Jawab e Shikwa by Allam Iqbal Part – 5
Jawab e Shikwa
شکوہ بند -21
تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا
بُت گری پیشہ کیا، بُت شکنی کو چھوڑا
معانی: تجھ کو چھوڑا: یعنی نہیں چھوڑا، سوالیہ ہے ۔ بت گری: بت بنانا ۔ پیشہ کیا: اپنا پیشہ بنایا، یعنی نہیں بنایا ۔
مطلب: بس اتنا بتادے کہ تیری عبادت کو چھوڑا یا حضور کی محبت سے روگردانی کی ہے ۔ کیا ہم نے اسلاف کی بت شکنی کی روایت کو ترک کر کے بت تراشی شروع کر دی ہے
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا
رسمِ سلمان و اویس قرنی کو چھوڑا
معانی: آشفتہ سری: دیوانگی ۔ سلمان: حضور کے بہت پیارے صحابی جو سلمان فارسی کے نام سے مشہور ہیں ، ایرانی تھے ۔ اویس قرنی: حضور اکرم کے سچے عاشق، والدہ کے بڑھاپے کے سبب حضور اکرم نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ اپنی والدہ کی خدمت کرو، میری ملاقات جتنا ثواب ملے گا، چنانچہ وہ حضور کی زیار ت سے محروم رہے ۔
مطلب: کیا ہم نے عشق اور عشق کی دیوانگی سے کناہ کشی کر لی ۔ کیا ہم نے حضرت سلمان فارسی اور اویس قرنی کی روایات کو ترک کر دیا ۔
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلالِ حبشی رکھتے ہیں
معانی: آگ: مراد شدید جوش و جذبہ ۔ بلال حبشی: حضور کے مشہور صحابی و موذن ۔
مطلب: اگر ایسا نہیں تو ہم سے برگشتگی کی کچھ تو وجہ ہونی چاہیے ۔ جب کہ ہمارے سینوں میں آج بھی تکبیر کی آگ محفوظ ہے اور ہماری زندگی عملی سطح پر حضرت بلال حبشی کی مانند ہے ۔
Shikwa Band-21
Tujh ko chora k Rasool E Arabi (S.A.W) ko chora?
Boutgari paisha kiya bout shikani ko chora?
Ishq ko ishq ki ashuftah sari ko chora?
Rasm e salman (R.A) O Awais e Qarani (R.A) ko chora?
Ag takbeer ki seenon mein dabi rakhte hain
Zindagi misl e Bilal e Habshi (R.A) rakhte hain
Shikwa Stanza-21
Did we forswear our faith to you? To your Dear Prophet cease to cling?
Of idol breaking did we tire? Or take to idol worshipping?
Or did we weary of your love or your love’s rapture ever shun?
Or turned we from the path which trod Qaran’s Owais and Salman?
Your takbeer’s unextinguished flame within our hearts we cherish yet,
Aethiop Bilal’s life the star by which our own lives course we set.
