Shikwa Jawab e Shikwa by Allam Iqab Part -2
Shikwa Jawab e Shikwa by Allam Iqab Part -2
شکوہ بند -6
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
معانی: معرکہ آرا: مراد جہاد کرنے والے ۔
مطلب: اے معبود حقیقی ہم مسلمان ہی تھے جو ساری دنیا میں تیرے مخالفین کے مقابل نبرد آز ما رہتے تھے ۔ اس مقصد کے لیے کبھی ہم دشمن کے خلاف صحراؤں میں اور کبھی دریاؤں اور سمندروں میں جا کر صف آرا ہوئے ۔
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
مطلب: کبھی یورپی ممالک کو فتح کر کے وہاں کے کلیساؤں میں جا کر اذانیں دیں اور نغمہ توحید سنایا اور کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں پہنچ کر آوازہَ حق بلند کیا ۔
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
معانی: کلمہ: مراد کلمہ توحید ۔ تلواروں کی چھاؤں میں : میدان جنگ میں ۔
مطلب: امر واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو بڑے بڑے شان و شوکت والے سلاطین کی عظمت مرعوب نہ کر سکی تھی اس لیے ہم تو تلواروں کی چھاؤں میں کلمہ پڑھنے کی جرات اور حوصلہ رکھتے تھے ۔
Shikwa Band-6
The hameen ek tire maarke araaon mein,
Khushkion mein kabhi larte, kabhi dariyaon mein
Deen azaanen kabhi Europe ke kaleeaon mein
kabhi Africa ke tapte howa sehraon mein
Shan ankhon mein na jachti thi jahan daron ki
Kalima parhte the hum chao mein talwaron ki
Shikwa Stanza-6
Tis we and alone who thronged as warriors on your fields of fray,
And now upon the land we fought and now upon the salt sea spray.
We made our Azan’s call resound beneath proud spires in western lands
And made that magic melody thrill over Afric’s burning sands
The pageantries of mighty kings to us were shows that mattered not,
Beneath the shade of blades unsheathed in kalima we gorly sought
جواب شكوه بند -6
ہم تو مائل بہ کرم ہیں ، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں
معانی: مائل بہ کرم: مہربانی کرنے پر تیار ۔ رہرو: چلنے والا ۔
مطلب: رب ذوالجلال فرماتے ہیں کہ ہم تو ہمیشہ سے مائل بہ کرم رہے ہیں لیکن جب کوئی سائل ہی نہ ہو تو عنایات و کرم کس پر ہیں ۔
تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گِل ہی نہیں
معانی:جوہر قابل: اہلیت، لیاقت رکھنے والا انسان ۔ گِل: مٹی ۔
مطلب: اے اقبال تو نے اپنے شکوہ میں جو گلے کیے ہیں وہ خلاف حقیقت ہیں ۔ دراصل رہنمائی اسی کی کی جاتی ہے جس میں جوہر قابل اور صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
مطلب : اگر کسی میں حاصل کرنے کی صلاحیت ہو تو ہم اسے بادشاہوں جیسی شان و شوکت عطا کرنے کے لیے تیار ہیں اور کولمبس کی مانند جو کوئی نئی دنیا کی تلاش میں نکلے تو ہم اسے اس دنیا کی راہ بھی دکھا دیتے ہیں ۔ اس بند میں کہا گیا ہے کہ ملت مسلمہ جب خود ہی قوت عمل سے محروم ہو کر اپنی بے عملی پر انحصار کیے بیٹھی ہے تو خدا سے التفات و کرم کی کمی کا شکوہ کیسا۔
Jawab e Shikwa Band-6
Jawab E Shikwa The Answer to the Complaint (6)
Hum to mayal ba karam hain koi sayal hi nahi
Rah dikhlaen kise rahraw manzil hi nahi
Tarbiat am to hai jauhar e qabil hi nahi
Jis se taamir ho adam ki yeh woh gil hi nahi
Koi Qabil ho to hum shan e ki dete hain
Dhoondne walon ko dunya bhi nai dete hain
Jawab e Shikwa Stanza-6
Behold my hands are full of gifts but who comes seeking here?
