Shikwa Jawab e Shikwa by Allam Iqbal Part – 1

WhatsApp Channel Join Now

Shikwa Jawab e Shikwa

شکوہ اور جواب شكوه

حوالہ کتاب بانگ درا – حصہ سوم – 105 اور 120

بانگ درا کا حصہ سوم 1908 کے بعد لکھا گیا

سامعین آج دونوں نظمیں آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔ ایک کا نام ہے شکوہ جبکہ دوسری کا نام ہے جواب شکوہ، دونوں نظمیں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی طویل نظموں میں سے انتہائی بہترین اور بلند پایہ نظمیں ہیں۔ اقبال نے نظم شکوہ میں بظاہر اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ہے

جسمیں مسلمانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے گلہ کیا ہے۔ لیکن دراصل اقبال اُن مسلمانوں سے مخاطب ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کی طرح آج بھی ہم دنیا پر چھائے ہوئے ہیں یا مستقبل میں بھی چھائے رہیں گے۔ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ پوری دنیا میں مسلمان رُسوائی کا شکار ہیں، ایک بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے نظم شکوہ 1911 میں انجمن حمائت اسلام کے جلسے میں پڑھی جسے بے انتہا پذیرائی ملی۔

ان دونوں نظموں کو لکھنے کا انداز یہ ہے کہ اگر ایک بند میں 3 اشعار ہیں تو 2 اشعار میں بات کی دلیل دے کر اسی بند کے تیسرے شعر میں اُس بات کو ختم کیا گیا ہے۔

-نظم شکوہ کے 31 بند ہیں – کل 93 اشعار ہیں

-اسی طرح نظم جواب شکوہ کے 36 بند ہیں       کل 108 اشعار ہیں

یعنی ایک بند میں 3 اشعار ہیں

مثال کے طور پر اگر نظم شکوہ کے بند نمبر 14 میں کوئی شکوہ کیا گیا ہے تو اُس شکوے کا جواب ضروری نہیں کہ نظم جواب شکوہ کے بند نمبر 14 میں ہی ہو۔ عین ممکن ہے کہ اسکا جواب کسی اور بند میں ملے گا۔ ویسے بھی شکوہ کے 31 بند ہیں جبکہ جواب شکوہ کے 36۔ اس لئے دونوں نظمیں ایک دوسرے سے الگ ترتیب رکھتی ہیں۔ نظم شکوہ کے بیشتر بند ایسے ہیں جنکا براہ راست جواب نظم جواب شکوہ میں موجود ہے

(شکوہ (پہلا بند کی تشریح 

کیوں زیاں کار بنوں ، سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں

معانی: شکوہ: گلہ ۔ زیاں کار: نقصان، گھاٹا اٹھانے والا ۔ سود فراموش: فائدہ بھلانے والا ۔ فردا: آنے والا کل ۔ محو: مصروف ۔ غمِ دوش: گزرے ہوئے کل، ماضی کا غم ۔
مطلب: اس نظم میں اقبال مکالمہ تو رب ذوالجلال سے کرتے ہیں لیکن ان کا لہجہ معمول سے بھی زیادہ تند و تیز ہے ۔ شکوہ ہی وہ نظم ہے جس کے حوالے سے اقبال پر کفر کے فتوے بھی عائد کیے گئے اور بیسویں صدی کے آغاز میں اس کی اشاعت پر بھی خاصی لے دے ہوئی ۔ یہاں تک کہ انہیں اپنے دفاع میں جواب شکوہ جیسی نظم لکھنا پڑی ۔ شکوہ فکری سطح پر ہی نہیں تکنیکی بنیاد پر بھی ایک بلند پایہ نظم ہے ۔ نظم کا آغاز خاصے تند و تیز لہجے میں کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ زندگی میں نقصان اٹھاؤں اور فوائد حاصل نہ کروں ۔ یہ بھی بے معنی بات ہے کہ عصر موجود کی فکر میں تو گھلتا رہوں اور مستقبل کی طرف دھیان نہ دوں

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش
ہم نوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

معانی: نالے: فریادیں ۔ ہمہ تن گوش: پوری طرح کان لگا کر سننے والا ۔ ہمنوا: مراد محفل کا ساتھی ۔
مطلب: کیا یہ مضحکہ خیز امر نہیں ہے کہ بلبلوں کی نالہ و فریاد تک ہی خود کو محدود رکھوں اور اس کے بجائے کسی دوسری جانب ہی خود کو متوجہ رکھوں

