Shikwa Jawab e Shikwa lyrics by Iqbal Part -3
Shikwa Jawab e Shikwa lyrics by Iqbal Part -3
شکوہ بند -11
آ گیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رُو ہو کے ز میں بوس ہوئی قومِ حجاز
معانی: عین لڑائی: یعنی جب لڑائی زوروں پر ہو ۔ قبلہ رو: کعبے کی طرف منہ کر کے ۔ ز میں بوس ہونا: سجدہ کرنا ۔ قوم حجاز: مراد مسلمان قوم ۔
مطلب: اے معبود حقیقی! تو اس امر سے یقینا آگاہ ہے کہ میدان جنگ میں زبردست نبردآزمائی کے دوران تیری عبادت یعنی نماز کا وقت آ گیا تو مسلمان عساکر نے دشمن کی تلواروں کی پروا کیے بغیر خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے اپنی صفیں سیدھی کر لیں اور سجدہ ریز ہو گئے ۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
معانی: محمود و ایاز: مراد آقا اور غلام ۔ بندہ: غلام ۔ بندہ نواز: مرا د آقا ۔
مطلب: اس دوران ان عساکر میں بندہ و آقا کی تمیز مٹ گئی او ر دوران نماز آقا و غلام ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
معانی: صاحب: مالک، آقا ۔ غنی: مالدار ۔ سرکار: دربار ۔
مطلب : امیر و غریب سب کا فرق ختم ہو گیا اور سب برابر ہو گئے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تیری سرکار میں پہنچ کر یہ سب لوگ ایک ہو گئے ۔
Shikwa Band-11
Aa gaya ain laraai mein agar waqt e namaz
Qible ru ho ke zameen bos howi Qoum e Hijaz
Ek hi saf mein khare tha Mahmood o Ayaz,
Na Koi banda raha aur na koi banda nawaz
Banda o shahib o mauhtaj o ghani aik howe
Teri Sarkar mein pochanche to sabhi aik howe
Shikwa Stanza-11
When worship’s ordained hour was come and furious raged the battle fray
Those men of Hijaz staunch in you facing kaaba bowed to pray,
Mohmood the king and slave Ayaz in line as equals stood arrayed
The lord was no more lord to slave, while both to the one master prayed,
Slave or slaves master rich or poor, no sense of difference then felt
For each a brother was to each when in your presence lord they knelt.
جواب شكوه بند -11
صفحہَ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے
معانی: صفحہَ دہر: مراد زمانہ ۔
مطلب: مجھے کم از کم ان سوالات کا جواب تو دو کہ اس دنیا سے کفر و باطل کا نشان مٹانے والا کون تھا پھر یہ بھی بتاوَ کہ دنیا بھر کے انسانوں کو غلامی سے نجات کس نے دلوائی ۔
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے
معانی: جبینوں سے بسانا: سجدے، عبادت کرنا ۔ سینوں سے لگانا: مراد پورا پورا احترام کرنا ۔
مطلب: پھر یہ بھی بتاوَ کہ حرم کعبہ کو سجدوں سے آباد کس نے کیا آخری بات یہ کہ وہ کون لوگ تھے جنھوں نے میرے بھیجے ہوئے صحیفے یعنی قرآن کو اپنے سینوں سے لگا کر رکھا ۔
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
معانی: ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنا: غفلت، بے عملی کی زندگی گزارنا ۔
مطلب: بے شک اس سارے عمل کے ذمہ دار تمہارے اسلاف ہی تھے مگر ان کے مقابلے میں تم تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے مستقبل کے منتظر ہو اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔
Jawab e Shikwa Band-11
Safah e dehr se batil ko mitaya kis ne?
Nau e insan ko Ghulami se Chhuraya kis ne?
Mere Kaabe ko jabeenon se basaya kis ne?
Mere Quran ko seenon se lagaya kis ne?
Tha to aba woh tumhare hi magar tum kya ho?
Hath par Hath dhare muntazir e farda ho,
Jawab e Shikwa Stanza-11
Whose striving from this world of mine its falsehood did efface?
Whose toil from age old ignorance set free the human race?
And whose the brows whose worship filled my Kaaba hallowed shrine?
Or whose the breasts which fondly held my Glorious book divine?
These were your great progenitors your lack their brain and brawn
You sit wait in slothful ease for every morrows dawn.