And how shall I the right road show when there’s no traveler?
My loving care is there for all if deserved but by few,
Not this the clay from which I can an Adam’s shape renew
On him who merits well I set the brightest diadem’
And those who truly questing come a new waits for them.
شکوہ بند -7
ہم جو جیتے تھے، تو جنگوں کی مصیبت کے لیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے
مطلب: اے خدائے ذوالجلال! ہم مسلمان تو اپنے حریفوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے جیا کرتے تھے اور تیرے نام کی عظمت کے لیے زندگی قربان کر دیتے تھے ۔
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے
سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے
معانی: تیغ زنی: تلوار چلانا، جہاد کرنا ۔ سربکف: ہتھیلی پر رکھے ہوئے، لڑنے مرنے پر تیار ۔
مطلب: جہاں تک ہماری تیغ زنی کا تعلق تھا وہ محض اپنی حکومتوں کے تحفظ کی خاطر نہیں تھا ۔
قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عوض بُت شکنی کیوں کرتی
معانی: بت فروشی: مراد محمود غزنوی نے سومنات پر حملہ کیا تو پجاریوں نے اسے بہت سامال و دولت پیش کیا تا کہ وہ بت نہ توڑے ۔ اس نے جواب دیا میں بت شکن کہلانا چاہتا ہوں بت فروش نہیں ۔ بت شکنی: بت توڑنا ۔
مطلب: نہ ہی ہم دولت کے لیے دنیا بھر میں اپنا سر ہتھیلیوں پر لے کر پھرتے تھے ۔ اگر ہماری قوم مال و دولت پر مرتی تو بت شکنی کیوں کرتی ۔
Shikwa Band-7
Hum jo jeete tha to jango ki musibat ke liya
Aur merte the tere naam ki azmat ke liya
Thi na kuch taeg zani apni hukumat ke liya
Sar bakaf phirte tha kya dehar mein doulat ke liya
Qaum apni jo zar o maal e jahan par marti,
boht faroshi ke lwaz boht Shikni kyo karti?
Shikwa Stanza-7
Our only life was then to face the perils of your holy wars,
To glorify of your name we died, adorned with hallowed battle scars
Not lust for power for our own sakes our drawn swords playfulness inspired,
Nor roamed we hand in glove with death for worldly riches we desired
Our people had they set their hearts on this worlds riches or its gold,
Not idol breaking would have gone but idols would have bought and sold.
جواب شكوه بند -7
ہاتھ بے زور ہیں ، اِلحاد سے دل خُوگر ہیں
اُمتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبر ہیں
معانی: الحاد: مراد کفر، خدا کے وجود سے انکار ۔ خوگر: عادی ۔ پیغمبر: حضور اکرم ۔
مطلب: یہ بھی سن لے کہ اس دور کے مسلمان صرف بے عمل اور قوت تخلیقی سے محروم ہیں نہیں بلکہ ان کے دل بھی کفر و الحاد کے عادی بن چکے ہیں ۔ یہی وہ امتی ہیں جو آج اپنے پیغمبر کو رسوا کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔
بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا ابراہیم پدر، اور پسر آزر ہیں
معانی: ابراہیم: حضرت ابراہیم جنھوں نے نمرود کا بت خانہ توڑا ۔ پدر: باپ ۔ آزر: حضرت ابراہیم کے والد، چچا، مراد بت تراش ۔ پسر: بیٹا ۔
مطلب: ان میں جو کبھی بت شکن ہوا کرتے تھے وہ تو جا چکے ۔ اب جو باقی رہ گئے ہیں وہ تو عملی سطح پر بت تراش واقع ہوئے ہیں ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ باپ کو ابراہیم سمجھ لو جو بت شکن تھے لیکن بیٹا آزر کی حیثیت رکھتا ہے جو بت تراش تھا ۔ ۔ یعنی تمہارے اسلاف ابراہیم کی مانند تھے جب کہ تم آزر کے مماثل ہو ۔
بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے
حرمِ کعبہ نیا، بت بھی نئے، تم بھی نئے
معانی: بادہ آشام: شراب پینے والے، اسلام سے محبت کرنے والے ۔ خُم: مٹکا، صراحی ۔ حرم کعبہ نیا: مراد اصل کعبہ کی بجائے حکمرانوں کو سجدہ کرنا ۔ بت بھی نئے: یعنی دولت، مرتبہ سے محبت وغیرہ ۔
مطلب: اب تو کیفیت یہ ہے کہ پرانی اقدار کو فراموش کر کے نئی قدروں کو اپنا لیا گیا ہے ۔ حتیٰ کہ نئے کعبے کے ساتھ تم نے بھی خود کو اسی رنگ میں رنگ لیا ہے ۔
Jawab e Shikwa Band-7
Haath be zoIihaad se dil khoo gar hain
Ummati baais e Ruswai e Paighamber (S.A.W) hain
Boht Shikan uth gaye baqi jo rahe but gar hain
The braheem pidar aur pisar azar hai
Badah asham naye bada naya khum b naye
Harm e Kaaba naya boht b naye tum b naye
Jawab e Shikwa Stanza-7
Apostate hearts and palsied hands your earthly lives debase,
You all, to your great Prophet (PBUH) are bringers of deep disgrace
Those idol breakers all have gone you idolaters are,
Abraham was the father you his sons are but Azar,
Now stranger bands carousal hold strange are both cup and wine;
A strange new KABA you have reared strange idole oh its shrine
شکوہ بند -8
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
معانی: ٹلنا: اپنی جگہ سے ہل جانا ۔
مطلب: ہم مسلمان تو وہ حوصلہ مند لوگ تھے جب میدان جنگ میں پہنچ گئے تو فتح حاصل کیے بغیر واپس نہ پلٹے ۔ انسان تو انسان ہم تو وہاں شیروں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیا کرتے تھے ۔
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
معانی: سرکش: باغی، نہ ماننے والا ۔ بگڑ جانا: غصے میں آ نا ۔ تیغ: تلوار ۔
مطلب: اگر تیرے خلاف کوئی بغاوت پر آمادہ ہوتا تو ہم اس کے خلاف ڈٹ جاتے اور پھر تلوار تو الگ رہی ہم لوگ تو توپ کے مقابل بھی سینہ سپر ہو جاتے ۔
نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
معانی: دل پر نقش بٹھانا: مراد دلوں میں پورا پورا اثر جمانا ۔ زیرِ خنجر: خنجر کے نیچے ۔
مطلب: اے مالک حقیقی! یہ بتا کہ ہمارے علاوہ توحید کا علم بلند اور کس نے کیا ۔ ہم نے تو تیرا یہ پیغام زیرِ خنجر بھی سنایا ۔ اس مصرع میں علامہ کا اشارہ نواسہَ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی جانب ہے جنھوں نے میدان کربلا میں حق کی فتح کے لیے اپنا سر کٹوادیا ۔
Shikwa Band-8
Tal na sakte tha agr jang mein arh jate tha
Paon sheron ke bhi maidan se ukhar jate tha
Tujh se sarkash howa koi to bighar tha
Taeg kya cheez hai hum toup se larh jate tha
Naqsh tauheed ka har dil pe bithaya hum ne
Zer e khanjar b yeh paigham sunaya hum ne
Shikwa Stanza-8
We stood our ground like rocks when once the foe had met our phalanx dread,
Before our might the bravest quailed and vanquished from the battle fled
And those who offered you affront our swift relentless fury faced,
Their mightiest arms we set at nougat their insolence and pride abased
On all men’s minds we set your seal your tawhid’s firm and sure impress,
The selfsame message preached our lips when swords danced high in battle’s stress.
