Himala | Allama Iqbal Peom – Bang-e-Dra 001

WhatsApp Channel Join Now
 

Himala

Baang-e-Dara : 1

Himala | Allama Iqbal Peom – Bang-e-Dra 001

Hamala

Himala



اے ہمالہ اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
معانی: ہمالہ: برصغیر پاک و ہند کا مشہور پہاڑ، ہمالیہ ۔ فصیل: شہر کی چاردیواری ۔ کشور: ملک ۔
مطلب: اقبال کوہ ہمالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو وہ بلند و بالا پہاڑ ہے جو نہ صرف یہ کہ مملکت ہندوستان کے محافظ اور فصیل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تیری چوٹیوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان بھی جھک کر چوم رہا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تیری بلندی آسمان سے بھی قربت رکھتی ہے ۔


تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں
معانی: دیرینہ روزی: بہت پرانے زما نے کا ہونا ۔ جواں ہے: مراد حالت جوں کی توں ہے ۔ گردشِ شام و سحر: یعنی وقت کا چکر، گزرنے کا عمل ۔
مطلب: اے ہمالہ تیر ا وجود ہر چند کہ ابتدائے آفرینش سے قائم ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ تو اس شام و سحر کی گردش کے مابین اسی طرح زندہ و ایستادہ ہے جس طرح کہ ابتدا میں تھا اور لاتعداد صدیاں بیت جانے کے باوجود تجھ میں کسی کمزوری کے آثار نہیں پائے جاتے ۔


ایک جلوہ تھا کلیمِ طورِ سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
معانی: کلیم: مراد حضرت موسیٰ ۔ طورِ سینا: وہ پہاڑ جہاں حضرت موسیٰ کو خدا کا جلوہ نظر آیا ۔ سراپا: پورے طور پر ۔ چشمِ بینا: مراد بصیرت والی آنکھ ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ صاحب کہتے ہیں کہ تیرا وجود تو ان کے لیے بھی ایک خصوصی حیثیت کا حامل ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ہر چشم بینا کے لیے تو ایک تجلی کا مظہر ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تیری بلندی اور سرسبز وادیاں انسان کے لیے ایک عجوبہ کی طرح ہیں ۔


امتحانِ دیدہَ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو، دیوارِ ہندوستاں ہے تو
معانی: دیدہ: آنکھ ۔ ظاہر بیں : صرف اوپر اوپر دیکھنے والی ۔ کوہستاں : پہاڑ ۔ پاسباں : حفاظت کرنے والا، چوکیدار ۔ دیوار: رکاوٹ جو دشمن سے حفاظت کی نشانی ۔
مطلب: یہ درست ہے اے ہمالہ تو بظاہر ایک پہاڑ ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ تو ہمارا محافظ بھی ہے اور ہندوستاں کے لیے ایک حفاظتی دیوار کی حیثیت رکھتا ہے ۔


مطلعِ اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہِ دل دامن کشِ انساں ہے تو
معانی: مطلع ِ اول: غزل کا پہلا شعر ۔ سوئے خلوت گاہ: تنہائی کی جگہ کی طرف ۔ دامن کش: مراد اپنی طرف توجہ دلانے والا ۔
مطلب: اگر تجھے ایک شاعر کا دیوان تصور کر لیا جائے تو اس کا مطلع یعنی اولین شعر آسمان کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔ تیرا وجود تو ہر انسان کے لیے باعث کشش ہے جس کی قربت اسے سکون فراہم کرتی ہے ۔


برف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سَر
خندہ زن ہے جو کُلاہِ مہرِ عالم تاب پر
معانی: دستارِ فضیلت: بڑائی، عظمت کی پگڑی ۔ خندہ زن ہے: مرا د مذاق اڑا رہی ہے ۔ مہر: سورج ۔ عالم تاب: دنیا کو روشن کرنے والا ۔
مطلب: تیر ی سطح اور چوٹیوں پر جو برف پڑی رہتی ہے وہ اس سفید رنگ کی دستار فضیلت کے مانند ہے جو بزرگوں کے سروں پر احتراماً باندھی جاتی ہے ۔ یہ دستارِ فضیلت تو سورج کی زریں کلاہ پر بھی خندہ زن نظر آتی ہے ۔


تیری عمرِ رفتہ کی اک آن ہے عہدِ کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
معانی: عمرِ رفتہ: گزری ہوئی عمر، زندگی ۔ عہدِ کہن: پرانا، قدیم زمانہ ۔ خیمہ زن: خیمہ لگائے ہوئے، پڑاوَ ڈالے ہوئے ۔
مطلب: اے ہمالہ! تیری گزری ہوئی عمر کا دور اس قدر طویل ہے کہ عہد ماضی کی شان وشوکت کا مظہر بن گیا ہے ۔ تیری بلند و بالا چوٹیوں کا سایہ تیرے گردوپیش کی وادیوں پر اس طرح پڑ رہا ہے جیسے وہاں خیمے آویزاں ہوں ۔


چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرمِ سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
معانی: سخن: بات، باتیں ۔ پہنائے فلک: آسما ن کا پھیلاوَ، وسعت ۔
مطلب: یہی بلند و بالا چوٹیاں یوں لگتا ہے جیسے آسمان پر موجود ستاروں سے باتیں کر رہی ہوں ۔ یہ درست ہے کہ تو زمین پر ایستادہ ہے لیکن تیری بلندی آسمان کی وسعتوں سے ہم کنار نظر آتی ہے ۔


چشمہَ دامن ترا آئینہَ سیال ہے
دامنِ موجِ ہَوا جس کے لیے رُومال ہے
معانی: چشمہَ دامن: وادی میں بہنے والا چشمہ ۔ آئینہ سیال: چلتا، بہتا ہوا آئینہ ۔ دامن: پلو ۔ موجِ ہوا: ہوا کی لہر ۔
مطلب: تیرے دامن میں پانی کے جو چشمے رواں دواں ہیں وہ اس قدر شفاف ہیں جس طرح سیال آئینے ہوں ۔ اور یہاں جو ہوا چلتی ہے وہ ان چشموں کے پانیوں کو مزید شفاف بناتی ہے ۔


ابر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برقِ سرِ کہسار نے
معانی: رہوارِ ہوا: ہوا کا گھوڑا ۔ برق: بجلی ۔ سرِ کہسار: پہاڑ کے اوپر ۔
مطلب: اے ہمالہ! تیرے گردوپیش اور ماحول کو دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ یہاں جو ہوا رواں دواں ہے وہ ایک تیز گھوڑے کی مانند ہے ۔ اس کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے تیری چوٹیوں پر چمکنے والی بجلیوں نے بادلوں کے ہاتھوں میں ایک تازیانہ دے دیا ہے ۔


اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی، جسے
دستِ قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
معانی: بازی گاہ: کھیل کا میدان ۔ دست: ہاتھ ۔
مطلب: کیا ایسا تو نہیں کہ تیرا دامن بھی ایک کھیل کے میدان کی طرح ہے ۔ ایسا میدان جسے قدرت نے خود اپنے ہاتھوں سے بڑی صناعی کے ساتھ بنایا ہے ۔


ہائے کیا فرطِ طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیلِ بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
معانی: ہائے: اس میں حیرانی کا اظہار ہے ۔ فرطِ طرب: بے حد خوشی ۔ فیل: ہاتھی ۔ بے زنجیر: جسے زنجیر نہ ڈالی گئی ہو ۔
مطلب: یہاں کس جوش و مسرت کے ساتھ بادل اس طرح محو پرواز ہیں جیسے وہ بے زنجیر ہاتھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔


جُنبشِ موجِ نسیمِ صبح، گہوارا بنی
جھومتی ہے نشہَ ہستی میں ہر گل کی کلی
معانی: موجِ نسیمِ صبح: صبح کی ہوا کی لہر ۔ گہوارا: جھولا ۔ جھومنا: خوشی یا مستی کی حالت میں سر اور ہاتھوں کو ہلانا ۔ نشہَ ہستی: زندگی کی مستی ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ یہ ایسا ماحول ہے جسکی صبح کی ہوا کی جنبش ایک گہوارے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ایسا گہوارہ جہاں کلیاں زندگی کے نشے میں جھومتی نظر آتی ہیں ۔


یوں زبانِ برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دستِ گل چیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
معانی: برگ: پتا ۔ گویا: بولنے والی ۔ دستِ گل چیں : پھول توڑنے والے کا ہاتھ ۔ جھٹک: ہاتھ مارنے کی حالت ۔
مطلب: یوں لگتا ہے کہ کلیوں کی خامشی اپنی پتیوں کی زبان سے یوں کہتی ہو کہ میرا تو پھول توڑنے والے سے بھی کبھی واسطہ نہیں پڑا ۔ مراد یہ ہے کہ ہمالہ کی اس بلندی تک انسان کی رسائی ممکن نہیں جہاں کلیاں کھل رہی ہیں ۔


کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کنجِ خلوت خانہَ قدرت ہے کاشانہ مرا
معانی: کنج: کونہ ۔ کاشانہ: ٹھکانا ۔
مطلب: ہمالہ زبان حال سے یوں گویا ہوتا ہے کہ میری خامشی یہی دراصل میری داستان حیات کی مظہر ہے اور قدرت کا بخشا ہوا یہ گوشہ ہی دراصل میری پرسکون آماجگاہ ہے ۔