جراَت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

معانی: جرات آموز: دلیری سکھانے والی ۔ تابِ سخن: بات کرنے کی طاقت ۔ خاکم بدہن: میرے منہ میں خاک ۔
مطلب: رب ذوالجلال نے تو مجھے ایسی قوت گویائی عطا کی ہے جو بڑی جرات اور حوصلے کی حامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خاکم بدہن میں اب اپنے پالنے والے سے ہی شکوہ و شکایت کر رہا ہوں

Shikwa ka pehla band

Kyun ziyaan kaar banun, sood framosh rhon
Fikr e farda na karo mahw e ghum e dosh rahun

Naal e bulbul ke sunoon aur hama tan gosh raho
Humnawa main bhi koi gul hun k khamosh raho

Jurrat amoz miri taab e sakhum hain mujh ko
Shikwa Allah se khakam badahan hain mujh ko

Shikwa Stanza-1

Why should i choose the loser’s ? Forbear to seek what gain i may.
Nor think of what the morrow holds, but brood o ‘er woes of yesterday.

Why should my ears enraptured hear the plaintive notes of raho
Fellow bard ‘ a rose am i to lose me in sweet music’s swell? 

For i to have the gift of song which gives me courage to complain
But ah tis none but God  himself whom i in sorrow must arraign

(جواب شکوہ (پہلا بند کی تشریح 

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
مطلب: یہ تو ایک واضح حقیقت ہے کہ زیر تشریح نظم اقبال نے اپنی پہلی نظم شکوہ کے جواب میں کہی ۔ شکوہ میں اقبال نے جس بے تکلفانہ انداز میں رب جلیل سے مکالمہ کیا تھا اس وقت اس نظم کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا گیاتھا ۔ چنانچہ اس تاثر کو کسی حد تک زائل کرنے کے لیے جواب شکوہ لکھی ۔ اقبال نے اپنی نظم شکوہ کی اثر انگیزی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ جو بات انسان کے دل کی گہرائی سے نکلتی ہے وہ دور رس اثرات کی حامل ہوا کرتی ہے ۔

قدسیُ الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے، گردوں پہ گزر رکھتی ہے

معانی: قدسی الاصل: بنیادی طور پر پاک ۔ رفعت: بلندی ۔ گردوں : آسمان ۔
مطلب: خلوص دل سے کہی ہوئی بات وسائل نہ ہونے کے باوجود وسیع تر سطح پر تشہیر کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے کہ یہ سچائی ہمیشہ رفعت اور بلندی پر نظر رکھتی ہے ۔ بے شک یہ بات زمین پر کہی جائے تاہم اگر اس میں وزن ہے اور صداقت ہے تو اس کی رسائی آسمان تک ممکن ہوتی ہے ۔

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالہَ بے باک مرا

معانی: فتنہ گر: مراد شوخ ۔ آسماں چیر گیا: یعنی آسمان سے آگے عرش تک پہنچ گیا ۔ نالہَ بے باک: خوف سے خالی فریاد مراد شکوہ ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ شکوہ میں میرا عشق اور اس کا اظہار بے شک تند و تیز سہی تا ہم سچائی پر مبنی تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ میری فریاد نے آسمان اور اس کے باسیوں تک کو ہلا ڈالا ۔

Jawab Shikwa ka pehla band

Dil se jo bat nikalti hai asat rakhti hai
Par nahi taaqat e parwaaz magar rakhti hai

Qudsi ul asal hai riffat pe nazr rakhti hai
Khaak se uthti hai gardoon pe guzar rakhti hai

Ishq tha fitna gar o sarkash o chalaak mera
Asman cheer gaya nala e bebaak mera

Jawab Shikwa Stanza-1

When passion streaming from the turns human lips to lyres,
              Some magic wings man’s music then his song with soul inspires

Man’s words are sacred then they soar, the ears of heaven they seek
From dust those mortal accents rise, immortals hear them speak

so wild and wayward was my love, such tumult raised its sighs,
before its daring swiftly fell the ramparts of the skies.