جواب شكوه بند -21
تم ہو آپس میں غضبناک وہ آپس میں رحیم
تم خطاکار و خطابیں ، وہ خطاپوش و کریم
معانی: آپس میں غضب ناک: مراد ایکد وسرے کے دشمن ۔ خطا بین: دوسروں میں خامیاں ، غلطیاں تلاش کرنے والا ۔ خطا پوش: دوسروں کی خامیوں پر پردہ ڈالنے والا ۔
مطلب: جہاں تک تمہارا تعلق ہے تم تو آپس میں جنگ و جدل کے قائل ہو جب کہ تمہارے اسلاف ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آیا کرتے تھے ۔ تم خود بھی خطا کرتے ہو اور دوسروں کی خطاؤں کے ضمن میں متجسس رہتے ہو ۔ جب کہ تمہارے اسلاف دوسروں کی خطاؤں کو نظر انداز بھی کر دیتے تھے اور بخش بھی دیا کرتے تھے ۔
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اَوجِ ثریا پر مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم
معانی: اوجِ ثریا: ثریا ستارے کی سی بلندی ۔ قلبِ سلیم: مراد اسلامی جذبوں سے سرشار دل ۔
مطلب: یوں تو دنیا میں سب ہی لوگ اس امر کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ وہ انتہائی بلند مدارج پر فائز ہوں لیکن ان کے لیے ضروری صلاحیت بھی تو پیدا کرے ۔
تختِ فغفور بھی ان کا تھا، سریرِ کَے بھی
یوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی
معانی: فغفور: قدیم چین کے بادشاہوں کا لقب ۔ سریر: تخت ۔ کے: قدیم ایران کا عظیم بادشاہ خسرو ۔
مطلب: جہاں تک تمہارے اسلاف کا تعلق تھا انہوں نے اپنی ہمت و جرات سے کم و پیش ساری دنیا کو تسخیر کر لیا جس کے عوض انھوں نے چین جیسے عظیم ملک کے بادشاہ کا تخت بھی حاصل کر لیا اور ایران کے تخت پر بھی قبضہ جما لیا تھا جب کہ تم تو ان کے مقابلے میں محض باتیں بنانے کے عادی ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم میں اسلاف کی سی حمیت نہیں رہی ۔
———-
شکوہ بند -22
عشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی
جادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی
معانی: خیر: مان لیا ۔ جاد ہ پیمائی تسلیم و رضا: اللہ کی رضا پر راضی ہونے کے راستے پر چلنے کی حالت ۔
مطلب: ہر چند کہ ہم تیری چاہت میں پہلا والا انداز نہیں رکھتے نا ہی ہم میں تیری خاطر تسلیم و رضا کی وہ خو ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی ۔
مضطرب دل صفتِ قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی
معانی: قبلہ نما: ایک آلہ جس پر لگی ہوئی بڑی سوئی قبلے کے رخ کا پتہ دیتی ہے ۔ پابندی آئین وفا: وفا کے طور طریقے کے پابند ۔
مطلب: یہ بھی درست کہ ہمارے دل قبلہ نما کی طرح مضطرب ہیں اور یہ کہ ہم پہلے جیسے وفادار بھی نہیں ۔ نا ہی ہم میں وفا کے آئین کی پابندی کا جذبہ پہلے کی طرح موجود ہے ۔
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں ، تو بھی تو ہرجائی ہے
معانی: شناسائی: دوستی، مراد مہربانی ۔ ہرجائی: ہر جگہ پہنچنے والا ۔
مطلب: اس کے باوجود خود تیرا طرز عمل یہ ہے کہ کبھی ہم سے کبھی دوسروں پر عنایت و مہربانی کرتا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بات ہر چند کہ کی نہیں ۔ پھر بھی کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ تو بھی تو ہرجائی ہو گیا ہے ۔
Shikwa Band-21
Ishq ki khair who phli si ada bhi na sahi
Jaada paimai taslim o raza bhi na sahi,
Muztarib dil sifat e Qibla nama b na sahi
Aur pabandi e aeen e wafa b na sahi…..
Kabhi hum se kabhi ghairon se shanasaai hai
Baat kehne ki nahin tu bhi to harjaai hai
Shikwa Stanza-21
But even if a change has been and we in love are less adept
Or out of resignation path our erring wayward feet have step,
