Sada e Dard | The Painful Wail | Ban-e-Dra-016
Sada e Dard
–
صدائے درد
جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محیطِ آبِ گنگا تو مجھے
معانی: کل نہ پڑنا: چین نہ آنا، بیقراری ۔ کسی پہلو: کسی طرح بھی ۔ محیط: دریا کا پاٹ ۔ آبِ گنگا: دریائے گنگا، ہندووَں کا بہت مقدس دریا ۔
مطلب: اس نظم میں اقبال کہتے ہیں کہ ہندوستان کے باشندوں کے مابین نفاق کا جو عالم ہے اس نے مجھے جلا کر رکھ دیا ہے ۔ اسی دکھ کے سبب مجھے ایک لمحے کے لیے بھی اضطراب سے نجات نہیں ملتی ۔ اسی دکھ میں لمحہ بہ لمحہ تڑپ رہا ہوں ۔ اس سے شاید نجات مل جائے کہ میں دریائے گنگا میں ڈوب کر مر جاؤں ۔ شاید یہی عمل میرے سکون کا سبب بن سکے اور اس کرب سے نجات حاصل سکوں ۔
سرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے
وصل کیا، یاں تو اک قُربِ فراق انگیز ہے
معانی: قیامت کی: بیحد، بہت زیادہ ۔ نفاق انگیز: آپس میں پھوٹ، نا اتفاقی ڈالنے والی ۔ قرب فراق انگیز: ایسی نزدیکی جس میں دوری شامل ہو ۔
مطلب: افسوس کہ میرا وطن عدم اتفاق اور نفاق کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ یہاں جو مختلف قو میں آباد ہیں وہ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں ہر طرف فرقہ وارانہ فسادات کا زور ہے ۔
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب
ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب
معانی: غضب: دکھ کی بات ۔ خرمن: کھلیان، غلے کا ڈھیر ۔
مطلب: ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں اتفاق اور باہمی یگانگت کا مظاہرہ ہوتا ۔ اس کے برعکس اس سرزمین پر موجود ہر شخص دوسرے کے خون کا پیاسا ہے ۔
جس کے پھولوں میں اخوت کی ہوا آئی نہیں
اس چمن میں کوئی لُطفِ نغمہ پیرائی نہیں
معانی: نغمہ پیرائی: ترانہ، گیت گانا ۔
مطلب: یہاں کی فضا محبت و اخوت کے جذبوں سے خالی ہے ۔ سو میرے جیسا درد مند شاعر ایسی فضا میں کس طرح شعر کی تخلیق کر سکتا ہے
لذّتِ قربِ حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں
اختلاطِ موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں
معانی: قربِ حقیقی: مراد صحیح معنوں میں د وستی، بھائی چارا ۔ مٹا جانا: کسی چیز بات سے بیحد لگاوَ ہونا ۔ اختلاط: باہم ملنا، ٹکرانا ۔ موجہ و ساحل: لہر اور کنارہ ۔
مطلب: میں توہندوستان کے باشندوں کے مابین حقیقی قرب اور اتحاد کا خواہاں ہوں جب کہ موج اور ساحل کے مابین جو ٹکراوَ اور تصادم کی فضا ہوتی ہے وہ کم از کم میرے لیے اضطراب و بے چینی کا سبب بن جاتی ہے ۔
دانہَ خرمن نما ہے شاعرِ معجز بیاں
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں
معانی: دانہَ خرمن: ایسا دانہ جس سے پورے کھیت کا پتا چل جائے، دانہ مراد شاعر اور خرمن مراد قوم ۔ شاعرِ معجز بیاں : معجزے کی سی فصیح شاعری کرنے والا ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ جس طرح ایک دانے سے پورے کھلیان کی حقیقت اور اس کے معیار کا اندازہ ہو جاتا ہے اسی طرح شاعر اور اس کا کلام کسی قوم کا آئینہ دار ہوتا ہے لیکن خرمن کی تباہی سے دانے کا وجود بھی برقرار نہیں رہتا ۔
حُسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو
شمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہو
معانی: مائل: توجہ کرنے، دیکھنے والا ۔ خود نما: اپنے حسن کی نمائش کرنے والا ۔
مطلب: اگر کوئی توجہ کرنے والا ہی موجود نہ ہو تو اپنے حسن کی افادیت بھی ختم ہو جاتی ہے اس لیے کہ شمع تو محفل کو منور کرتی ہے اور جب محفل کا کوئی وجود ہی نہ ہو تو شمع کے جلنے کا کیا فائدہ ۔ مراد یہی ہے کہ جب متحد و متفق قوم ہی نہ موجود ہے تو کوئی شاعر ایسی صورت میں اپنے فن کا اظہار کیسے کر سکے گا ۔
ذوقِ گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
معانی: ذوقِ گویائیَ بولنے کا شوق، اشتیاق ۔ جوہر: مراد چمک دمک ۔
مطلب: اقبال انتہائی یاس و اضطراب کے عالم میں کہتے ہیں کہ مذکورہ صورت حال میں نہ جانے میں عرض ہنر سے گریز کی راہ کیوں نہیں اختیار کر لیتا ۔ نہ جانے مجھ میں جو تخلیقی صفات موجود ہیں ان کا خاتمہ کیوں نہیں ہو جاتا ۔
کب زباں کھولی ہماری لذّتِ گفتار نے
پھونک ڈالا جب چمن کو آتشِ پیکار نے
معانی: لذت گفتار: بولنے کا مزہ ۔ پھونک ڈالا: جلا ڈالا ۔ آتشِ پیکار: مراد دوہ قوموں کی باہم دشمنی ۔
مطلب: دکھ کی بات تو یہ ہے کہ میں نے اس لمحے شعر گوئی کا آغاز کیا ہے جب کہ ہندوستان افتراق و نفاق کی آگ میں جل رہا ہے اس حالت میں میرے نغمے کون سنے گا ۔
Sada e Dard Ban-e-Dra-016 in Roman Urdu
Badle yak rangi ke ye nashnayi hai ghazab
Aik hi khirman ked anon mein judai ghazab
Jis ke phoolon main akhuwat ki hwa ayi nahi
Uss chaman main koi lutf e naghma pairayi nahi
Lazzat e qurb e haqiqi par mita jata hu mein
Ikhtilat e mouja o sahil se ghabrata hu mein
Dana e khirman numa hai shayar e maujiz byan
Ho na khirman hi to iss dane ki hasti phir kahan
Husn ho kya khudnuma jab koi maeel hi na ho
Shama ko jalna se kya matlab jo mehfil hi na ho
Zauq e goyai khamoshi se badalta kyun nahi
Mere aene se ye johar nikalta kyun nahi
Kaab zuban kholi humaari lazzat e guftar ne
Phoonk dala jab chaman ko atish e paikar ne
The Painful Wail-Ban-e-Dra-016
Consumed with grief I am, I get relief in no way
O Circumambient waters of the granges drown me
Our land foments excessive mutual enmity
What unity our closeness harbors separation
Enmity instead of sincerity is outrageous
Enmity among the same barn’s grains is outrageous
If the brotherly breeze has not entered in a garden
No pleasure can be derived from songs in that garden
Though i exceedingly love the real closeness
I am upset by the mixing of waves and the shore
The miraculous poet is like the grain from the barn
The grain has no existence if there is no barn
How can beauty unveil itself if no one is anxious for sight
Lighting of the candle is meaningless if there is no assembly
Why does the taste for speech not change to silence
Why does this brilliance not appear out from my mirror
Alas my tongue poured its speech down
When war’s fire had burnt the garden down