جواب شكوه بند -8
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایہَ رعنائی تھا
نازشِ موسمِ گل لالہَ صحرائی تھا
معانی: مایہَ رعنائی: خوبصورتی، تازگی کی دولت ۔ نازش: افتخار، فخر ۔ موسمِ گل: بہار کا موسم ۔ لالہَ صحرائی: مراد آغاز اسلام کے مسلمان ۔
مطلب: وہ زمانہ فراموش نہیں کیا جا سکتا جب کہ مسلمان میری ذات کو ہی باعث فخر سمجھا کرتے تھے ۔
جو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا
مطلب: اور میں ہی ان کے لیے سب کچھ تھا ۔ اس وقت جو مسلمان صفحہ ارض پر موجود تھا میرا ہی سودائی بنا پھرتا تھا ۔ اور کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جسے تو آج ہرجائی قرار دے رہا ہے وہی تم مسلمانوں کا محبوب ہوا کرتا تھا ۔
کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو
ملتِ احمد مرسل کو مقامی کر لو
معانی: عہد غلامی کر لینا: مراد کسی اور کو خدا بنا لینا ۔ مقامی کرنا: کسی ایک، خاص جگہ یا قوم تک محدود رکھنا ۔
مطلب: پھر بھی اگر میری صفات سے بد ظنی کا اظہار کرتے ہو تو جاوَ کسی جامد شخصیت کے ہاتھ پر بیعت کر لو اور آنحضرت کی نبوت کو محدود کر کے کسی ایک مقام سے وابستہ کر لو ۔
Jawab e Shikwa Band-8
Woh b din tha k yehi maya e raanai tha
Nazish e mousam e gul lala e sahrai tha
Jo Musalmaan tha Allah ka saudai tha
Kabhi Mehboob tumhara yehi harjai tha
Kisi yakjai se ab Ehd e Ghulamo kar lo
Millat e Ahmed (S.A.W) ko maqami kar lo
Jawab e Shikwa Stanza-8
The tulip of wilds once reigned the queen of blossom time,
In this once lay the quintessence of loveliness sublime
Once every true born mussalman by Allah set his store,
This fickle hearted courtesan even you did once adore
Go seek some constant mistress now to, her a new bond sign,
Muhammad Universal creed to narrow bounds confine.
شکوہ بند -9
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا درِ خیبر کس نے
شہر قیصر کا جو تھا، اس کو کیا سر کس نے
معانی: اکھاڑا: جھٹکا دے کر اپنی جگہ سے ہٹا دیا ۔ درِ خیبر: خیبر کا دروازہ ، خیبر یہودیوں کا ایک مضبوط قلعہ جس کا دروازہ بھی بیحد مضبوط تھا ۔ اس کے محاصرے کے وقت حضرت علی علیہ السلام نے پوری قوت سے یہ دروازہ اکھاڑ دیا تھا ۔ شہر قیصر کا: مراد روم ۔
مطلب: اے خدا اتنا بتا دے کہ یہودیوں کی مشہور بستی خیبر میں القدس کا دروازہ کس نے تن تنہا اکھاڑ پھینکا ۔ ایک روایت کے مطابق یہ دروازہ اتنا وسیع و عریض اور مضبوط تھا کہ اسے کم و پیش سو افراد مل کر بند کیا کرتے اور کھولا کرتے تھے ۔ تاریخ اسلام کا یہ ایک اہم واقعہ ہے کہ شیر خدا حضرت علی بن ابی طالب نے جنگ خیبر کے دوران تنہا یہ دروازہ اکھاڑ پھینکا تھا جس کے بعد لشکر اسلام نے باسانی اس انتہائی مضبوط قلعے کو تسخیر کر لیا ۔ قیصر روم کے عظیم شہر قسطنطنیہ کو کس نے فتح کیا ۔
توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس نے
معانی: مخلوق خداوند: مراد بنائے ہوئے آقا یعنی بت ۔ پیکر: جسم، ڈھانچا ۔
مطلب: وہ کون تھے جنھوں نے ایسے نافرمان لوگوں کو کاٹ کر رکھ دیا جو مخلوق ہونے کے باوجود خالق بن بیٹھے تھے ۔ اور یہ بھی بتا دے کہ کفاروں کے لشکروں کو کن لوگوں نے تباہی سے دوچار کیا ۔
کس نے ٹھنڈا کیا آتش کدہَ ایراں کو
کس نے پھر زندہ کیا تذکرہَ یزداں کو
معانی: آتش کدہَ ایراں : اسلام سے پہلے ایران کے لوگ آگ کے پوجا کرتے تھے ۔ آتشکدہ میں ہر وقت آگ جلتی رہتی تھی ۔ (آج کل کے آتش پرست پارسی کہلاتے ہیں ) یزداں :مراد اللہ تعالیٰ ۔
مطلب: جس دور میں ایران میں آگ کی پرستش کی جاتی تھی اور وہاں کے لوگ اسی واسطے سے آتش پرست کہلاتے تھے ان کے آتشکدوں کو ہمیشہ کے لیے بجھانے والے کون لوگ تھے ۔ چنانچہ اس عمل کے بعد ذکر توحید کو ازسر نو کس نے زندہ کیا۔
Shikwa Band-9
Tu hi keh de ukhara dar e khyber kis ne,
Sheher Qaiser ka jo tha us ko kiya sar kis ne
Tore makhluq khudawandon ke paikar kis ne
kaat kar rakh diye Kuffar ke lashkar kis ne
Kis ne thanda Atishkuda e Iran ko?