If unlike trusted compasses our souls respond not now to you
And if to laws of faithfulness our roving heart are now less true,
Must you to play the fickle flirt us with others day by day
We cannot help the sinful thought which shame forbids out lips to say
جواب شكوه بند -22
خود کشی شیوہ تمہارا، وہ غیور و خوددار
تم اخوت سے گریزاں ، وہ اخوت پہ نثار
معانی: شیوہ: طریقہ، انداز ۔ گریزاں : بھاگنے والے ۔
مطلب: تمہارا طرز عمل تو فی الواقع خود کشی کے مترادف ہے جب کہ تمہارے اسلاف بلاشبہ غیرت مند اور خوددار تھے ۔ تم لوگ بھائی چارے سے گریز کرتے ہو جب کہ وہ بھائی چارے کو انسانی رشتوں کی بنیادی اساس تصور کیا کرتے تھے ۔
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو، وہ گلستان بہ کنار
معانی: گفتار سراپا: صرف باتیں ہی باتیں ۔ سراپا کردار: مکمل طور پر عملی جدوجہد کرنے والے ۔ گلستاں بن کنار: مراد دامن پھولوں سے بھرا ہوا ۔
مطلب: تم تو سراپا باتونی اور بڑبولے جب کہ وہ کلیتاً عمل کے قائل تھے ۔ تم تو ایک کلی کے لیے ترستے ہو جب کہ باغات ان کی دسترس میں تھے ۔ مراد یہ کہ تم بے عملی کا شکار ہو اور تمہارے اسلاف بلند کردار اور باعمل لوگ تھے ۔ اسی سبب وہ ساری دنیا پر مختصر عرصے میں چھا گئے ۔
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحہَ ہستی پہ صداقت ان کی
معانی: نقش: لکھا ہوا ۔ صفحہَ ہستی: دنیا کی کتاب ۔
مطلب: آج تک دنیا بھر کی قوموں کو ان کی داستانیں ازبر ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ ان کی صداقت کے نقوش صفحہ دہر پر ثبت ہیں ۔
شکوہ بند -23
سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نے
اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نے
معانی: سر فاراں : کوہ فاران پر، فاران مکہ معظمہ کہ وہ پہاڑی جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا ۔ دل لینا: اپنا دیوانہ بنا لینا ۔
مطلب: تو نے فاران کی چوٹی پر دین محمدی کی تکمیل کی ۔ تو اتنا قادر ہے کہ ایک اشارے پر ہزار ہا لوگ تیرے گرویدہ ہو گئے ۔ انسانی دلوں کو تو نے اپنے عشق سے مسخر کر لیا ۔
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نے
پھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تو نے
معانی: آتش اندوز: آگ جمع کرنے والا ۔ حاصل: یہاں مراد نتیجہ ۔ پھونک دی: جلا دی ۔
مطلب: انسانی دلوں کو تو نے اپنے عشق سے مسخر کر لیا ۔ اپنے جلووں سے ساری محفل میں حرارت پیدا کر دی ۔
آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیں
معانی: شررآباد: مراد حرارت عشق سے پُر ۔ سوختہ ساماں : جس کا سب کچھ جل گیا ہو ۔
مطلب: لیکن کیا وجہ ہے کہ آج ہمارے سینوں میں عشق حقیقی کی چنگاری موجود نہیں جب کہ شاید تجھے یاد ہو کہ ہم نے تو تیری خاطر اپنا سب کچھ داوَ پر لگا دیا تھا ۔
Shikwa Band-23
Sar e faran pe kiya deen ko kamil tu ne
Ek Ishare mein hazaron k liye dil tu ne
Atish andoz kiya isha ka hasil tu ne
Phoonk di garmi e rukhsar se mehfil tu ne
Aj kyun seene humare sharar abad nahi
Hum wohi sokhta saman hain tuhe yad nahi?
Shikwa Stanza-23
Upon the speak of mount faran your glorious faith you didst perfect
With one divinest gesture drew a host of fervid first elect,
Your flaming beauty filled the world and set a myriad hearts on fire
Then blew the quintessence of love in man to passion wild desire,
Why within our deadened hearts that holy flame today leaps not
Though still those burnt out victims we which once we were have you forgot?
