Shikwa Jawab e Shikwa Allama Iqbal Part – 4
Shikwa Allama Iqbal
شکوہ بند -16
یہ شکایت نہیں ، ہیں ان کے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور
معانی: پاس: لحاظ ۔ معمور: بھرے ہوئے ۔
مطلب: یہ کوئی شکایت نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ تو نے ان لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے اور ان کے خزانے بھر دیئے ہیں جنھیں کسی محفل میں بات کرنے کا شعور بھی نہیں ہے ۔
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
اور بے چارے مسلماں کو فقط وعدہَ حور
معانی: قہر: غضب، دکھ ۔ حور و قصور: خوبصورت عورتیں اور شاندار عمارتیں ۔ وعدہَ حور: مراد آخرت، بہشت میں حوریں دینے کا وعدہ ۔
مطلب: افسوس محض اس بات کا ہے کہ کافروں کو تو اس دنیا میں ہی تو نے محلات اور لونڈیاں عطا کی ہیں جب کہ ہم مسلمانوں کو محض وعدہَ حور پر ہی ٹرخا دیا ہے ۔ اور وہ حوریں بھی بہشت میں داخل ہونے پر مشروط ہیں ۔
اب وہ الطاف نہیں ، ہم پہ عنایات نہیں
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں
معانی: الطاف: جمع لطف، مہربانیاں ۔ مدارات: خاطر تواضع ۔
مطلب: آخر ہم سے کیا خطا ہو گئی جو پہلے کی طرح ہم تیرے لطف و کرم سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں ۔
Shikwa Band-16
Ye Shikayatt nahi hain un ke khazane maamur
Nahi Mehfil mein jinhain bat bhi karne ka shaur
Qehar to ye hai ke Kafir ko milain hoor-o-Qasoor
Aur bechare Musalman ko faqat wada e hoor
Ab woh altaf nahi hum pe anyat nahi
Bat ye kya hai ke pehli si madarrat nahi
Shikwa Stanza-16
That ignorant men who lack the grace of to open their lips in conclave high
Should have their coffers treasure filled is not the burden of our sigh
But O that this worlds best should fall to unbelievers from your hand
While we on promises are fed of pleasures in shadowy land,
Where are those favors’ which you once upon our grateful hearts didst pour?
Why cherishes you not O Lord the faithful as in days of yore?
جواب شكوه بند -16
واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برقِ طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
معانی: واعظِ قوم: ملت کے مذہبی رہنما ۔ پختہ خیالی: اسلامی عقیدوں پر مضبوطی سے قائم رہنے کی حالت ۔ برق طبعی: تقریر میں جلد اثر کرنے والی کیفیت ۔ شعلہ مقالی: گفتگو، تقریر میں عشق کی گرمی ۔
مطلب: قوم کو جو لوگ وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں دیکھا جائے تو ان میں پختہ خیالی کا فقدان ہے ۔ نہ ان کی طبیعتوں میں بجلی کی سی تڑپ ہے نا ہی گفتگو میں کسی قسم کی تاثیر باقی رہی ہے ۔ وہ شعلہ بیانی کا جوہر دیکھا جائے تو باجود ہو چکا ہے ۔
رہ گئی رسمِ اذاں ، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
معانی: روحِ بلالی: حضرت بلال کا سا جذبہ عشق ۔ فلسفہ: مراد خالی باتیں ہی باتیں ۔ تلقین غزالی: مشہور فلسفی اور صوفی امام غزالی کا عشق حقیقی سے متعلق درس ۔
مطلب: اس میں حضرت بلال کی سی روح اور جذبے کا عمل دخل نہیں رہا یعنی جب بلال اذان دیا کرتے تھے تو آنحضرت خود ان کے لحن کو پسند فرمایا کرتے تھے ۔ اسی طرح فلسفہ تو باقی رہ گیا لیکن امام غزالی کی طرح اس کی توجیہہ کرنے والے باقی نہیں رہے ۔
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
معانی: مرثیہ خواں : دکھ کا اظہار کرنے والی ۔ صاحب اوصاف حجازی: صحیح اسلامی خوبیاں اور طور طریقے رکھنے والے ۔
مطلب: اب تو مساجد اس امر پر مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی باقی نہیں رہے یعنی وہ لوگ بھی موجود نہیں جو حجازیوں کے سے وصف رکھتے تھے ۔
Jawab e Shikwa Band-16
Waaiz e Qoum ki woh pukhta khayali na rahi
Barq taba ee na rahi shaola maqali na rahi
Reh gayi rasm e azan rooh e bilali na rahi
Falsafa reh gaya talqeen e ghazali na rahi,
Masjidain marsiya khwan hain ke namazi na rahe
Yani woh sahib e ausaf e hijazi na rahe
Jawab e Shikwa Stanza-16
That judgment ripe is no more theirs who play your preachers role
Nor kindling accents from their lips reveal the flaming soul,
Azan yet sounds but never now like bilal s soulfully
Philosophy conviction less now mourns its ghazali
Untried by praying feet the mosques lament their emptiness
For gone are those exemplars great of Arab godliness.