آتی ہے ندی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
معانی: فرازِ کوہ: پہاڑ کی چوٹی ۔ کوثر و تسنیم: بہشت کی دو ندیوں کا نام ۔
مطلب: ہمالیہ کی بلندیوں سے ندی کی شکل میں جو پانی لہریں مارتا نیچے آتا ہے اس کی آواز سننے والوں کو یوں محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی گا رہا ہو ۔ ندی کا منظر اس درجے خوبصورت ہوتا ہے کہ کوثر و تسنیم کی موجیں بھی اس سے شرما جائیں ۔


آئنہ سا شاہدِ قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگِ رہ سے گاہ بچتی، گاہ ٹکراتی ہوئی
معانی: شاہدِ قدرت: قدرت کا محبوب ۔ سنگِ راہ: راستے کاپتھر ۔ گاہ: کبھی ۔
مطلب: یوں لگتا ہے کہ یہ ندی مناظر فطرت کے مشاہدہ کرنے والے کو آئینہ دکھاتی ہوئی اپنی منزل کی طرف گامزن ہے ۔ اس کا اندازہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ راہ میں آنے والے سنگریزوں سے کبھی بچ کر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو کبھی ان سے ٹکرا بھی جاتی ہے ۔


چھیڑتی جا اس عراقِ دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
معانی: عراقِ دل نشیں : مراد دل میں اثر پیدا کرنے والا راگ ۔
مطلب: تو اسی طرح دل لبھانے والی موسیقی کے ساز کو چھیڑتی جا کہ میرا دل تیری اس صدا کی معنویت سے پوری طرح آشنا ہے ۔


لیلیِ شب کھولتی ہے آ کے جب زلفِ رسا
دامنِ دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
معانی: چھیڑنا: بجانا ۔ لیلیِ شب: رات کی لیلیٰ ۔ زلفِ رسا: لمبی اور گھنی زلفیں ، مرادرات کی تاریکی ۔
مطلب: جب رات کی محبوبہ اپنی لمبی لمبی زلفیں دراز کرتی ہے تو ان لمحات میں آبشاروں کی صدائیں انتہائی دلکش اور دلنواز محسوس ہوتی ہیں ۔


وہ خموشی شام کی جس پر تکلُّم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھایا ہوا
معانی: تکلم: گفتگو، بولنا ۔ تفکر: سوچ میں ڈوبے ہونے کی حالت ۔
مطلب: کہ ان لمحوں کی خامشی پر گفتگو بھی قربان کی جا سکتی ہے ۔ اس لمحے یوں لگتا ہے کہ درخت بھی کسی سوچ میں مبتلا ہیں مراد یہ ہے کہ پورا منظر خامشی اور سکوت سے ہم کنار ہے ۔


کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفق کہسار پر
خوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
معانی: شفق: صبح اور شام کی سرخی ۔ غازہ: سرخی ۔ رخسار: گال ۔
مطلب: ہمالہ پر سرشام شفق کا منظر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فطرت شاید اس کے چہرے پر رنگا رنگ سرخی مل رہی ہے اور یہ غازہ بے حد خوشنما محسوس ہوتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ جب شام کے وقت شفق کی سرخی ہمالہ پر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فطرت نے اس کے چہرے پر غازہ مل دیا ہو ۔


اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سُنا
مسکنِ آبائے انساں جب بنا دامن ترا
معانی: مسکن: رہنے کی جگہ ۔ آبائے انساں : انسان کے باپ دادا ۔
مطلب: اے ہمالہ! ذرا مجھے اس وقت کا احوال تو بتا جب ہزاہا سال قبل باوا آدم نے یہاں آ کر تیرے دامن میں پناہ لی تھی ۔ ظاہر ہے تو ان لمحات کا رازدان ہے ۔


کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازہَ رنگِ تکلف کا نہ تھا
معانی: رنگِ تکلف: بناوٹ کا رنگ ۔ تصور: کسی چیز کی صورت کا ذہن میں آنا ۔
مطلب: اے ہمالہ ذرا ان دنوں کے بارے میں ہمیں واقعات و حقائق سے آگاہ کر کہ وہ لمحات تو ہر طرح کے تکلفات سے نا آشنا تھے ۔


ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
معانی: تصور: کسی چیز کی صورت کا ذہن میں آنا ۔ گردشِ ایام: زمانے، دن رات کا چکر ۔
مطلب: اقبال فرماتے ہیں کہ ان ایام کا نقشہ تم ہی مجھ سے بیان کر دو کہ یہ پہاڑ تو آخر ایک خاموش پتھر ہی نکلا ۔ جب کہ تم میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ گزرے ہوئے ماضی کو پلٹا کر اسی کی پوری داستان منظر عام پر لے آوَ ۔

Hamala

Ae hamala as faseel e kishwar e Hindustan
Choomta ha teri paishani ko jhuk kr aasman