شکوہ بند -12
محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے
معانی: محفل کون و مکاں : مراد دنیا ۔ سحر: صبح ۔ مئے توحید: خدا کی وحدت کی شراب، مراد توحید ۔ صفتِ جام: شراب کے پیالے کی طرح ۔
مطلب: تجھے معلوم ہے کہ ایک عرصے تک مسلمان تیرا پیغام لے کر ہمہ وقت ساری دنیا میں پھرتے رہے اور ہر فرد کو دعوت توحید دیتے رہے ۔
کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے
معانی: کوہ: پہاڑ ۔
مطلب: تیرا پیغام لے کر تو وہ پہاڑوں اور صحراؤں میں پھرتے رہے اور اس امر کا تو تجھے علم ہی ہے کہ اس عمل میں کبھی ناکام ہوئے نہ وہاں سے ناکام لوٹ کر آئے ۔
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
معانی: بحرِ ظلمات: اندھیروں کا سمندر، اشارہ ہے فتح افریقہ کی طرف جو عقبہ بن نافع نے کی ۔
مطلب: اے آقا! تجھے علم ہے کہ صحرا تو الگ رہے ہم نے تو دریا بھی نہیں چھوڑے اور بحر اوقیانوس تک میں اپنے گھوڑے دوڑا دیے ۔
Shikwa Band-12
Mehfil e kon o makan mein sehar o shaam phre
Mai e Tauheed ko lekar sifat e jam phire
Koh mein dasht mein le kar tera pegham phre
Aur maalom hai tujh kabhi nakaam phire,
Dasht to dasht hain darya bhi na chhore hum ne
Bahr e zulmaat mein daura diya ghore hum ne
Shikwa Stanza-12
And you do know we went about at sunrise or when star did shine
In banquet halls of time and space like goblets filled with tawhid wine,
Both heights and lowlands we traversed to spread your message O glad pain
Not even once you know well we strove against the world in vain,
Not only land we bore your word glorious across the heaving seas,
Upon our steed of zeal we rode unto their darkest boundaries.
جواب شكوه بند -12
کیا کہا بہرِ مسلماں ہے فقط وعدہَ حور
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
معانی: بہرِ مسلمان: مسلمانوں کے لیے ۔ وعدہَ حور: جنت کی حور کا وعدہ ۔ بے جا: بے موقع ۔
مطلب: یہ تم نے ہی شکایت کی ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو محض وعدہَ حور پر ہی ٹال رکھا ہے ۔ مگر سوچو کہ اگر کوئی شخص بے جا شکوہ بھی کرتا ہے تو اس کے لیے بھی تہذیب و شعور درکار ہوتے ہیں ۔
عدل ہے فاطرِ ہستی کا اَزل سے دستور
مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور
معانی: فاطرِ ہستی: کائنات کو پیدا کرنے والا، خدا ۔ ازل سے: کائنات سے بھی پہلے ۔ مسلم آئیں : مراد اسلامی اصولوں پر عمل کرنے والا ۔ قصور: جمع قصر، محل ۔
مطلب: اس کائنات کو پیدا کرنے کے بعد ہم نے تو ازل سے ہی اپنا وطیرہ عدل و انصاف بنا رکھا ہے چنانچہ اگر کافر بھی مسلمانوں کے طور طریقے اختیار کر لیں تو عدل و انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ ان کو حور و قصور سے نوازا جائے ۔ ان پر کسی دوسرے کی اجارہ داری تو نہیں ہے ۔
تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوہَ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں
معانی: چاہنے والا: مراد اچھے عمل کر کے حق دار بننے والا ۔ جلوہَ طور: خدا کا جلوہ جو حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر نصیب ہوا ۔
مطلب: تمہارے طرز عمل کے پیش نظر لگتا یوں ہے کہ تم میں دراصل حوروں کو چاہنے کی خواہش موجود نہیں ہے ۔ بالفاظ دگر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کوہ طور کا جلوہ تو اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس کو دیکھنے کے لیے موسیٰ موجود نہیں ۔
Jawab e Shikwa Band-12
kya kaha? bahr e musalman hai faqt wade e hoor
Shikwa be ja bhi kare koi to lazim hai shaoor,
Adal hai fatir e hasti ka azal se dastoor
Muslim aeen howa kafir to mile hoor o Qasoor
Tum mein hooran ka koi chahne wala hi nahi
Jalwa e toor to majood hai Musa hi nahi
Jawab e Shikwa Stanza-12
And did you say for Muslims I mere promises dispense?