شکوہ بند -17
کیوں مسلمانوں میں ہے دولتِ دنیا نایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب
معانی: نایاب: نہ ملنے والی، غائب ۔ حد حساب نہ ہونا: بہت زیادہ ہونا ۔
مطلب: آخر مسلمانوں نے کون سا جرم کیا ہے کہ وہ دنیاوی دولت سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ جب کہ تیرے اختیار میں تو اتنا کچھ ہے جس کی کوئی حد نہ حساب ہو سکتا ہے ۔
تو جو چاہے تو اُٹھے سینہَ صحرا سے حباب
رہروِ دشت ہو سیلی زدہَ موجِ سراب
معانی: سینہَ صحرا سے: مراد ریگستان میں سے ۔ حباب: پانی کا بلبلہ ۔ رہروِ دشت: جنگل میں چلنے والا ۔ سیلی زدہ: تھپیڑے کھانے والا ۔ سراب: وہ چمکتی ریت جو دور سے پانی دکھائی دیتی ہے ۔
مطلب: تو اتنی قدرت رکھتا ہے کہ چاہے تو دشت صحرا میں بھی سمندر کی مانند بلبلے رقصاں ہوں اور صحرا میں سفر کرنے والے مسافر کے سامنے تو چاہے تو سراب کے بجائے اتنا سیلاب آ جائے کہ مسافر کو ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو جائے ۔
طعنِ اغیار ہے رُسوائی ہے، ناداری ہے
کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے
معانی: طعن: طنز ۔ خواری: بے عزتی ۔
مطلب: ہم تو اغیار کے طعنوں سے بھی ہم کنار ہیں اور رسوائی و ناداری سے بھی دوچار ہیں ۔ اتنا تو بتا دے کہ تجھ پر مر مٹنے کا صلہ کیا خوار و برباد ہونے میں ہی ملتا ہے ۔
Shikwa Band-17
Kya Musalmanon mein hai doulat e dunya nayaab
Teri Qudrat to hai woh jis ki na had hain na hisab
Tu jo chahe to uthe seena e sehra se habab
Rahroo e dasht ho seeli zada mouj e saraab
Taan e aghiyar hai ruswai hai nadaari hai
Kya tere naam pe marna ka Iwaz khwari hai?
Shikwa Stanza-17
Why from the bounties of this life the faithful now no profit gain
Though still almighty you remains and limitless your remain?
If you but will fountains can flow from barren desert and parched sands
And mirage bound a traveler be while walking through green forest lands,
Yet foe men taunted grace deprived and poorest of the poor are we
Is this your recompense to those who sacrifice their live for you.