(شکوہ  (دوسرا بند  


ہے بجا شیوہَ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصہَ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
معانی: بجا: صحیح، درست ۔ شیوہَ تسلیم: خدا کی رضا پر راضی ہونے کی عادت ۔
مطلب: یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ ہم پیغمبر اسلام کے پیروکار رضائے الہٰی کے مطابق زندگی گزارنے کے عمل میں خاصی شہرت رکھتے ہیں پھر بھی حالات نے اس قدر مجبور کر دیا ہے کہ اپنے درد کا قصہ بیان کرنا اب ناگزیر معلوم ہوتا ہے ۔


سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ ، تو معذور ہیں ہم
معانی: سازِ خاموش: باجا جو بظاہر بج نہ رہا ہو ۔ معمور: بھرا ہوا ۔ لب: ہونٹ۔
مطلب: بے شک ہماری ہستی ایک ساز خاموش کی مانند ہے کہ دل ہے کہ فریاد سے معمور ہے چنانچہ اس صورت میں نالہ و فریاد لبوں تک آ جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ تو ایک طرح سے ہماری مجبوری ہے ۔


اے خدا! شکوہِ ارباب وفا بھی سن لے
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
معانی: اربابِ وفا: وفا نبھانے والے لوگ ۔ خوگرِ حمد: تعریف کرنے کا عادی ۔
مطلب: چنانچہ اے رب ذوالجلال! ہم جو ہمیشہ تیری حمد و ثنا میں مصروف رہتے ہیں اب انہی وفادار لوگوں سے تھوڑا سا شکوہ بھی سن لے کہ ہم جو ہمیشہ سے تیری حمد و توصیف کے عادی رہے ہیں اب ان سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے ۔

Shikwa Band (2)

Peer e Gardoon ne kaha sun ke, kahin hai koi
Bole sayaare, sar e arsh e bareen hai koi

chaand kahta tha nhi ahl e zameen hai koi
Kehkashan kehti thi poshida yahin hai koi

Kuch jo samjha tu mere shikwa ko rizwan samjh
Mujhe janat se nikala howa insan samjha

Shikwa Stanza-2

 I grant that we have earned repute as ever reconciled to fate
But to you still a tale of pain I can no longer help narrate.

Though we may seem like voiceless Iyres, within imprisoned anguish cries
Its urge compels and I obey, framing these  plaintive melodies.

Hear  you O God ‘ these sad complaints those of proven fealty,
From lips accustomed but to praise hear you these words in blame of you,

(جواب شکوہ  (دوسرا بند   

پیرِ گردوں نے کہا سُن کے، کہیں ہے کوئی
بولے سیارے، سرِ عرش بریں ہے کوئی
معانی: عرشِ بریں : مراد خدا کا تخت ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ جب میری فریاد بلند ہوئی تو اس سے متاثر ہو کر بوڑھے آسمان نے کہا لگتا ہے قریب ہی کوئی شخص موجود ہے ۔ سیاروں کا خیال تھا کہ غالباً فریادی عرش پر موجود ہے

چاند کہتا تھا ، نہیں اہلِ ز میں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی
معانی: اہل ز میں : دنیا کا باشندہ، انسان ۔ کہکشاں : چھوٹے چھوٹے بیشمار ستاروں کی ایک لمبی قطار ۔
مطلب: چاند کا استدلال یہ تھا کہ یہ تو کوئی زمین پر رہنے والا شخص ہے ۔ جب کہ کہکشاں کا خیال تھا کہ یہ شخص کہیں ہمارے اردگرد ہی چھپا ہوا ہے ۔

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا
معانی: رضواں : جنت کا داروغہ ۔ جنت سے نکالا ہوا انساں : مراد حضرت آدم ۔
مطلب: تاہم اگر میری فریاد کو کسی حد تک حقیقت کے روپ میں دیکھا تو وہ داروغہ جنت رضوان تھا جو مجھے جنت سے نکالے ہوئے انسان سے تعبیر کر رہا تھا ۔

Jawab e Shikwa Band (2)

Peer e Gardoon ne kaha sun ke, kahin hai koi
Bole sayaare, sar e arsh e bareen hai koi

chaand kahta tha nhi ahl e zameen hai koi
Kehkashan kehti thi poshida yahin hai koi

Kuch jo samjha tu mere shikwa ko rizwan samjh
Mujhe janat se nikala howa insan samjha  

Jawab e Shikwa Stanza-2

The skies exclaimed in wonderment, some one is hiding here 

The wheeling planets paused to say, seek on highest sphere 

The silver moon said you are wrong, some mortal it must be 

The milky way too joined converse, here in our midst is he. 

Rizwan alone, my plaintive voice began to recognize, 

He knew me for a human who had lost his paradise.

