Syed Ki Loh-e-Turbat | The Tombstone Of Sayyed | Bang-e-Dra-023

WhatsApp Channel Join Now

Syed Ki Loh-e-Turbat

سید کی لوحِ تُربت

اے کہ تیرا مرغ جاں تارِ نفس میں ہے اسیر
اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر
معانی: سید: مراد سر سید احمد خان جنھوں نے علی گڑھ میں مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کالج کھولا جو اب مسلم یونیورسٹی سے موسوم ہے ۔ لوح تربت: قبر پر لگا ہوا کتبہ ۔ مرغِ جاں : روح کا پرندہ ۔ تارِ نفس: سانس کی ڈوری ۔ قفس: پنجرہ، مراد جسم ۔
مطلب: اقبال نے اپنے مخصوص انداز میں ان اشعار میں بتایا ہے کہ سر سید احمد خان کی تربت کا کتبہ زبان حال سے ہندوستان کے باشندوں سے یوں گویا ہے کہ تم زندگی کی بھول بھلیوں میں گرفتار ہو اور تمہاری روح بھی شب و روز کے عوامل میں مقید ہے ۔

اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ
شہر جو اجڑا ہوا تھا، اس کی آبادی تو دیکھ
معانی: نغمہ پیرا: گیت گانے ، چہچہانے والے ۔
مطلب: ذرا ان لوگوں کی جانب بھی نظر کرو جو یہاں آزادی سے نغمہ پیرائی تو کر رہے ہیں لیکن یہ امر بھی ذہن میں رہے کہ میں نے تو اپنی جدوجہد اور فکری کاوشوں سے اس ویرانے میں ایک شہر بسا دیا ہے ۔

فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی
صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی
معانی: فکر رہنا: تلاش میں رہنا ۔ صبر و استقلال: قوتِ برداشت اور ثابت قدمی ۔
مطلب: سن لو کہ جو محفل میری خوابوں کی ماحاصل تھی وہ اپنی تعبیر کی حیثیت سے تمہارے روبرو ہے ۔ میں نے جس صبر واستقلال کے ساتھ اپنی جدوجہد سے جو کھیتی کاشت کی تھی اس کا پھل سامنے آ چکا ہے ۔

سنگِ تربت ہے مرا گرویدہَ تقریر دیکھ
چشمِ باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ
معانی: سنگ تربت: قبر پر لگا ہوا پتھر ۔ گرویدہَ تقریر: بات چیت ، گفتگو کا شوق رکھنے والا ۔ چشمِ باطن: مراد بصیرت ۔ لوح: تختی ۔
مطلب: چنانچہ میری لوح تربت جن الفاظ میں تجھ سے عالم خیال میں مخاطب ہے اپنی چشم باطن سے اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ کرو ۔

مُدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں
ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں
معانی: مُدعا: مقصد ۔
مطلب: اے لوگو! اگر دنیا میں تمہارا مقصد دین کی تعلیم پھیلانا ہے تو خدارا اپنی قوم کو رہبانیت یعنی دنیا کو ترک کرنے کا سبق نہ دینا ۔

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہَ محشر یہاں
معانی: وا کرنا: کھولنا ۔ چھُپ کے بیٹھا ہے: مراد ابھی دبا ہوا ہے ۔ ہنگامہَ محشر: قیامت کا فساد، مراد بہت بڑا فساد، فتنہ ۔
مطلب: سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرقہ بندی کی حمایت میں کبھی اپنی زبان نہ کھولنا ۔ اس لیے کہ یہ ایک ایسی لعنت ہے جو ملک و ملت کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے ۔

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تقریر سے
معانی: وصل: مراد اتفاق و محبت ۔ دل دکھنا: دل کو تکلیف پہنچنا ۔
مطلب: اس کے برعکس تمہاری ہر تحریر اور تقریر سے اتحاد و اتفاق کا عنصر نمایاں ہونا چاہیے ۔ اور نہ ہی ایسی گفتگو کرنا جو دوسروں کے لیے دل دکھانے کا سبب بن جائے ۔

محفلِ نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ، ان فسانوں کو نہ چھیڑ
معانی: محفلِ نو: نئی، جدید دنیا ۔ پرانی داستان چھیڑنا: پرانے مسئلے چھیڑنا یا ان کو ہوا دینا ۔ رنگ پر آنا: مقبول ہونا ۔
مطلب: مزید یہ کہ آج کے ترقی پذیر معاشرے میں ماضی کی روایات کو دہرانا درست نہیں ۔ اس لیے کہ اب اس نوع کی افسانہ طرازی ماحول میں کوئی رنگ نہیں بھر سکتی نا ہی اس سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہو گا ۔

تُو اگر کوئی مدبر ہے تو سُن میری صدا
ہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کا عصا
معانی: مدبر: سیاست دان ۔ صدا: آواز، مراد نصیحت ۔
مطلب: سر سید کی لوح تربت اس بند میں یوں گویا ہے کہ تم لوگوں سے جو مدبر اور سیاستدان ہیں وہ بغور میرا پیغام سن لیں کہ جرات مندی اور دلیری ان کا شعار ہونا چاہیے ۔ کہ وہ ملک و ملت کے مفاد میں حقیقت پسندی اور راست گوئی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر پیش کریں ۔

عرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے
معانی: جھجک جانا: رک جانا، ڈر محسوس کرنا ۔
مطلب: اور سچائی کے اظہار میں کسی قسم کی جھجک کسی طور پر بھی مناسب نہیں اس لیے کہ اگر ملت درست ہو تو اپنی بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ۔