Tujh mein kuch paida nahi derina rozee k nishan
Tu jawan hai gardish e sham o saher ke darmiyan

Aik jalwa tha kaleem e toor e sina ke liya
Tu tajali hai sarapa shasm e beena ke liya

Imtihan e didah zahir mein kohistan hai tu
Pasban apna hai tu dewar e Hindustan hai tu

Matla e awwal falak jis ka ho wo diwan haut u
Suay khilwat gah e dil daman kash e insane hai tu

Barf ne bnadhi hai dastar e fazilat tere sar
Khanda zan hai kalah e meher e aalam tab par

Teri umar e rafta ki ek aan ha ehad e kuhan
Wadiyon mein hai teri kali ghaten khema zan

Chotiyan teri surayya se hain sargaram e sukhan
Tu zameen per aur pehna e falak tera watan

Chasma e daman tera aaena siyyal hai
Daman e mouj e hawa jis ke liya rumal hai
Abar ke hathon mein rahwar e hawa kewaste
Taziyana de diya barq e sar e kohsar ne

Ae hamala koi bazi gah hai tub hi jisa
Dast e qudrat ne banaya hai aanasir

Haye kya firat e tarah mein jhoomta jata hai abar
Feel
e be zanjeer ki surat ura jata hai abar

Junbish e mouj e naseem e subah gehwara bani
Jhoomti hai nasha e husti mein har gul ki kal

Yun zuban e berg se goya hai is ke khamshi
Dast e gulcheen ki jhatak mein ne nahi dekhi kabhi

Keh rahi hai meri khamoshi hai afsana mera
Kunj e khalwat khana e qudrat hai kashana mere

Ati hai nadi faraz e koh se gati howa
Kausar o tasneem ki moujon ko sharmati howe

Aaeena sa shahid w qudrat ko dikhlati huwe
Sang e reh se gah bachti gah takrati huwi

Chairti ja is Iraq e dil nasheen ke saaz ko
Ae musafir dil samjhta hai teri awaz ko

Laila e shab kholti hai aa ke jab zulf e rasa
Daman e dil khenchti hai aabsharon ke sada
Wo khamoshi sham ki jis per takalum ho fida
Wo darkhton per tafakkur ka saman chaya huwa

Kanpta phirta hai kya rang e shafaq kohsar per
Khushnuma lagta hai ye ghazah tere rukhsar per

Ae hamala dastan uss waqt ki koi suna
Maskan e aabay insane jab bana daman tera

Kuch bata us seedhi sadi zindagi ka majra
Dagh jis par ghaza rang e taklluf na tha

Haan dikha de ae tasawwar phir who subha o sham tu
Dorh piche ki taraf ae ghardish e ayyam tu

English

The Himalaya

O Himalah O rampart of the realm of india
Bowing down the sky kisses your forehead

Your condition does not show any signs of old age
You are young in the midst of day and night’s alternation

The kaleem of tur sina witnessed bu one effulgence
For the discerning eye you are an embodiment of effulgence
To the outward eye you are a mere mountain range
In reality you are our sentinel you are india’s rampart

You are the divan whose opening verse is the sky
You lead man to the solitudes of his hearts retreat

Snow has endowed you with the turban of honor
Which scoffs at the crown of the world illuminating sun

Antiquity is but a moment of your bygone age
Dark clouds are encamped in your valleys

Your peaks are matching with the Pleiades in elegance
Though you are standing on earth your abode is sky expanse

The stream in your flank is a fast flowing mirror
For which the breeze is working like a kerchief

The mountain tops lightning has given a whip
In the hands of cloud for the ambling horse

O Hamala are you like a theatre stage
Which nature’s hand has made for its elements?

Ah how the cloud is swaying in excessive joy
The cloud like an unchained elephant is speeding

Gentle movement of the morning zephyr is acting like a cradle
Every flower bud is swinging with intoxication of existence

The flower bud with the petals tongue is saying
I have never experienced the jerk of the florist’s hand

Silence itself is relating the tale of mine
The corner of nature’s solitude is the abode of mine

The brook is melodiously descending from the high land
Putting the waves of khwthar and tasnim toembarrassment

As if showing the mirror to natures beauty
Now evading now rowing against the rock in its way

Play in passing this orchestra of beautiful music
O way farer the heart comprehends your music

When the night’s layla unfurls her long hair
The sound of water falls allures the heart

That silence of the night whose beauty surpasses speech
That state of silent meditation overshadowing the trees

That dusk’s beauty which shivers along the mountain range
Very beautiful looks this rouge on your cheeks

O Hamalah do relate to us some stories of the time
When your valleys become abode of man’s ancestor

Relate something of the life without sophistication
Which had not been stained by the rouge of sophistication

O imagination bring back that period
O vicissitudes of time speed backwards

Full Book with Translation BANG-E-DRA

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.