شکوہ بند -3

Shikwa The Complaint(3)

تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم
پھول تھا زیبِ چمن، پر نہ پریشاں تھی شمیم
معانی: ذاتِ قدیم: پرانی ہستی ۔ زیب چمن: باغ کی سجاوٹ ۔ پریشاں : بکھرنا، پھیلنا ۔ شمیم: خوشبو ۔
مطلب: اے خدا! بے شک تیری ذات قدیم تو ازل سے ہی موجود ہے اس کے باوجود تیری ذات ایک ایسے پھول کی مانند تھی ، ہوا نہ ہونے کے باعث جس کی خوشبو چمن میں پھیلنے کے امکانات نہ تھے ۔ اے مہربان و کریم انصاف کا تقاضا تو اس سوچ میں مضمر ہے کہ اگر ہوا موجود نہ ہو تو پھول کی خوشبو باغ میں کسی طور بھی نہیں پھیل سکتی ۔


ہم کو جمیعتِ خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ اُمت ترے محبوب کی دیوانی تھی
مطلب: یہ ملت اسلامیہ ہی تھی جس نے تیرا پیغام عام کیا ۔ ہم اگر تیرا پیغام لے کر دنیا بھر میں مارے مارے پھرتے تھے تو یہ پریشانی اور سرگردانی ہمارے لیے وجہ تسلی تھی ۔ ورنہ تیرے پیغمبر کی یہ امت دیوانی تو نہ تھی کہ دربدر پھرے ۔


ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر، کہیں معبود شجر
مطلب: ملت اسلامیہ سے قبل تو اے خدا! تیری دنیا کی عجیب و غریب کیفیت تھی ۔ کہیں تو پتھروں کو اور کہیں لوگوں نے درختوں کو اپنا معبود بنایا ہوا تھا اور یہ لوگ انہی کی پرستش کرتے تھے ۔

Thi to maujood azal se hi teri zaat e qadim
phool tha zaib e chaman par na peshan thi shamim

Shart insaaf hai ae sahib e altaf e amim
bo e gul phailti kis tarah jo hoti na nasim

Hum ko jamiat e khatir ye preshani  thi
Warna Ummat tere Mehboob (S.A.W) ki diwani thi

 
From when eternal time began your timeless self had also been
But then no breeze its sweetness spread though the rose reigned the gardens queen.
 
Canst you in justice but confess O Lord from whom all favors flow,
Had not the south wind toiled in love the world your fragrance would not know?
 
The glad travail we sought for rejoiced our souls and our pride
Thinks you the followers of your friend insanely spread your truth so wide?

جواب شكوه بند -3

Jawab e Shikwa The Answer to the Complaint (3)


تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا
معانی: راز کھلنا: بھید ظاہر ہونا ۔
مطلب: فرشتے اس امر پر حیرت زدہ تھے کہ یہ فریاد کی جو صدا ان تک پہنچ رہی ہے اس کی نوعیت کیا ہے ۔ جو لوگ عرش پر مقیم تھے وہ بھی اس راز کی تہہ تک نہ پہنچ سکے ۔

تاسرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا
آ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا
معانی: سرِ عرش: عرش پر ۔ تگ و تاز: بھاگ دوڑ ۔ خاک کی چٹکی: مراد انسان ۔
مطلب: وہ سوچ رہے تھے کہ کیا انسان کی رسائی اب آسمان تک بھی ہو گئی ہے اور کیا خاک کی چٹکی میں وہ صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اس قدر بلندی تک پرواز کر سکے ۔

غافل آداب سے سُکانِ ز میں کیسے ہیں
شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں
معانی: سُکان: جمع ساکن، رہنے والے ۔ شوخ و گستاخ: شریر اور ادب نہ کرنے والے ۔ پستی: نیچائی، زمین، دنیا ۔ مکیں : رہنے والے ۔
مطلب: ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہے تو ماننا پڑے گا کہ ساکنان زمین آداب محفل سے آگاہی نہیں رکھتے ۔ اتنی پستی پر قیام کرتے ہوئے یہ جسارت شوخی اور گستاخی نہیں تو کیا ہے۔

Thi farishton ko bhi hairat, ke yeh awaz hai kya
Arsh walon pe bhi khalta nahi ye raaz hai kya

Taa sar e arsh bhi insan ki tag o taaz hai kya?
Aa gayi khak ki chutki ko bhi parwaaz hai kya?

Ghafil Aadaad se yeh sukan e zameen kaise hain
Shokh o Gustakh yeh pasti ke makeen kisa hain 

 
And even the Angels could not tell what was that voice so strange,
Whose secret seemed to lie beyond celestial wisdom’s range.

They said, can man now roving come and reach these regions high?
That tiny speck of mortal clay, has it now learnt to fly

                                     How little do these beings of earth laws of conduct know,
                                     How coarse and insolent they are, these men who live below.