جواب شكوه بند -17
شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
معانی: نابود: فنا ۔ تھے بھی کہیں مسلم موجود: یعنی کہیں بھی نہیں تھے ۔
مطلب: ہر طرف اس امر کا شور و غوغا عام ہے کہ اس دنیا میں جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے بحیثیت قوم اب ناپید ہو چکے ہیں جب کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ کیا کہیں کسی مقام پر مسلمان موجود بھی تھے ۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں ، جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
معانی: نصاریٰ: جمع نصرانی، عیسائی ۔ تمدن: شہری یا عام زندگی گزارنے کے طور طریقے ۔
مطلب: اس لیے کہ اے اسلام مے نام لیواوَ! دیکھا جائے تو تم وضع قطع میں تو عیسائیوں کے اور رہن سہن کے حوالے سے ہندووَں کے پیروکار نظر آتے ہو ۔ سچ پوچھو تو تم ایسے مسلمان ہو جنہیں دیکھ کر یہودی شرما کر رہ جائیں ۔
یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاوَ تو مسلمان بھی ہو
معانی: یوں تو سید ۔ ۔: یعنی برادری اور قبیلے کے حوالے سے اپنی پہچان کرانے والے ۔
مطلب: یہ تسلیم کہ ذات پات کے حساب سے تو تم میں سید بھی موجود ہیں ، مرزا بھی افغان بھی ہیں لیکن ذرا یہ بتاوَ کہ سبھی کچھ ہونے کے باوجود کیا تم مسلمان بھی ہو ۔
Jawab e Shikwa Band-17
Shor hai ho gaye Dunya se Musalman nabood
Hum ye kehte hain ke tha b kahin Muslim Maujood,
Waza mein tum ho nisara tau tamaddun mein hanood
Yeh Musalman hain jinhain dekh ke shrmaen yahood?
Yu to syed b ho Mirza b ho Afqhan b ho
Tum sabhi kuch ho batao to Musalma b ho
Jawab e Shikwa Stanza-17
It is said’ The Muslims quit this world their days are on the wane
The Muslims died out long ago such a lament is vain,
From Christians you have learnt your style your culture from Hindus
How can a race as Muslims pass who shame even the Jews?
You are know as Syed and Mughal you call yourselves pathan
But can you truly claim as well the name of Mussalman?
شکوہ بند -18
بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا
معانی:خیالی: جس کا کوئی وجود نہ ہو ۔
مطلب: ایک زمانہ تھا جب دنیا پر مسلمانوں کا تسلط تھا جب کہ یوں لگتا ہے کہ اب وہ غیر مسلموں کو پسند کرنے لگی ہے ہمارے لیے تو بس ایک خیالی دنیا ہی رہ گئی ہے ۔ ہم تو اس منظر سے ہٹ گئے ۔
ہم تو رخصت ہوئے ، اوروں نے سنبھالی دنیا
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا
معانی: سنبھالی دنیا: مراد دنیا پر حکمران ہوئے ۔
مطلب: اب دوسروں نے دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا ہے ۔ اس صورت میں یہ گلہ نہ کرنا کہ دنیا سے توحید مٹ چکی ہے ۔
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے
مطلب: ہم تو صرف اس لیے جی رہے ہیں کہ تیرا نام باقی رہے پر اتنا بتا دے کہ ساقی کے بغیر جام کی حقیقت کیا ہے ۔
Shikwa Band-18
Bani ayhar ki ab chahne wali dunya
Reh gayi apne liye aik khiyali Dunya
Hum to rukhsat howa Auron ne sanbhali Dunya
Phir na kehna howi touhed se Khali Dunya
Hum tau Jeete Hain ke Duniya mein tera naam rahe
Kahin mukin hai saqi na rahe jaam rahi?
Shikwa Stanza-18
Your world how eagerly today on strangers all its grace bestows
For those who walk your chosen way a world of dreams its glamour throws
So be it then so let us pass let other nations hold the away
When we are gone reproach us not that Twahid to has passed away,
We live here only that your name may live here in men’s minds enshrined
Can Saki bid his last adieu and leave loves cup and wine behind?