kis ne phir zinda kiya tazkara e yazdaan ko?
Shikwa Stanza-9
Declare you whose fierce valor once did Khyber’s barriers overthrow?
Or whose resistless might once laid famed Caesar proudest cities low?
Who smashed to dust man’s hand wrought Gods those things of straw and earth and clay?
And who did unbelieving hosts to spread your name and glory slay?
And who was it that quenched and cooled the fiery urns of Iran?
And in that land did once again revive the worship of yazdan?
جواب شكوه بند -9
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے، ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
معانی: صبح کی بیداری: صبح سویرے اٹھ کر عبادت کرنے کی حالت ۔
مطلب: تم لوگ شکایت تو کرتے ہو پر اتنا تو بتاوَ کہ نماز فجر کے لیے بیدار ہونا تمہارے لیے کس قدر تکلیف دہ امر ہو گیا ہے ۔ دراصل تمہیں ہم سے محبت نہیں بلکہ اپنی نیند ہی تمہیں پیاری ہے ۔
طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے
تمھی کہہ دو کہ یہ آئینِ وفاداری ہے
معانی: طبعِ آزاد: مراد مذہب سے بے نیاز مزاج ۔ قیدِ رمضاں : روزوں کی پابندی ۔ آئینِ وفاداری: ساتھ نبھانے ، حقِ دوستی کرنے کا دستور ۔
مطلب: پھر تم لوگ اس قدر آزاد طبع ہو چکے ہو کہ تمہیں رمضان کے روزے بھی ایک مصیبت نظر آتے ہیں اب یہ بتاوَ کہ ان حالات کے پیش نظر مجھ سے وفاداری کا یہی انداز رہ گیا ہے ۔
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں ، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں ، محفلِ انجم بھی نہیں
معانی: جذب باہم: ایک دوسرے کی کشش ۔ محفلِ انجم: مراد ستاروں کی گردش کا نظام جو اس کشش سے قائم ہے ۔
مطلب: جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ قوم مذہب کی بنیاد پر ترتیب پاتی ہے ۔ اگر مذہب نہیں تو وہ قوم ہی نہیں ۔ تم لوگوں کی حیثیت بھی بے معنی ہے ۔ اس کی مثال ستاروں سے دی جا سکتی ہے کہ یکجا ہو کر وہ ایک جھرمٹ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔
Jawab e Shikwa Band-9
Kis qadar tum pe garan subah ki baidari hai
Hum se kab pyar hai haan neend tumhain payri hai
Tabaa e azad pe qaid e ramzan bhari hai
Tumhai keh do yehi aeen e wafadri hai?
Qoum mazhab se hai mazhab jo nahi tum bhi nahi
jazb e baham jo nahi mehfil e anjum bhi nahin
Jawab e Shikwa Stanza-9
To pray to me at break of day you now an ordeal deem,
Your morning slumber sweeter far, yet you would faithful seem
The hardships of the fast oppress your nature now grown free,
Such are your ways and you still would protest your love for me
Unto a nation faith is life you lost your faith and fell
When gravitation fails must cease concourse celestial.