جواب شكوه بند -23
مثلِ انجم اُفقِ قوم پہ روشن بھی ہوئے
بُتِ ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے
معانی: انجم: جمع نجم، ستارے ۔ افقِ قوم: قوم کا آسمان، قوم ۔ بتِ ہندی: ہندوستانی ثقافت، تہذیب ۔ برہمن ہونا: ہندووَں کے سے طور طریقے اختیار کرنا ۔
مطلب: تمہاری حالت تو یہ ہے کہ قلیل عرصے کے لیے قومی افق پر ستاروں کی طرح سے روشن ہو گئے پھر ہندوستان کو اپنا وطن تصور کر کے تم اسی کے ہو رہے اور اپنے مذہبی اور قومی تقاضوں کو قطعی فراموش کر دیا ۔
شوقِ پرواز میں مہجورِ نشیمن بھی ہوئے
بے عمل تھے ہی جواں ، دین سے بدظن بھی ہوئے
معانی: شوقِ پرواز: اڑنے کا شوق ۔ مہجورِ نشیمن: مراد وطن سے دور ۔ بدظن: دل میں بُرا خیال لانے والا ۔
مطلب: دوسرے مقامات پر جانے کے لیے پر تو لے تو گھر کو بھی تج دیا ۔ تمہارے جو جواں سال فرزند تمہاری ہی طرح بے عمل تو تھے ہی دیکھا دیکھی دین سے بدظن بھی ہو گئے ۔
ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا
لا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا
معانی: تہذیب: موجودہ طرزِ زندگی جو یورپ سے متاثر ہے ۔ بند: پابندی ۔ صنم خانہ: بتوں کا گھر، مندر ۔
مطلب: یہ وہی لوگ تھے جنہیں جدید تہذیب نے راہ سے بھٹکا دیا اور پھر مادر پدر آزادی کے جویا بن گئے ۔ حد تو یہ ہے کہ کعبہ کو چھوڑ کر انھوں نے بت خانے کو آباد کر لیا ۔ مراد یہی ہے کہ انہیں ان اسلاف کی عظمت و کردار کا پاس رہا نا ہی وہ مذہبی اصولوں اور تعلیمات کے ہی قائل رہے
Jawab e Shikwa Band-23
Misl e anjum ufaq e qoum pe roshan bhi ho
Bout e hindi ki mohabbat mein barhman b ho
Shauq e parwaz mein mehjoor e nasheman b ho
Be amal tha hi jawan deen e se badzan b ho..
In ko tehzeeb ne har bande se azad kiya
La k KAABE se sanam khane mein abad kiya,
Jawab e Shikwa Stanza-23
Upon your nations sky you rose like stars of brilliant
The lure of India idols made even Brahmans out of you,
Draw by wander lust you went a roving from your nests
Slothful good your youth next learnt to doubt their faiths behests,
Enlightenment ensnared you all and all your fetters fell
The land of Kaba you forsook In idol land to dwell.
شکوہ بند -24
وادیِ نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا
قیس دیوانہَ نظارہَ محمل نہ رہا
معانی: وادیِ نجد: حجاز کا وہ علاقہ جو لیلیٰ کا وطن تھا ۔ سلاسل: جمع سلسلہ، زنجیریں ۔ قیس: مجنوں کا اصل نام ۔ نظارہ محمل: کجاوے کو دیکھنا جس میں لیلیٰ ہوتی تھی ۔
مطلب: اب تو صورت حال یہ ہے کہ نجد کے صحرا میں زنجیروں کا وہ شور نہیں رہا نا ہی مجنوں لیلیٰ کے نظارے کا دیوانہ نظر آتا ہے ۔ یعنی مسلمانوں میں نہ عشق کا حقیقی جذبہ باقی رہا نہ ہی جدوجہد کا حوصلہ ۔
حوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے، دل نہ رہا
گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونقِ محفل نہ رہا
معانی: یہ اجڑاہے: بہت ویران، برباد ہوا ہے ۔ رونقِ محفل: جس سے بزم میں چہل پہل اور خوشی ہو ۔
مطلب: نا ہی وہ جرات کردار رہی اور نہ وہ دل رہا جو عشق حقیقی کی حرارت سے مزین ہو ۔ شاید ہمارا گھر اتنا برباد ہو چکا ہے کہ تو اب وہاں رونق افروز ہونا پسند نہیں کرتا ۔
اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سوئے محفلِ ما باز آئی
معانی: وہ دن کس قدر مبارک ہو گا کہ تو ہماری محفل میں پورے جلووں کے ساتھ رونق افروز ہو گا اور ہم تجھے حجاب سے باہر دیکھ سکیں گے
Shikwa Band-24
Wadi e najid mein woh shor e silasil na raha
Qais Diwana e nazara mehmil na raha
Hosle woh na rahe hum na rahe dil na raha
Ghar ye Ujhra hai ke ronaq e mehfil na raha
Ae khush an roz ke ayi o basad naz ayi
Be hijabana soo e mehfil e ma baaz ayi,
Shikwa Stanza-24
Upon the dale of Nejd is stilled the clanging of the captive chains
To glimpse the camel litter Qais no longer with his madness strains,
The yearning of the heart are dead the heart itself is cold so we
And desolation fills our house for shines not there the light of you
O blessed day when you shall come a thousand graces in your train
When by unbashful glad feet turn toward our nesting place again.