Unjust laments at leat should show some spark of commonsense,
Eternal is the law of God and justice is its name
Should infidels like Muslims live the med shall be the same,
Not a single one among you is longing for houris
The effulgence TUR exists but there is no Musa.
شکوہ بند -13
صفحہَ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
معانی: صفحہَ دہر: مراد زمانہ ۔ باطل: ظلم ۔ نوع انساں : مراد تمام انسان ۔
مطلب: ہم مسلمانوں نے اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے باطل کو مٹا کر سچائی کا بول بالا کر دیا ۔ اور انسان کو دوسرے انسان کی غلامی سے نجات دلائی ۔
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے
معانی: جبینوں سے بسانا: سجدے کرنا ۔
مطلب: تیرے کعبے سے بتوں کو نکال کر اپنی پیشانیوں سے آباد کیا ۔ تیرا قرآن اپنے سینوں میں محفوظ کر کے رکھا ۔
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں ، تو بھی تو دل دار نہیں
معانی: وفادار: دوستی کا حق ادا کرنے والا ۔ دلدار: ہمدردی کرنے والا ۔
مطلب: اس کے باوجود تجھے یہ گلا ہے کہ ہم تیرے وفادار بندے نہیں ہیں ۔ مگر یہ جان لے کہ ہم وفادار نہیں تو تو نے ہماری کونسی دل دہی کی ے ۔ یعنی ہم مسلمانوں نے تو تیرے لیے ہر ممکن قربانی دی جب کہ تیرا سلوک نمایاں ہے ۔
Shikwa Band-13
Safah e dahar se baatil ko mitaya hum ne
Nau e insaan ko Ghulami se chhuraya hum ne
Tere Kaabe ko jabeenon se baasaya hum ne
Tere Quran ko seenon se lagaya hum ne
Phir bhi hum se yeh gila hai ke wafadar nahi
Hum wafadar nahi tu bhi to Dildar nahi
Shikwa Stanza-13
We who removed from this worlds book the leave which were with falsehood stained
We who from tyrant ignorance the poisoned human race unchained,
We who with myriad sajdas filled your Holy Kaaba hallowed shrine
Whose bosoms reverently held your great and glorious book divine,
If our med still the obloquy that we have shirked the faithful part
How then canst you make claim to be the kindly faith compelling heart?
جواب شكوه بند -13
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی، ایمان بھی ایک
معانی: منفعت: فائدہ ۔
مطلب: اے مسلمانو! تمہاری جو قوم ہے اس کا نفع نقصان بھی سب کے لیے یکساں ہے ۔ سب کا نبی بھی، دین بھی اور اسلام بھی ایک ہی ہے ۔ ان کے حوالے سے کسی فرقے یا قبیلے میں امتیاز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
حرم پاک بھی ، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک
مطلب: تمہارا تو خانہ کعبہ بھی سب کے لیے ایک ہی ہے ۔ پالنے والا اور قرآن بھی ایک ہی ہے ۔ یہ کتنی بڑی بات ہوتی جو مسلمان سب کے سب ایک ہی ہوتے ۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
معانی: فرقہ بندی: فرقہ پرستی ۔ ذاتیں : مراد ذات برادری کا تعصب ۔ پنپنا: پھلنا پھولنا ۔
مطلب: جب کہ وہ تو گروہ در گروہ بٹے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ان کے نفع نقصان کے علاوہ نبی، دین حرم پاک، خدا اور قرآن سب کے لیے ایک ہی ہے ۔ اس کے باوجود ملت اسلامیہ میں کہیں تو لوگ فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کہیں ذاتوں میں تقسیم ہو گئے ہیں َ ذرا یہ تو بتاوَ کہ کیا انہی حالات میں کوئی قوم پنپ سکتی ہے ۔
Jawab e Shikwa Band-12
Manfaataik hai is Qaum ki nuqsan bhi aik
Ek hi sab ka Nabi (S.A.W) Din bhi Iman bhi aik
Harm e paak bhi ‘Allah’ bhi Quran bhi aik
Kuch bari bat thi hote jo Musalmaan bhi aik
Firqa bandi hai kahin aur kahin zaatain hain
kya zamane mein panapne ki yehi batain hain?
Jawab e Shikwa Stanza-12
Your nations weal your nation whose in common you all share
You Prophet (S.W.A) and your creed the same the same truth you declare,
And one your KAABA one you GOD and one your great Quran
Yet still divided each from each live every Mussalman
You split yourselves in countless sects in classes high and low
Think you the world its gifts will still on such as you bestow?