شکوہ بند -10
کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی
اور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی
معانی: زحمت کش پیکار: جنگ، جہاد کی تکلیفیں اٹھانے والی ۔
مطلب : اے خدا! یہ بتا کہ ملت اسلامیہ کے علاوہ اور کون سی قوم تھی جس نے تجھ سے محبت کی اور تیری خاطر ہمیشہ میدان کارزر میں سرگرم عمل رہی ۔
کس کی شمشیر جہانگیر، جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی
معانی: شمشیر جہانگیر: دنیا کو فتح کرنے والی تلوار ۔ جہاندار: دنیا پر حکومت کرنے والی ۔
مطلب: وہ کس قوم کی تلوار تھی جس نے ساری دنیا کو تسخیر کیا اور اس پر حکومت کی ۔ کس کے نعرہَ تکبیر سے دنیا بیدار ہوئی اور نیک و بد کی تمیز سیکھی ۔
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ھُوَ اللہُ اَحَد کہتے تھے
معانی: صنم: بت ۔ ھُو اللہُ احد: وہ اللہ ایک ہے ۔
مطلب: وہ کون سی قوم تھی جس کے خوف سے بت بھی سہمے ہوئے رہتے تھے اور ان کو سامنے پا کر سجدے میں گر جاتے اور تیری واحدانیت کا اقرار کر لیتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ یہ قوم مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور نہ تھی ۔
Shikwa Band-10
Kon se Qoum Faqat teri talabgar howi
Aur Tere liye Zehmat kash paikaar howi
Kis ki shamsheer jahangeer jahandar howi
kis ki takbeer se dunya teri baidar howi
kis ki Haibat se sanam sehme howi rehte tha
Munh ke bal gir k HU WA ALLAH HU AHAD kehte tha
Shikwa Stanza-10
Among those nations was there once one who craved you as we craved and sought?
Or risked the perils of fell war that your Divines will be wrought?
Whose was that conquest thirsty sword which won and held the world in fee?
And whose the Takbeer sounding call which wakened all the world to you?
Whose was the fateful wrath which made all idols shrink in terror just?
There is no God but God, they cried as crumbling down they kissed the dust.
جواب شكوه بند -10
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تُم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو
معانی: پروئے نشیمن: مراد وطن کی فکر ۔
مطلب: امر واقع یہ ہے کہ جن کو دنیا میں رہتے ہوئے کوئی فن اور ہنر نہیں آتا وہ تم لوگ ہو ۔ جس قوم کو اپنے گھر کی پروا نہیں ہے کہ وہ کیسا ہے کس حال میں ہے وہ قوم تم جیسے لوگوں سے ہی عبارت ہے ۔
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
معانی: خرمن: غلے کا ڈھیر ۔ اسلاف: سلف کی جمع، پرانے بزرگ ۔ مدفن: قبر ۔
مطلب: تمہارے نشیمن پر تو بجلیاں بھی بڑی آسانی سے گر سکتی ہیں یعنی تم اس قدر کمزور واقع ہوئے ہو کہ دشمن کسی دقت کے بغیر تمہیں زیر کر سکتا ہے ۔ اور تو اور تم لوگ اپنے اسلاف کے مقبروں کو بھی بیچ کھاتے ہو ۔
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچو گے، جو مل جائیں صنم پتھر کے
معانی: نکو نام: اچھے نام والا ۔ قبروں کی تجارت: مزاروں کے متولیوں کا مریدوں سے نذرانے وصول کرنا ۔
مطلب: ذرا غور تو کرو کہ جب تم اس عمل میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تو تمہیں بت فروشی میں کیا عار محسوس ہو گا ۔
Jawab e Shikwa Band-10
Jin ko ata nahi dunya mein koi fann tum ho
nahi jis qoum ko parwaye nasheman tum ho
Bijliyan jis mein hon asudah woh khirman tum ho
Baich khate hain jo aslaaf ke madfan tum ko
Ho niko naam jo qabaron ki tajarat kar ke
kya na baicho ga jo mil jae sanam pathar ke
Jawab e Shikwa Stanza-10
You love your home the least among the nations of the earth,
You are the most incompetent in knowledge and in worth
You are barn where light stays where ruin idle lies;
Ancestral coffins long entombed your only merchandise,
In turning graves to profit you have proved yourselves adept
Should idol trading offer gain of course you would accept
Click Here Full SHIKWA JAWAB E SHIKWA