رکھی ہے ۔ اسے کوئی ٹھنڈا نہیں کر سکتا ۔ چونکہ اس کے معاملات، کاروبار حیات اور فکر و عمل میں یہ آگ میری اندرونی حرارت کی وجہ سے جل رہی ہے اس لیے کسی میں ہمت نہیں کہ اس کو بجھا سکے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آ ج کے دور کے انسان کا ہر قدم اسی حرارت کی وجہ سے اٹھ رہا ہے اور اس کا ہر فعل اسی تپش کی بنا پر سرزد ہو رہا ہے ۔ یہ بات میرے دعویٰ کے ثبوت کے لیے کافی ہے ۔
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں
معانی: آبیاری: پانی دینا ۔ نخل کہن: پرانا درخت ۔ سرنگوں نیچا ۔
مطلب: اس سے پہلے شعر میں شیطان نے کاروبار دنیا اور معاملات حیات میں اپنے عمل دخل کو آگ اور حرارت کی علامتوں سے واضح کیا تھا ۔ اس شعر میں اس عمل دخل کی وضاحت ایک درخت کی مثال دے کر کی ہے اور کہا ہے کہ شیطانی درخت تو آغاز کائنات ہی سے لگا ہوا ہے ۔ یہ بہت پرانا ہے اور اس کی نسبت حضرت آدم کو اللہ کے حکم سے انکار کرنے والے اور آدم کو سجدہ نہ کرنے والے دن سے ہے ۔ شیطان کہتا ہے کہ میں نے تو اسی روز سے خدا کی مخلوق کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے ۔ اس درخت کو جو جڑوں سے لے کر پھل تک شیطنت کا مزہ لیے ہوئے ہے میں اور میرے شتونگڑے برابر پانی دیتے رہتے ہیں اب یہ اتنا بلند و بالا اور شاخوں کے دور دور تک پھیلاوَ والا درخت بن چکا ہے کہ اس کو گرانے یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کسی میں ہمت نہیں
Ye Anasir ka purana khail, ye dunya-e-doon
Sakinan-e-arsh e azam ki tamanaon ka khoon
Uss ki bardadi pe ai amada hai who kaarsaaz
Jis ne uss ka naam rakha tha jahan e kaaf-o-noon
Main ne Dikhlaya farangi ko mulukiyat ka khwab
Main ne tora masjid o dair-o-kalisa ka fusoon
Mein ne nadaron ko sikhlya sabaq taqdeer ka
Mein ne munein ko diya sarmayadari ka junoon
kon kar sakata hain uss ki Aatish soozan ko sard
Jis ke hungamon mein ho Iblees ka souz e daroon
Jis ki shakhain hon humari aabiyari se buland
Kon kar sakta hai uss nakhle kukan ko ser nigoon
Phla Musheer
First Councilor
Iss mein kya shak hai ke mukam hai ye Ibleesi nizam
Pukhta tar iss se huwe khuay ghulami mein awam
Hai azal se in gharibon ke muqaddar mein sujood
In ki fitrat ka taqaza hai namaz e be qayam
Arzoo awwal to paida ho nhi sakti kahin
Ho kahin paida to mer jati hai ya rehti hai kam
*In their heart no desire can fact take its birth