شکوہ بند -14
امتیں اور بھی ہیں ، ان میں گنہ گار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں ، مستِ مئے پندار بھی ہیں
معانی: عجز: عاجزہ ۔ مست مئے پندار: گھمنڈ، غرور کی شراب کے نشے میں چور ۔
مطلب: اے خدا! بے شک اس دنیا میں ملت اسلامیہ کے علاوہ اور بھی کئی قو میں آباد ہیں ۔ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہیں جو انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انتہائی مغرور و متکبر واقع ہوئے ہیں ۔
ان میں کاہل بھی ہیں ، غافل بھی ہیں ، ہشیار بھی ہیں
سیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
مطلب: ان میں کاہل بھی ہیں ہوشیار بھی اور غفلت شعار بھی موجود ہیں ۔ اور صدہا ایسے لوگ ہیں جو تیرا نام لینا پسند نہیں کرتے اور تجھ سے کد رکھتے ہیں ۔
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
معانی: اغیار: جمع غیر، مراد دوسری قو میں ۔ کاشانوں : جمع کاشانہ، ٹھکانے ۔ برق گرنا: مراد مصیبتیں پڑنا ۔
مطلب: لیکن صورت یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں پر تو تیری رحمت کا نزول ہوتا ہے لیکن ہم مسلمانوں پر تو عذاب ہی نازل ہوتا رہتا ہے ۔
Shikwa Band-14
Ummatain aur bhi hain in mein gunahgar bhi hian
Ejaz wala bhi hain mast e mai e pindar bhi hain
In mein kahil hain ghafil bhi hain Hushyar bhi hain
Saikron hain ke tere naam se baizar bhi hain
Rehmatain hain teri aghiyar ke kashaanon par
barq girti hai to bechare musalmanon par
Shikwa Stanza-14
For there are those of other faiths among whom many sinners
Some humble other puffed with pride drunken in their effrontery,
If some have vision thousands are of little worth neglectful worst
And millions upon millions live from your dear glorious name averse,
Yet see how still your bounties rain on roofs unbelieving clans
While strikes your thunder bolt the homes of all forbearing Mussalmans.
جواب شكوه بند -14
کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
معانی: تارک: چھوڑنے والا، عمل نہ کرنے والا ۔ آئینِ رسولِ مختار: مراد شریعت محمدی ۔ معیار: کسوٹی ۔
مطلب : پیغمبر اسلام کے دینی اصولوں کو یہ بتاوَ ترک کرنے والا کون ہے کون ہے جو ذاتی منفعت کے لیے مصلحت کیشی کا شعار اپنائے ہوئے ہے ۔
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار
ہو گئی کس کی نگہِ طرزِ سلف سے بیزار
معانی: اغیار: غیر کی جمع، یعنی غیر مسلم قو میں ۔ طرزِ اسلاف: پرانے بزرگوں کے طور طریقے ۔
مطلب: غیر مسلموں کی بدعتوں نے کس کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ اس نے ایک طرح سے اپنا عقیدہ شمار کر لیا ہے اور کس کا دل ہے جو بزرگوں کے طرز عمل سے بیزار ہو چکا ہے ۔
قلب میں سوز نہیں ، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
معانی: سوز: عشق کی حرارت ۔ پاس: لحاظ ۔
مطلب: سچ پوچھو تو تم وہ لوگ ہو جن کے دل تپش سے خالی ہو چکے ہیں اور جن کی روح میں جیالوں کی طرح زندگی گزارنے کا احساس نہیں رہا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تمہیں تو آنحضرت کے پیغام کا بھی احساس نہیں رہا یعنی تم پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو بھی بھلا بیٹھے ہو ۔
Jawab e Shikwa Band-14
Kon hai taarik e aeen e Rasool e Mukhtar (S.A.W) ?
Maslihat waqt ki hai kis ke amal ka maayar
Kis ki ankhon mein samya hai shaar e aghyar
Ho gayi kis ki Nigah tarz e salaf se baizar?
Qalb mein souz nahin rooh mein ehsas nahi
Kuch bhi Paigham e Muhammad (S.A.W) ka tumhain pas nahi
Jawab e Shikwa Stanza-14
Who now forgetfully neglect my Rasool law sublime
And whose live write them clearly down as servers of the time,
To whom now other customs seem far nobler then their own?
By whom your great forefathers ways once followed are forsworn?