جواب شكوه بند -18
دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک
عدل اس کا تھا قوی ، لوثِ مراعات سے پاک
معانی: لوث: آلودگی، عیب، ملاوٹ ۔ مراعات: ایک دوسرے کا لحاظ(جس سے انصاف متاثر ہوتا ہے) ۔
مطلب: وہ وقت بھی تھا کہ جب خطاب کے دوران مسلمان مقرر کی تقریر صداقت اور جرات و بیباکی کی آئینہ دار ہوا کرتی تھی ۔ عدل و انصاف کے دوران ہر قسم کی رعایتوں سے گریز کرتے تھے ۔
شجرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نمناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک
معانی: شجرِ فطرت: مزاج، سرشت کا درخت، مراد مزاج ۔ نمناک: تروتازہ ۔ فوق الادراک: جس کے عظمت کو سمجھنا عقل سے باہر ہے ۔
مطلب: وہ فطری اعتبار سے اس درخت کی مانند تھی جو صدا نم آلود رہتا ہے ۔ شرم و حیا اس کے زیور تھے ۔ جہاں تک جرات و شجاعت کا تعلق ہے اس کی صلاحیتوں کا عقل و شعور تصور بھی نہیں کر سکتے ۔
خود گدازی نمِ کیفیتِ صہبایش بود
خالی از خویش شُدن صورتِ مینایش بود
مطلب: اس شعر میں فی الواقع آنحضرت کے بعد کا جو دور تھا اس کے اولو العزم اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ باہم ایثار سے کام لیتے تھے ۔ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے تھے ۔ ہمیشہ ضرورت مندوں کے کام آتے اور اپنے عمل کو ذاتی مفادات سے آلودہ نہیں کرتے تھے ۔
Jawab e Shikwa Band-18
Dam e taqreer thi Muslim ki sadaqt bebak
Adal uss ka tha Qawi loos e mara at se pak
Shajar e fitrat e Muslim tha haya se nam nak
Tha shujat mein woh ek hasti e fouq ul idraak,
Khud gudazi nam e kaifat e sehbayesh bood
Khali az khawaish shudan soorat e meenayesh bood
Jawab e Shikwa Stanza-18
The Muslim was sincere of speech of fear his voice was free
Just staunch he scorned the slightest breath of partiality,
In nature like a tree kept fresh by modesty most rare
Yet braver than the bravest he intrepid past compare,
Like wine upon the drinkers lips his joy in losing lay
As the cup pours its liquor out he poured his self away.
شکوہ بند -19
تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں ، صبح کے نالے بھی گئے
معانی: محفل جانا: مراد مسلمانوں کا غلام ہو جانا ۔ چاہنے والے: یعنی مسلمان ۔ شب کی آہیں : رات کے وقت اللہ کے حضور گڑگڑانا ۔ صبح کے نالے: صبح کے وقت عبادات وغیرہ ۔
مطلب: اے مالک دوسرا! اب تو صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ تو نے جو محفل آراستہ کی تھی اس کا خاتمہ بھی ہو گیا اور تیرے چاہنے والے بھی رخصت ہو گئے ۔ تیرے عشاق اس محفل میں شب بھر آہیں بھرتے تھے اور صبح کے وقت نالہ و فریاد کرتے تھے لیکن ان کے خاتمے پر اب یہ سب کچھ بھی ختم ہو کر رہ گیا ۔
دل تجھے دے بھی گئے، اپنا صلہ لے بھی گئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
صلہ: بدلہ، انعام ۔
مطلب: ان چاہنے والوں نے تجھے اپنا محبوب بنایا اور اس کا صلہ بھی حاصل کر لیا ان کا دور اس قدر مختصر رہا جیسے کوئی محفل میں آ کے بیٹھا ہی ہو تو اس کو وہاں سے نکال دیا جائے ۔
آئے عشاق گئے وعدہَ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
معانی: عشاق: جمع عاشق، چاہنے والا ۔ وعدہَ فردا: مراد قیامت کے دن کا قول و قرار ۔ رخِ زیبا: خوبصورت چہرہ ۔
مطلب: جو چاہنے والے تیرے جلووں کی تمنا لے کر آئے تھے انہیں تو تو نے وعدہَ فردا پر ٹال دیا ۔ اب ان کی واپس مشکل ہے خواہ انہیں کسی طور پر بھی تلاش کیا جائے ۔