شکوہ بند -4

Shikwa The Complaint(4)

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر، کہیں معبود شجر
مطلب: ملت اسلامیہ سے قبل تو اے خدا! تیری دنیا کی عجیب و غریب کیفیت تھی ۔ کہیں تو پتھروں کو اور کہیں لوگوں نے درختوں کو اپنا معبود بنایا ہوا تھا اور یہ لوگ انہی کی پرستش کرتے تھے ۔


خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر
معانی: پیکرِ محسوس: نظر آنے والا مادی جسم ۔ ان دیکھے: مراد تیرے وجود کو منوایا ۔
مطلب: حقیقت یہ ہے کہ انسان ان اشیاء کو اپنا خالق سمجھنے کا عادی ہو چکا تھا جس کے وجود کو خود محسوس کر سکے ۔ اس صورت میں تجھے کون مانتا کہ جو ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتا ہے ۔


تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا
قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
مطلب: یہ حقیقت بھی تیرے علم میں ہے کہ ان دنوں کوئی شخص بھی تیرا نام لینے اور تیری عبادت کرنے کا قائل نہ تھا ۔ یہ صرف اہل اسلام کی قوت ایمان اور قوت بازو ہی تھی جن کے سبب کائنات کے گوشے گوشے میں تیرا نام عام ہو گیا اور ہر طرح تیری عبادت ہونے لگی ۔

Hum se pehle tha ajab tere jahan ka manzar
Kahin masjood tha pathar kahin maabood shajar

Khugar e paikar e mahsoos thi insaan ki nazar
Manta phir koi un dekhe Khuda ko Kyukar

Tujh ko maalum hai leta tha koi nam tera?
Quwwat e baazo e Muslim ne kiya kaam tera

 
Before we came how strange a sight was this most beauteous word of thin yours
For here to stones men bowed their head, and there in tree did Gods’ enshrine

Their unenlightened minds could seize nought else but what their eyes could see,
You know, Lord, your write ran not man neither knew nor worshipped the (you)

And canst you say that even once one of these did your name recite?
It was the might of Muslim arms fulfilled your task and gave them light.

جواب شكوه بند -4

Jawab e Shikwa The Answer to the Complaint (4)

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجودِ ملاءک یہ وہی آدم ہے
معانی: برہم: ناراض ۔ مسجود ملاءک: جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا ۔
مطلب: یہ فریادی تو اس قدر شوخ ہے کہ رب ذوالجلال سے بھی برہمی کا اظہار کر رہا ہے ۔ کیا یہ وہی آدم ہے جس کو کبھی فرشتے سجدہ کیا کرتے تھے ۔


عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے
ہاں ، مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
معانی: عالم کیف: کیفیت، یعنی یہ کیسا ہے کے جواب سے واقف ۔ دانا: جاننے والا ۔ رموز: جمع رمز، اشارے، بھید، نکتہ ۔
مطلب: یہ درست ہے کہ انسان کو زندگی کے بیشتر مسائل کا علم ہے اور وہ اپنی دانش کے ذریعے ہر شے تک رسائی بھی حاصل کر سکتا ہے ۔ تاہم لگتا یوں ہے کہ ان خصوصیات کے باوجود عجز و انکسار کے خواص سے قطعی طور پر آگاہ نہیں ہے ۔


ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
معانی: طاقت گفتار: بول چال کی طاقت ۔ سلیقہ: اچھا طریقہ ۔
مطلب: اس کو اپنی طاقت گفتار پر تو بے شک فخر و ناز ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ اس میں بات کرنے کا سلیقہ تک نہیں ۔

Iss Qadar shokh ke Allah se bhi barham hai
Tha jo masjood e malaek yeh wohi adam hai?

Alam e kaif hai dana e ramooz e kaam hai
Han, magar Ijaz ke asrar se namehram hai

Naaz hai taaqat e guftaar pe insanon  ko
Baat karne ka saliqa nhi nadanon ko

 
So great their insolence indeed, they dare even God upbraid
Is this the man to whom their bow the angels once had made?

Of quality and quantity he knows the secrets true,
The ways of humbleness as well if he a little knew,

That they alone are blest with speech how proud these humans be,
Yet, ignorant, they lack the art to use it gracefully.

