Tasveer-o-Musawwar – Painting and the Painter (Amaghan-e-Hijaz – 03)

Tasveer-o-Musawwar

In the following Taweer o Musawwar (urdu: Tasveer-o-Musawwar)
(English : Painting  and the Painter ) a beauitful famous poem(Urdu) by 
Allama Muhammad Iqbal is presented to satisfy your taste of Urdu Poety 
 
Book : Amaghan-e-Hijaz – 03
 
Tasveer-o-Musawwar 

Painting  and the Painter

تصویر و مصور

تصویر

کہا تصویر نے تصویر گر سے
نمائش ہے مری تیرے ہنر سے
تعارف: یہ ایک تمثیلی نظم ہے جس میں تصویر اور مصور کے دو کردار علامتی اور استعاراتی انداز میں پیش کئے گئے ہیں ۔ تصویر سے مراد آدمی ہے اور مصور سے مراد خدا ہے ۔ کوئی تصویر بھی ازخود موجود نہیں ہوتی بلکہ مصور کے بنانے سے بنتی ہے ۔ آدمی کو بھی اس کے خالق خدا نے تخلیق کیا ہے یہ ازخود وجود میں نہیں آیا ۔
معانی: تصویر گر: تصویر بنانے والا، مصور ۔ نمائش: ظہور، وجود ۔ ہنر: فن، قوت تخلیق ۔
مطلب: تصویر(آدمی) نے اپنے بنانے والے مصور (خالق خدا) سے کہا میرا وجود تیرے فن تیری صفت تخلیق کی وجہ سے ہے ۔

ولیکن کس قدر نامنصفی ہے
کہ تو پوشیدہ ہو میری نظر سے
معانی: نامنصفی: بے انصافی ۔ پوشیدہ: چھپا ہوا ۔
مطلب: لیکن یہ کس قدر بے انصافی کی بات ہے کہ تو جس نے مجھے تخلیق کیا ہے میری نظر سے چھپا ہوا رہے ۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تو مجھ پر اپنا آپ ظاہر کر دے تاکہ میں تجھے دیکھ سکوں ۔

Tasveer
Kaha Tasveer ne Tasweer gar se
Numaish hai tere hunar
 
Wa lekin kis qaddar na munsafi hai
Ke tu poshida ho meri nazar se

مصور

گراں ہے چشم بینا دیدہ ور پر
جہاں بینی سے کیا گزری شرر پر
معانی: گراں : بھاری ۔ چشم بینا: دیکھنے والی آنکھ ۔ دیدہ ور: دیکھنے والا ۔ جہاں بینی: جہان کو دیکھنا ۔ شرر: چنگاری ۔
مطلب: مصور (خدا )نے جواب دیا ۔ دیکھنے والے کی آنکھ، دیکھنے والے پر بھاری ہوتی ہے ۔ تو نے دیکھا نہیں کہ چنگاری نے جہان کو دیکھنے کی خواہش کی تھی لیکن ہوا کیا وہ جونہی وہ آگ سے اوپر اٹھی فنا ہو گئی ۔ اس لیے اے انسان تیری یہ خواہش کہ تو مجھے دیکھے تجھ پر بھی بھاری ہو گی ۔ اور ایسا کرنے سے تو فنا ہو جائے گا ۔ مراد یہ ہے کہ خدا کہتا ہے کہ میرا دیکھنا اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تک تو خود کو نہیں پہنچانے گا ۔

نظر، درد و غم و سوز و تب و تاب
تو اے ناداں قناعت کر خبر پر
معانی: نظر: دیکھنا، دیدار ۔ تب و تاب: بے قراری، بے چینی ۔ سوز: جلن، تپش ۔ قناعت: صبر ۔ خبر: علم ۔ ناداں : بے وقوف ۔
مطلب: دیدار کی راہ بڑی کٹھن ہے اس میں طالب دیدار کو درد، غم ، تپش اور بے قراری سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تو صرف خبر پر صبر کر تو میرے متعلق اتنی بات تک اپنے آپ کو محدود رکھ جو پیغمبروں اور ان پر اتری ہوئی کتابوں کے ذریعے تجھے معلوم ہوئی ہے

Musawwar 
Garan hai chasm e bina didah wer par
Jahan beeni se kya guzri sharar par
 