Shikwa Band-19
Teri mehfil b gai chahne wal b gaye
Shab ki ahen b gaien subah ke nale b gaye,
Dil tujhe debhi gaye apna sila le b gaye
Aa ke baithe b na tha ke Nikaale b gaye,
Aa ushaq gaye waada e farda lekar
Ab unhen dhoond charg e rukh e zeba lekar,
Shikwa Stanza-19
You court yard empties they depart who came to worship and adore
The midnights sights the dawns lament now you wilt miss for evermore,
They came they gave their hearts to you they had their recompense and went
But hardly they had seated been when from your presence they were sent,
They came glad lovers begging love with future promise turned away
Go shine your beauty lamp about and seek and win them if you may
جواب شكوه بند -19
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینہَ ہستی میں عمل جوہر تھا
معانی: رگِ باطل: کفر کی رگ ۔ نشتر: وہ اوزار جس سے رگ کو چھیڑ کر گندا خون نکالا جاتا ہے ۔ آئینہ ہستی: زندگی کا آئینہ ۔ جوہر: آئینے کی چمک ۔
مطلب: اس عہد میں صورت یہ تھی کہ ہر مسلمان کفر و باطل کے سینوں میں نشتر کی مانند تھا ۔ ان میں ہر ایک کے کردار میں عمل بنیادی جوہر کی حیثیت رکھتا تھا ۔
جو بھروسا تھا اُسے قوتِ بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھا
معانی: قوت بازو: بازووَں کی طاقت، مراد جہاد ۔
مطلب: انہیں اگر کسی پر بھروسہ بھی تھا تو اپنے قوت بازو پر تھا ۔ حقیقت یہ ہے عصر موجود کے مسلمانوں کو تو محض موت سے ڈر لگتا ہے جب کہ ماضی کے مسلمان تو محض خوف خدا کے قائل تھے ۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر اَزبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو
معانی: ازبر: زبانی یاد ۔
مطلب: سو یہ بتاوَ کہ اگر بیٹے کو باپ کی علمیت کا ادراک نہ ہو اس صورت میں وہ کیسے باپ کا وارث بن سکتا ہے ۔
Jawab e Shikwa Band-19
Har Musalman rag e batil ke liya nashtar tha
Us ke aeena e hasti mein amal jouhar tha
Jo bharosa tha use Quwwat e bazoo par tha
Hai tumhain mout ka dar us ko Khuda ka dar tha
Baap ka ilm na bete ko agr Azabar ho
Phir pisar Qabil e Miraas e Pidar kyun kar ho
Jawab e Shikwa Stanza-19
What the knife is to cankerous growths to all untruth was he
His actions in life mirror shone like light vibratingly
If he was confident of ought it was his right arms might
He feared but God while thoughts of death your craven souls affright
When sons lacking their father worth are neither skilled no sage
With what deserving can they claim their father heritage,
شکوہ بند -20
درد لیلیٰ بھی وہی، قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل میں رمِ آہو بھی وہی
معانی: دردِ لیلیٰ: مراد محبوب حقیقی، خدا کی یاد ۔ قیس کا پہلو: اللہ کے عاشقوں کا دل ۔ نجد: لیلیٰ کا وطن ۔ دشت و جبل: صحرا اور پہاڑ ۔ رمِ آہو: ہرن کا دوڑنا، اللہ کے عاشقوں کا صحراؤں میں پھرنا ۔
مطلب: لیلیٰ کا درد بھی وہی ہے اور مجنوں کا پہلو بھی وہی ہے صحرائے نجد میں آج بھی ماضی کی طرح ہرن چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہیں ۔
عشق کا دل بھی وہی، حُسن کا جادو بھی وہی
اُمتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تو بھی وہی
