Mirza Ghalib || Iqbal about Mirza Ghalib Bang e Dra – 004
Mirza Ghalib
Book : Bang e Dra – 004
by DR. Allama Muhammad Iqbal
Full Urdu Translation Iqbal about Mirza Ghalib
مرزا غالب
فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
معانی: مرزا غالب: اردو، فارسی کے مشہور شاعر ۔ فکر: سوچ، غور کرنے کی قوت ۔ روشن ہونا: ظاہر ہونا ۔ مرغِ تخیل: فکر اور خیالات کا پرندہ ۔ رسائی: پہنچ ۔ تا کجا: کہاں تک ۔
مطلب: اقبال یہاں غالب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تیرے وجود نے فکر انسانی پر یہ بات واضح کر دی کہ خیالات کی رو کس بلندی تک پرواز کر سکتی ہے ۔ یعنی تیری متخیلہ کی بلندی تک رسائی کے لیے انتہائی فکر کی ضرورت ہے ۔
تھا سراپا روح تو، بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا
معانی: بزمِ سخن: شاعری ۔ پیکر: جسم ۔ زیب محفل: محفل کی رونق ۔
مطلب: شاعری کی بزم میں تیری ذات اس کی روح معلوم ہوتی ہے اور تیرا وجود اس کی رونق بھی رہا اور ان معنوں میں اس سے پوشیدہ بھی رہا کہ تیرے ہم عصر لوگ فی الواقع تیری شاعرانہ عظمت تک رسائی حاصل نہیں کر سکے ۔
دید تیری آنکھ کو اس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
معانی: اس حسن: مراد محبوب حقیقی کا حسن ۔ منظور: پیشِ نظر ۔ سوزِ زندگی: زندگی کی حرارت ۔ ہرشے: کائنات کی ہر چیز ۔ مستور: چھپی ہوئی ۔
مطلب: تیری آنکھ اپنے محبوب حقیقی کے حسن کی طرف مائل ہے جو کائنات کی ہر شےمیں زندگی کی حرارت کی طرح چھپا ہوا ہے ۔
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
معانی: محفلِ ہستی: دنیا کی بزم ۔ بربط: ایک قسم کا باجا، شاعری ۔
مطلب: جس طرح رواں دواں گاتی گنگناتی ندی پہاڑوں کے سکوت میں ارتعاش پیدا کرتی ہے اسی طرح اس کائنات میں تیرے تخیل نے اہل ذوق کا دامن حکمت و دانش سے بھر دیا ہے ۔
تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ زار
معانی: فردوسِ تخیل: تخیل کی جنت ۔ کشت: کھیتی، فصل ۔ عالم: دنیا ئیں ، مراد نئے نئے مضامین ۔ سبزہ زار: سبزے کی طرح ۔
مطلب: تیرے خیالات نے فطرت کے مظاہر کو بھی بہار آشنا کر دیا ۔ یہی نہیں بلکہ تیری شاعرانہ فکر نے ایسی دنیائیں تخلیق کیں جو انسانی ذہن کو تازگی اور سرشاری سے ہمکنار کر گئیں ۔
زندگی مضمر ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائی سے جنبش ہے لبِ تصویر میں
معانی: مضمر: چھپی ہوئی ۔ شوخی تحریر: مراد دل میں اثر کرنے والے شگفتہ اشعار ۔ تابِ گویائی: بولنے کی طاقت ۔
مطلب: تیری شعری تخیلات میں حکمت کے ساتھ ایسی شوخیاں بھی موجود ہیں جو ساکت و جامد تصاویر کو بھی لب کھولنے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک غالب کی شاعری میں خیال و فکر اور آہنگ کا طلس پوشیدہ ہے ۔
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریا رفعتِ پرواز پر
معانی: نطق: زبان ۔ لبِ اعجاز: یعنی معجزہ کی سی کیفیت رکھنے والے اشعار کہنے والی زبان ۔ محوِ حیرت: حیرانی میں گم ۔ رفعتِ پرواز: یعنی مضامین کے لحاظ سے بلندی پر اڑنا ۔
شاہدِ مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچہَ دلی گلِ شیراز پر
معانی: شاہد: محبوب، حسین ۔ تصدق: قربان ۔ انداز: مراد شعر گوئی کا طریقہ ۔ خندہ زن: ہنسی، مذاق اڑانے والا ۔ غنچہَ دلی: دلی کی کلی مراد غالب ۔ گلِ شیراز: شیراز کا پھول ۔