جواب شكوه بند –24
قیس زحمت کشِ تنہائیِ صحرا نہ رہے
شہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیما نہ رہے
معانی: زحمتِ کشِ تنہائی: اکیلے پن کی تکلیف اٹھانے والا ۔ بادیہ پیما: جنگلوں میں پھرنے والا ۔
مطلب: عصر موجود کے قیس کی مانند عاشق صادق ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن کسی نوع کی بھی سختی اٹھانے سے گریز کرتے ہیں ۔ شہری زندگی کو اس لیے زیادہ پسند کرتے ہیں کہ یہاں کی زندگی عیش و عشرت سے مزین ہے ۔ یہ عشق کے دعویدار صحر ا نوردی کے قریب نہیں بھٹکتے ۔
وہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہے
یہ ضروری ہے، حجابِ رُخِ لیلا نہ رہے
معانی: حجاب: پردہ ۔ رُخ: چہرہ ۔
مطلب: اس کے برعکس اس نظریے کے قائل ہیں کہ قیس تو دیوانہ تھا وہ خواہ شہر میں بودوباش اختیار کرتا یا صحرا کی ریت پھانکتا اس سے اسے کیا فرق پڑ سکتا تھا البتہ لیلیٰ کو اس عشق میں جو صعوبتیں اٹھانا پڑیں ان کا خاتمہ ضروری ہے ۔
گلہَ جَور نہ ہو، شکوہَ بیداد نہ ہو
عشق آزاد ہے ، کیوں حُسن بھی آزاد نہ ہو
معانی: گلہَ جور: ظلم و سختی کی شکایت ۔ بیداد: ظلم ۔ عہد نو: جدید دور، مغربی تہذیب کا دور ۔
Jawab e Shikwa Band-24
Qais zehmat kash e tanhai e sehra na rahe
Shehr ki khaye huwa bad ye pema na rahe,
Wo to diwana hai basti mein rahe ya na rahe
Ye zaroori hai hijab e rukh e laila na rahe
Gila e jor na ho Shikwa E baidad na ho
Ishq azad hai kyun hussan b azad na ho
Jawab e Shikwa Stanza-24
If longing Qais roams no more but seeks the town again
Leaving the lonely desert wastes to share tile life of men,
Qais is mad what if he dwells in town or wilderness
Yet from him layla must not veil her face in bashfulness
Complain ye not of heart unkind nor speak of tyranny
When love no bondage knows then why should beauty not be free?
شکوہ بند -25
بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جو بیٹھے
سنتے ہیں جام بکف نغمہَ کو کو بیٹھے
معانی: بادہ کش: شراب پینے والے، مراد عیش وعشرت کی زندگی بسر کرنے والے ۔ لب جو: ندی کے کنارے ۔ جام بکف: ہاتھوں میں شراب کا پیالہ لیے ۔ نغمہ کوکو: مراد کوئل، فاختہ کی چہچہاہٹ ۔
مطلب: جو لوگ اے خدا! تیری تعلیمات کی نفی کرتے ہیں اور تیرے دین کو تباہ و برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو تو نے عیش و مسرت کے تمام سامان فراہم کیے ہوئے ہیں ۔ وہ تو رقص و نغمہ کی محفلیں سجائے ہوئے ہیں ۔
دُور ہنگامہَ گلزار سے یک سُو بیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں منتظرِ ہُو بیٹھے
معانی: ہنگامہ گلزار: باغ کی رونق ۔ یکسو: ایک طرف ۔ منتظر ھو: مراد خدا کی تائید کا انتظار کرنے والا، والے ۔
مطلب : یہی نہیں وہ اس قدر بدمست اور مدہوش ہیں کہ باقی دنیا کن ہنگاموں سے دوچار ہے وہ اس حقیقت سے قطعی بے نیاز ہو کر محو ناوَ و نوش ہیں جب کہ تیرے چاہنے والے مسلمان تو خود کو تیری نعمتوں سے محروم سمجھنے لگے ہیں اور تیری عنایات کے اشاروں کے منتظر ہیں ۔
اپنے پروانوں کو ذوقِ خرد افروزی دے
برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے
معانی: ذوق: شوق، جذبہ ۔ خود افروزی: خود کو رشن کرنا ۔ برقِ دیرینہ: پرانی بجلی، مراد پہلے والا جوش و جذبہ ۔ جگر سوزی: مراد دل میں عشق کی گرمی پیدا کرنا ۔