شکوہ بند -5

Shikwa The Complaint(5)


بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی، تورانی بھی
اہل چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی
معانی: بسنا: رہنا ۔ سلجوق: ترکوں کا ایک قبیلہ ۔ تورانی: توران، ترکی کا باشندہ ۔ ساسانی: قدیم ایران کا ایک حکمران خاندان ۔
مطلب: مسلمانوں سے قبل اس دنیا میں ترکوں کا قبیلہ سلجوق بھی تھا، اور توران کے طول و عرض میں تورانی بھی موجود تھے ۔ چین جیسے وسیع و عریض ملک میں چینی باشندے بھی مقیم تھے اور ایران ساسانیوں کی شوکت و جلال کا مظہر تھا ۔


اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی
معانی: معمورہ: آبادی، دنیا ۔ نصرانی: عیسائی ۔
مطلب:پھر یہا ں یونانی بھی رہتے تھے ۔ اسی دنیا میں یہودی اور نصرانی بھی رہتے تھے ۔


پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے
معانی: کس نے: مسلمانوں نے ۔ بگڑی ہوئی بات بنانا: ناکامی کو کامیابی میں بدلنا ۔
مطلب: اس کے باوجود تیرے نام کے تحفظ کی خاطر یہ تو بتا تلوار کس نے اٹھائی اور تصور توحید سے بغاوت کرنے والوں کے خلاف مسلمانوں کے علاوہ کون نبرد آزما ہوا ۔

 

Bas rahe the yahin saljuq bhi toorani bhi
Ahl e chin cheen mein, Iran mein sasani bhi

Issi maanore mein abad the yoonani bhi
Issi dunya mein yahudi bhi the nusraani bhi

Par tere naam pe talwar uthai kisi ne
Bat jo bigri huwi thi woh banaai kis ne

 
Yet once there lived the seljuks here, Turanians too, and wise Chinese,
Sasanians drew their breath and thrived in rose perfumed Iranian breeze,

And else where in your peopled world the Greeks of Yunan held their sway,
While sons of Israel side with Christian Nations had their day.

But which among these nations raised the sacred sword in holy fight,
Self – consecrated to your cause to set crazy world aright?

جواب شكوه بند -5

Jawab e Shikwa The Answer to the Complaint (5)


آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترا
اشکِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا
معانی: غم انگیز: دکھ بھرا ۔ اشک بیتاب: بے چین آنسو ۔
مطلب: فرشتوں کی یہ گفتگو جاری تھی کہ عرش بریں سے ایک بلند آواز پیدا ہوئی ۔ یقینا یہ رب ذوالجلال کی آواز تھی اس آواز نے اقبال سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بے شک تیری داستان غم و اندوز سے لبریز ہے اور تیری آنکھوں سے جو آنسو نکلے ہیں ان کی سچائی میں بھی کلام نہیں ۔


آسماں گیر ہوا نعرہَ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا
معانی: آسماں گیر: آسمان پر چھا جانے والا ۔ نعرہَ مستانہ: پر جوش نعرہ ۔ شوخ زباں : بے خوف بات کرنے والا ۔ دلِ دیوانہ: شیدائی، عاشق دل ۔
مطلب: تیری یہ شوخ لہجے والی فریاد آسمان تک پہنچ گئی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تو ایسے دل کا مالک ہے جو دیوانگی میں انتہا تک پہنچ گیا ہے ۔


شکر شکوے کو کیا حُسن ادا سے تو نے
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے
معانی: حُسن ادا: اچھا طریقہَ بیان ۔ ہم سخن: باہم بات چیت کرنے والے ۔
مطلب: البتہ یہ ضرور ہے کہ تو نے اپنے شکوہ کا جس طرح اظہار کیا ہے اس میں شکایت کو بھی شکر کے قالب میں ڈھال دیا ہے یوں اپنے حسن کلام سے تو نے انسانوں اور خدا کے مابین مکالمہ کرایا ہے

 Ayi awaz ghum angaiz hai afasan tera
Ashk e betaab se labraiz hai paimana tera

Asmangeer huwa naara e mastana tera
Kis qadar shokh zuban hai dil e diwana tera

Shukr Shikwa ko kiya husan e ada se tu ne
Hum sukhan kar diya bandon ko khuda se tu ne


Then spake a voice compassionate, your tale enkindles pain
Your cup is brimming full with tears which you could not contain.

Even high heaven itself is moved by these impassioned cries,
How wild the heart which taught your lips such savage melodies,

Its grace yet makes this song of yours a song of eulogy;
A bridge of converse  you have formed’ twixt mortal man and me.

Click Here Full SHIKWA JAWAB E SHIKWA

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.