مطلب: شاعری میں تیرا انداز بیاں اس قدر منفرد اور دلنشیں ہے جس پر مضامین خودنثار ہونے پر آمادہ رہتے ہیں ۔ تیرے کلام میں ایسی تازگی اور مٹھاس ہے کہ اس کے با المقابل شیراز کے حافظ اور سعدی جیسے بلند پایہ شعرا کا رنگ بھی پھیکا پڑ جاتا ہے ۔ مراد یہ کہ غالب دوسرے باکمال شعرا سے بھی عظیم ہے ۔
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
معانی: آرامیدہ: آرام کر رہا ہے، دفن ہے ۔ گلشنِ ویمر: جرمنی کے شہر ویمر کا باغ، ویمر میں جرمنی کے مشہور شاعر گوءٹے کی قبر ہے ۔
مطلب: لیکن کتنا اندوبگیں انقلاب ہے کہ تو اب اس دلی میں مدفون ہے جو انحطاط و زوال کا نمونہ ہے اور تخلیقی و تہذیبی اعتبار سے اجڑ چکا ہے ۔ غالب! تیرے ہم عصر شعرا میں عالمی سطح پر تجھ سا بلند پایہ شاعر تو جرمنی کا گوءٹے ہے جو وہاں کے مشہور اور زندہ شہر ویمر میں دفن ہے ۔
لطفِ گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
معانی: لطفِ گویائی : بولتے یعنی شعر کہنے کا مزہ ۔ ہمسری: برابری ۔ فکرِ کامل: سوچ بچار اور غور کرنے کی پوری پوری قوت ۔
مطلب: اے شاعر عظیم! جب تک کوئی تیرے فکر و تخیل کی بلندی سے آشنا نہیں ہوتا وہ تیری ذات سے کس طرح واقف ہو سکتا ہے اور تیرے انداز بیاں کی برابری کا کیسے حق دار ہو سکتا ہے ۔
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سرزمیں
آہ! اے نظارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں
معانی: نظارہ آموز: دیکھنے یعنی مشاہدہ کا ڈھنگ سکھانے والی ۔ نگاہِ نکتہ بیں : باریکیوں یا بھیدوں کو دیکھنے والی نگاہ ۔
مطلب: نہ جانے تیرے بعد ہندوستان کی سرزمین تخلیقی سطح پر کیوں بنجر ہو گئی اور اب وہاں تجھ سا عظیم شاعر اور دانشور کیوں پیدا نہیں ہو رہا ۔
گیسوئے اردو ابھی منت پذیرِ شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل سوزیِ پروانہ ہے
معانی: گیسوئے اردو: اردو کی زلفیں ، یعنی اردو زبان ۔ منت پذیر: احسان مند ۔ شانہ: کنگھی ۔ شمع: یعنی اردو زبان ۔ سودائی: مشتاق ۔ دل سوزیَ پروانہ: مراد پتنگے کی محبت ۔
مطلب: حالانکہ اردو زبان ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے عروج و ارتقا کے لیے تجھ جیسے پلند پایہ شعرا درکار ہیں ۔
اے جہان آباد! اے گہوارہَ علم و ہنر
ہیں سراپا نالہَ خاموش تیرے بام و در
معانی: جہان آباد: دہلی کا پرانا نام ۔ گہوارہ: مرکز، تربیت گاہ ۔ نالہَ خاموش ایسی فریاد جس میں آواز نہ ہو ۔ بام و در: چھت اور دروازے ۔
مطلب: اس شعر میں اقبال دہلی سے براہ راست مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تو جو ابتدا سے ہی علم وہنر کا گہوار رہی ہے اب تیری وہ عظمت کیا ہوئی ۔ تیرے گلی کوچے کیوں حکمت و دانش سے خالی نظر آتے ہیں ۔
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
معانی: شمس و قمر: سورج اور چاند، مراد بڑی ہستیاں ۔ گہر: یعنی علم و فضل والے ۔
مطلب: حالانکہ تیری خاک میں بے شمار ایسے ماہرین علم و حکمت دفن ہیں جن کی شہرت و عظمت سے خود تیرا وجود روشن اور درخشندہ ہے ۔
دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
معانی: فخرِ روزگار: زمانے کے لیے فخر کا باعث ۔ موتی: مراد شخصیت ۔ آبدار: چمک دار، عظمت والا ۔
مطلب: لیکن اتنا بتا دے کہ کیا تیری خاک میں غالب سا بھی کوئی بلند پایہ شاعر دفن ہے جو علم و حکمت، تخیل اور شاعرانہ لطافت میں یکتائے روزگار ہے ۔
Roman Urdu
Allama Muhammad Iqbal ki Mirza Asadullah khan Ghalib bar ma poem
Fikar e insan per teri hasti se ye roshan huwa
Hai per e muragh e takhayul ki rasyi ta kuja
Tha sarapa rooh tu bazm e sukhan pekar tera