مطلب: سو اے خدا! اپنے چاہنے والوں میں پھر سے عمل کا ایک نیا جذبہ پیدا کر دے تا کہ وہ پھر فعال ہو کر اس دنیا میں سرخرو ہو سکیں ۔
Shikwa Band-25
Badahkash gair hain gulshan mein lab e joo baithe
Sunte hain jaam bakaf naghma e kuku baithe
Door hungama e gulzar se yak so baithe
Tere diwane bhi hain muntazir Hoo baithe
Apne parwanon ko phir zauq e khud afrozi de
Barq e dairina ko farman e jigar sozi
Shikwa Stanza-24
Beside the garden fountain now quaffing wine strangers sit also
The cuckoo note their ear regales and their hands hold the sparkling glass,
From all this garden riot far calm in a corner seated to
Love longin lunatics await your frenzy kindling breath of Hoo
The passion for the flame embrace your moths let them once more know
And bid your ancient lighting strike and set these ash cold hearts aglow
جواب شكوه بند -25
عہدِ نو برق ہے، آتش زنِ ہر خرمن ہے
ایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے
معانی: آتش زن: جلا دینے والا ۔ خرمن: غلے کا ڈھیر ۔ ایمن: محفوظ ۔
مطلب: عہد نو تو ایک ایسی بجلی کی مانند ہے جو ہر کھلیان کو پھونکنے کے لیے ہر لمحے آمادہ رہتی ہے ۔ اس بجلی سے کوئی صحرا اور کوئی گلستاں محفوظ نہیں ۔
اس نئی آگ کا اقوامِ کہن ایندھن ہے
ملتِ ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے
معانی: نئی آگ: مراد جدید دور، نئی تہذیب ۔ ملتِ ختم رسل: مراد حضور اکرم کی قوم ۔ شعلہ بہ پیراہن: جس کا لباس جل رہا ہو، نئی تہذیب میں فنا ہونے والی ۔
مطلب: اور سچ پوچھیے تو نئی تہذیب ایسی آگ کی طرح ہے جس کا ایندھن قدامت پرست اقوام کو قرار دیا جا سکتا ہے ۔ جس کے سبب نبی آخر الزماں کی امت کا پیراہن جل کر خاک ہو رہا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ جو قدامت پرست اقوام نئے زمانے کا ساتھ دینے سے عاری ہیں وہ ان کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے ۔
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
معانی: براہیم کا ایماں : حضرت ابراہیم کی سی ایمانی قوت کہ وہ نمرود کی آگ میں بیٹھ گئے اور بحکم خدا وہ گلزار بن گئی ۔ اندازِ گلستاں : گلزار کی سی حالت ، صورت ۔
مطلب: اس ساری صورت حال کے سبب مسلمانوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ آج بھی ان میں اگر حضرت ابراہیم جیسے پیغمبروں کا عقیدہ پیدا ہو جائے تو پھر ان کے عہد کی طرح آگ گلستان میں تبدیل ہو سکتی ہے
Jawab e Shikwa Band-25
Ehd e nau bara hai aatish zan e har khirman hai
Ayman is se ko sehra no koi gulshan hai……
Is nayi aag k Aqwam e kuhan Indhan hai
Millat e khatam e Rusal (S.A.W)
Aj b jo Baraheem (A.S) ka Imaan paida
Aag kar sakti hai Andaz E Gulishtan paida
Jawab e Shikwa Stanza-25
Each stack and barn it sets on fire this lightning like new age
Nor bowling wild nor garden gay escapes its flaming rage,
This new fir feeds on fuel old the nation of the past
And they too burn to whom was sent Gods Messenger the last,
But if faith of Abrabam there once again is born
Where leaps this flame flowers will bloom and laugh its blaze to scorn,