Nazar dard o gham o souz o tab o taab
Tu ae nadan qana’at kar khabar par

تصویر

خبر، عقل و خرد کی ناتوانی
نظر دل کی حیاتِ جاودانی
معانی: خرد: عقل ۔ ناتوانی: کمزوری ۔ خبر: علم ہونا ۔ نظر: دیکھنا ۔ حیات جاودانی: ہمیشہ کی زندگی ۔
مطلب: خدا کی بات سن کر آدمی کہتا ہے کہ تیری محض خبر رکھنا یعنی صرف علم رکھنا کہ تو کہیں ہے عقل کی کمزوری کی دلیل ہے جب کہ تیرادیدار میرے دل کی ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہو گی ۔

نہیں ہے اس زمانے کی تگ و تاز
سزوارِ حدیثِ لن ترانی
معانی: اس زمانے: موجود دور، عہد حاضر ۔ تگ و تاز: دورڑ دھوپ ۔ سزاوار: لائق ۔ حدیث لن ترانی: تو مجھے نہیں دیکھ سکتا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا تھا ۔
مطلب: عہد حاضر دوڑ دھوپ کا زمانہ ہے نئی نئی ایجادات کا عہد ہے ۔ اس دور میں تیرا یہ کہنا کہ اے انسان تو مجھے نہیں دیکھ سکتا اس زمانے کے تقاضوں کے اور مطابق نہیں ہے تو ضرور مجھے اپنا دیدار کرا ۔

Tasveer
 
Khabar aqal o kirad ki natawani
Nazar dil ki hayat javeani 
 
Nahi hai is zamane ki taq o taaz
Sazawar e hadees e lan taram 

مصور

تو ہے میرے کمالاتِ ہنر سے
نہ ہو نومید اپنے نقش گر سے
معانی: کمالات ہنر: فن کا عروج، فن کی انتہا ۔ نومید: نا امید ۔ نقش گر: تصویر بنانے والے ۔ دیدار: دیکھنا ۔ پنہاں : پوشیدہ ۔
مطلب : آدمی کا جواب سن کر اور اس کی دیدار کی آرزو کی پختگی کو دیکھ کر مصور (خدا) کہتا ہے کہ میں نے اپنے ہنر اور فن تخلیق سے جتنے بھی نقش بنائے ہیں ان میں سب سے تصویر بنانے پر میں نے اپنے فن کی انتہا کر دی ہے ۔ تجھ سے بڑھ کر میں نے کوئی اور نقش کائنات میں تخلیق نہیں کیا میں نے تجھے اشرف المخلوقات بنایا ہے اس لیے تو اپنے بنانے والے سے یا اپنے خالق سے نا امید نہ ہو تو اسے ضرور دیکھ سکتا ہے ۔

مرے دیدار کی ہے اک یہی شرط
کہ تو پنہاں نہ ہو اپنی نظر سے
معانی: پنہاں : پوشیدہ ۔
مطلب: تو اپنے خالق سے نا امید نہ ہو تو اسے ضرور دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے لیے صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ تو اپنی نظر سے پوشیدہ نہ رہ ۔ مراد یہ ہے کہ پہلے اپنے آپ کو دیکھ اپنی حقیقت کو پہچان جب تو ایسا کر لے گا تو پھر تو مجھے دیکھ لے گا جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے خدا کو پہچان لیا کے مقولے کے تحت تجھے میرا دیدار میسر آ جائے گا ۔ لیکن ایسا عہد حاضر کی علمی ترقی کے ذریعے ممکن نہیں ہو گا اس کا طریقہ صرف اللہ کے کسی مرد کامل کی صحبت سے ہاتھ آئے گا ۔ اس کے طریقت اور معرفت کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا

Musawwar
 
Tu hai mara kamalat e hunar se
Na ho naumeed apne naqsh gar se
 
Mara didar ki hai ek yehi sharat 
Ke tu pinhan na ho apni nazar se
Painting English 
Said the portrait to its painter
My manifestation attests to thine unbounded skill
 
And yet what a violation of justice it is that
You should remain hid from my sight
 
 
The Painter
 
The vision endowed to those that observe find it oppressive
See for yourself how the spark burnt itself out when it saw the world
 
What aught is sight but sadness gloom feverishness and self torment
Rest or you ignorant upon report
 
Painting
 
What aught is report but the impotennce of ratiocination and wisdom
Vision is the eternal springtide of life
 
The hustle and the bustle of the present age does not prmit one
To express oneself melodiously
 
 
The Painter
 
The do exist because the perfection of my art
Don’t then feel cast out in disappointment with him that has draw 
 
I only put one condition if you wish to see me
Never disappear from thine own sight
people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.