Your hearts are now of longing void your souls now know no zeal
You heed no more that message great which Ahmad (PBUH) did reveal.
شکوہ بند -15
بُت صنم خانوں میں کہتے ہیں ، مسلمان گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
معانی: صنم خانہ: بتوں کا گھر ۔ مسلمان گئے: مرد مسلمان مٹ گئے ۔ نگہبان: حفاظت کرنے والا، والے ۔
مطلب: چنانچہ اب تو کیفیت یہ ہو گئی ہے کہ ہمارے دشمن علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کا تو خاتمہ ہو گیا ان کو بڑی مسرت ہے کہ جو لوگ کعبہ کے نگہبان تھے وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے ۔
منزلِ دہر سے اونٹوں کے حُدی خوان گئے
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
معانی: منزل دہر: مراد زمانہ ۔ حُدی خوان: اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے خاص قسم کے اشعار پڑھنے والے ۔
مطلب: وہ لوگ جو قافلے میں اونٹوں کے ساتھ نغمے گاتے سفر کرتے تھے چلے گئے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اپنے ہمراہ قرآن کو بھی بغلوں میں دبائے روانہ ہو گئے ۔ مراد یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کی زوال پذیری پر دوسرے حریف بغلیں بجا رہے ہیں کہ یہ قوم تو قرآن کو بھی بغلوں میں دبا کر لے گئی ۔
خندہ زن کفر ہے، احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
معانی: خندہ زن: ہنسی اڑانے والا ۔ کفر: کافر طاقتیں ۔
مطلب: تو جانتا ہے کہ کفار ہماری تضحیک پر آمادہ ہیں لیکن تجھے شاید اپنی توحید کا کچھ بھی پاس نہیں ہے ۔
Shikwa Band-15
Boott sanam khanon mein kehte hain musalman gye
Hai khushi in ko ke Kaabe ke nigehban gye
Manzil e dehr se unthon ke hudi khawan gye
Apni baghlon mein dabaye howe Quran gayee
Khandah zan kufr hain ehsas tujhe hai ke nahi
Apni touheed ka kuch paas tujhe hai ke nahi
Shikwa Stanza-15
In idol houses hark they say behold the Muslim star sinks low
How glad they are that now at last your Kaaba brave protectors go,
They say the world is well rid now of hymn reciting camel men
Their Quran folded in their arms at last they them from our ken,
Thus they rejoice who own you not yet still unmindful seemest you
Of yours own one ness your Tawhid are you so unrewarding now?
جواب شكوه بند -15
جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریب
زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریب
معانی: صف آرا: نماز کی خاطر صف بندی کرنے والے ۔
مطلب: یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ مساجد کا جائزہ لیں تو اس امر کا پتہ چلے گا کہ وہاں نماز کی ادائیگی کے لیے صرف غریب طبقے کے لوگ ہی وارد ہوتے ہیں ۔
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریب
مطلب: اگر کوئی ہمارا (خدا) کا نام لیتا ہے تو وہ بھی غریب ہی ہوتا ہے اور اگر کسی نے اپنے عمل سے تمہارا اور ملت اسلامیہ کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے تو وہ غریب ہی ہے ۔
امراء نشہَ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملتِ بیضا غُربا کے دم سے
معانی: ملت بیضا: روشن قوم، ملت اسلامیہ ۔
مطلب: جہاں تک دولت مند لوگوں کا تعلق ہے وہ دولت کے نشے میں ہم سے قطعاً غافل ہو چکے ہیں چنانچہ دیکھا جائے تو ملت مسلم صرف اور صرف غریب اور نادار لوگوں کے دم سے ہی زندہ ہے ۔
Jawab e Shikwa Band-15
Ja ke hote hain Masjid mein saf ara to ghareeb
Zehmat e roza jo karte hain gawara to ghareeb
Naam leta hai agr koi hamara to ghareeb
Pardah rakhta hai agr koi tumhara to ghareeb
Umra nasha e doulat mein hain ghafil hum se
Zinda hai millat e baiza ghurba ke dam se
Jawab e Shikwa Stanza-15
If worships echoes ring in Mosques it is the poor who pray
If any fasting hardship bear it is the poor today.
It is the humble and the poor who still my name esteem
There is the world their is the deed yours the shame they redeem,
The rich are drunk with wine of wealth their God they hardly know
It is because the poor yet live that well of faith still flow
Click Here Full SHIKWA JAWAB E SHIKWA