معانی: عشق : مراد عاشق یعنی مومن ۔ حسن کا جادو: مراد اسلام کی دل کشی ۔ احمد مرسل: حضور نبی کریم جنھیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ۔
مطلب: چاہنے والے کا دل بھی پہلے جیسا ہے اور حسن کا جادو بھی وہی ہے ۔ جب کہ پیغمبر آخر الزماں کی امت بھی وہی ہے اور اے خدا تو بھی وہی ہے کہ جو تھا ۔
پھر یہ آزردگی غیرِ سبب کیا معنی
اپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنی
معانی: آزردگی غیر سبب: بلاوجہ کی ناراضی ۔ کیا معنی: کیا مطلب، یعنی کیوں ۔ شیدا: عاشق ۔ چشم غضب: غصے کی آنکھ ۔
مطلب: اس کے باوجود مسلمانوں سے یہ ناراضگی کیسی ہے اور اپنے چاہنے والوں سے برا سلوک کیوں ہو رہا ہے ۔
Shikwa Band-20
Dard e laila b wohi Qais ka pahlu b wohi
Nejd k dasht o jabal mein ram e ahoo b wohi,
Ishq ka dil b wohi husan ka jaado b wohi
Ummat e Ahmed e Mursil b wohi tu b wohi
Phir ye azurdagi e ghair sabah kya maani
Apne Shaidaon pe ye chashm e chazab kiya maani?
Shikwa Stanza-20
The love of Layla burneth still and Majnun passions yearning knows
In hill and valley of the Nejd the fleet gazelle still leaping goes,
The soul of love is still the same still beauty magic charms enthrall
Your Ahmad freemen still abide and you art there the soul of all
Then stranger why estranged today the bond of love Twixt you and yours?
Upon the Faithful O unkind why frowns your eye of warth divine?
جواب شكوه بند -20
ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے
معانی: ذوقِ تن آسانی: آرام طلبی اور سستی کا شوق ۔
مطلب: تم میں سے ہر کوئی سہل انگار ہے اور محض عیش و آرام کی زندگی کا خواہاں ہے ۔ مجھے بتاوَ کہ تم جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہو کیا مسلمانی کا یہی انداز ہے
حیدری فقر ہے، نے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے
معانی: حیدری فقر: حضرت علی کی سی دنیاوی لالچ سے بے نیازی ۔ دولتِ عثمانی: حضرت عثمان کا سا مال و دولت ۔ کیا نسبت روحانی ہے: یعنی کوئی روحانی تعلق نہیں ہے ۔
مطلب: دیکھا جائے تو نہ تمہاری طبعیت میں حضرت علی کا سا فقر اور درویشی ہے نا ہی حضرت عثمان جیسی امیرانہ شان و شوکت ہے ۔ اس صورت میں کیا اس امر کی جوابدہی کر سکو گے کہ اپنے اسلاف کے ساتھ تمہاری کیا روحانی نسبت ہے ۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
معانی: مسلماں ہو کر: یعنی اسلام پر پوری طرح عمل کر کے ۔ تارکِ قرآن: قرآن چھوڑنے والا ۔
مطلب: جہاں تک تمہارے اسلاف کا تعلق تھا تو وہ بحیثیت مسلمان معزز و محترم رہے جب کہ تمہاری حالت یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات ترک کر کے تم دنیا میں خوا ر اور رسوا ہو رہے ہو ۔
Jawab e Shikwa Band-20
Har koi mast e mai e zauq tan asani hai
Tum Musalman ho ye andaz e Musalmani hai?
Haidari faqr hai ne doulat e Usmani hai
Tum ko Aslaaf se kya nisbat e rohani hai?
Woh zaman mein mo azzaz tha Musalman ho kar
Aur tum khawar howe Taarik e Quran ho kar
Jawab e Shikwa Stanza-20
He love of ease like fumes of wine makes sots of you today
How dare you pass as Mussalmans? That is not Islams way’
Nor Usmans treasures chest you own nor Ali s empty bowl
With spirits of such great forbears what kinship has your soul