Zaib e mehfil bhi raha mehfil se pinhan bhi rah
Deed teri ankh ko uss husan ki manzoor hai
Ban ke souz e zindagi her shay mein jo mastoor hai
Mehfil e hasti teri barbat se hai samayadar
Jis tarah naddi ke naghmon se sakoot e kohsar
Tere fedous e takhayul se hai qudrat ki bahar
Teri kisht e fikar se ugte hain alam sabza war
Zindagi muzmer hai teri shaukhi e tehreer mein
Tab e goyai se junbish hai lab e tasveer mein
Nutaq ko so naz hain tere lab e ejaz per
Mehv e hairat hai surayya rifat e parwaz per
Shahid e mazmoon tassaduq hai tere andaz per
Khandazan hai gunch e dilli gul e shiraz per
Ah tu ujhari huwa dilli mein aramida hai
Gulshan e weimar* mein tera humnawa khawabida hai
Weimar : germani ka mashoor shayar goethe iss jagha madfoon hai
Lutaf e goyai mein teri humsari mumkin nahi
Ho takhayyul ka na jab tak fikar e kamil hum nasheen
Haya ab kya ho gi hindustan ki ser zameen
Ah ae nazara amoz e nigha e nukta ben
Gaisuay urdu abhi mannat pazeer e shana hai
Shama ye sodai e dilsozi e perwana hai
Ae jahan abad ae gehware e ilm o hunar
Hain sarapa nala e khamosh tere baam o der
Zarre zarre mein tere khabidah hain shamas o qamar
Yun to poshida hain teri khak mein lakhon gohar
Dafan tujh mein koi fakhar e rozgar aesa bhi hai?
Tujh mein pinhan koi moti aab dar aesa bhi hai?
Iqbal about Mirza Ghalib in English
Through you the secret was revealed to the human intellect
That innumerable enigmas are solved by human intellect
You were the complete soul literary assembly was your body
You adorned as well as remained veiled from the assembly
Your eye is longing to witness that veiled beauty
Which is veiled in everything as the pathos of life
The assemblage of existence is rish with your harp
As mountain’s silence by the brook’s melodious harp
The garden of your imagination bestows glory on the universe
Form the field of your thought worlds grow like meadows
Life is concealed in the humor of your verse
Picture’s lips move with your command of language
Speech is very proud of the elegance of your miraculous lips
Thurayyah is astonished at your style’s elegance
Beloved of literature itself loves your style
Dehli’s bud is mocking at the rose of shiraz
Ah you are resting in the midst of Delh’s ruins
Your counterpart is resting in the Weimar’s garden
Matching you in literary elegance is not possible
Till maturity of thought and imagination are combined
Ah what has befallen the land of India
Ah the inspirer of the super critical eye
The lock of Urdu’s hair still craves for combing
This candle still craves for moth’s heat felt pathos
O Jahanabad o cradle of learing and art
Your entire super structure is al silent lament
The sun and the moon are asleep in every speck of your dust
Though innumerable other gems are also hidden in your dust
Doses another world famous person like him also lie buried in you?
Does another gem like him also lie congealed in you?
Full Book with Translation BANG-E-DRA