بندہَ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوتِ فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
معانی: بیم و ریا: ہر طرح کا خوف اور سیاسی دکھاوا ۔
مطلب: یوں بھی نیک اور حق گو انسان کا دل کسی بھی جھجک اور تذبذب کا شکار نہیں ہوتا اور حکمران خواہ کتنے بھی جابر ہوں ان کے روبرو اپنے نقطہ کا اظہار پوری بیباکی اور جرات مندی کے ساتھ کرتا ہے ۔

ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہَ معجز رقم
شیشہَ دل ہو اگر تیرا مثالِ جامِ جم
معانی: خامہَ معجز رقم: ایسی تحریر لکھنے والا قلم جو دوسرا نہ لکھ سکے ۔ شیشہَ دل: مراد دل ۔ جام جم: قدیم ایرانی بادشاہ جمشید کا شراب کا پیالہ جس میں دنیا نظر آتی تھی ۔

پاک رکھ اپنی زباں ، تلمیذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
معانی: پاک رکھ اپنی زباں : کسی کو برا بھلا نہ کہہ، گالی گلوچ نہ کر ۔ تلمیذ رحمانی: خدا کا شاگرد، عربی مقولہ ہے، الشعراَ تلامیذ الرحمٰن، شاعر خدا کے شاگرد ہیں ، الہام ہوتا ہے ۔ صدا: مراد شاعری ۔
مطلب: اگر تم میں سے کوئی ادیب یا شاعر ہے تو تیرا دل ہر طرح کی منافقت اور ریاکاری سے پاک ہونا ضروری ہے اس لیے کہ تم لوگ فطرت کے شاگرد ہو لہذا تمہارا لب و لہجہ کسی حالت میں بھی بے آبرو نہیں ہونا چاہیے ۔

سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمنِ باطل جلا دے شعلہَ آواز سے
معانی: جگا دے: ان میں جوش و جذبہ پیدا کر دے ۔ اعجاز: معجزہ، کرامت ۔ خرمن باطل: کفر، باطل طاقتوں کا کھلیان، فصل ۔ شعلہَ آواز: مراد جذبوں کی گرمی اور حرارت سے پر شاعری ۔
مطلب: اپنے اشعار کے اعجاز سے ان لوگوں کو بیدا ر کر دو جو ایک عرصے سے غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ آخری بات یہ ہے کہ جھوٹ اور باطل کو اپنی حق گوئی اور راست بازی سے فنا کر دو ۔

 

Syed Ki Loh-e-Turbat

Ae ke tera murgh e jaan taar E nafas main hai aseer
Ae ke teri rooh rooh ka taeer qafas main hai aseer

Iss chaman ke naghma pairaon ki azadi to dekh
Shehr jo ujra howa tha us ki abadi to dekh

Fikr rehti thi mujhe jis ki woh mehfil hai yehi
Sabro istaqlal ki khaiti ka hasil hai yehi

Sang e turbat hai mera gewida e taqreer dekh
Chashm e batin se zara iss loh ki tahreer dekh

Mudda tera agr dunya mein hai taleem e den
Turk E dunya qoum ko apni na sikhlana kahin

Wa na karna firqa bandi ke liya apni zuban
Chup ke hai baitha howa hangama E mehshar yahan

Wasl ke asbab paida hon teri tehreer se
Dekh koi dil na dukh jaye teri taqreer se

Mehfil E nau main purani dastanon ko na chhair
Rang par jo ab na ayen un afsanon ko na chhair

Tu agr koi mudabbar hai to sun mari sada
Hai dalairi dast E arbab E siasat ka asa

Arz E matlab se jhijhak jana nahi zaiba tujhe
Naik hai niyyat agr teri to kya parwa tujhe

Banda e monin ka dil beem o riya se pak hai
Quwwat E farman rawa ke samne bebaak hai

Ho agr hathon main tere khana E maujiz raqam
Sheesha E dil ho agr tera misal E jaam O jam

Pak rakh apni zuban talmeez E rehmani hai tu
Ho na jaye dekhna teri sada be abru

Sone walon ko jaga de shair ke ejaz se
Khirman E batil jala de shaola e awaz se

The Tombstone Of Sayyid

O you whose life is confined in the material world
O you whose soul is imprisoned in the cage

Look at the freedom of this garden’s warblers
Look at the prosperity of those once desolate

This is the congregation with which I was concerned
This is the reward of patience and perseverance

My tomb-stone is ardently desirous of speech, look!
At this tomb-stone’s inscription with insight look!

If your aim in the world is din’s education
Never teach your nation world’s abdication

Do not use your tongue for sectarianism
Resurrection Day’s tumult for is stalking

Your writings should pave the way for unity
Beware! No heart should be hurt by your speech

In the new congregation do not start old tales
Do not start again what are now unacceptable tales

Listen to my advice if you are any statesman
Courage is your support if you are a leader of men

Hesitation in expressing your purpose does not behoove you
If your intentions are good you should not fear anything

The Mu’min’s heart is clear of fear and hypocrisy
The Mu’min’s heart is fearless against the ruler’s power

If your hands do hold the miraculous pen
If your heart’s cup is clear like the cup of Jam

With the miracle of your verse awaken those sleeping
Burn down falsehood’s produce with the flame of your call

Full Book with Translation BANG-E-DRA

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.