Aqal-o-Dil | Reason And Heart | Baang-e-Dara: 15

WhatsApp Channel Join Now

 

Aqal-o-Dil 


عقل و دل


عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میں
مطلب: یہ نظم عملی سطح پر عقل اور دل کے مابین ایک مکالمہ ہے جس میں عقل اور دل اپنی اپنی خصوصیات بیان کرتے ہیں ۔ نظم کا آغاز عقل کی زبانی سے ہوتا ہے جو دل سے ایک دن یوں گویا ہوتی ہے کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو یہ جان لے کہ میں ان لوگوں کی رہنما ئی کے فراءض انجام دیتی ہوں جو اپنے صحیح راستے سے بھٹک کر غلط راہ پر چل پڑے ہیں ۔


ہوں زمیں پر، گزر فلک پہ مرا
دیکھ تو کس قدر رَسا ہوں میں
معانی: رَسا: پہنچنے والی ۔
مطلب: بے شک میرا وجود زمین پر قائم ہے اس کے باوجود میری پہنچ آسمان تک ہے کہ میں اپنی قوت استدلال کے سبب زمین پر رہتے ہوئے بھی آسمان کی وسعتوں اور ان کے عوامل سے پوری طرح آگاہ رہتی ہوں ۔


کام دنیا میں رہبری ہے مرا
مثلِ خضرِ خجستہ پا ہوں میں
معانی: خضر: وہ ولی جو بھولے ہوئے کو راستہ دکھاتا ہے ۔ خجستہ پا: مبارک قدموں والا یہ فریضہ لگا دیا ہے ۔
مطلب: اس دنیا میں میرا کام تو ان لوگوں کی صحیح رہبری کرنا ہے جو اپنی راہ سے بھٹک چکے ہیں ۔ یوں میری حیثیت خضر کی سی ہے جس کے ذمے قدرت نے یہ فریضہ لگا یا ہے ۔


ہوں مفسر کتابِ ہستی کی
مظہرِ شانِ کبریا ہوں میں
معانی: کتابِ ہستی: مراد زندگی کی کتاب ۔ مظہر: ظاہر ہونے کی جگہ ۔ شانِ کبریا: خدا کی شان، عظمت ۔
مطلب: اگر زندگی کو ایک صحیفہ تصور کر لیا جائے تو یہ جان لے کہ میں اس کی تفسیر کی اہلیت رکھتی ہوں ۔ یہی نہیں بلکہ شان خداوندی کا اظہار بھی میرے ہی دم سے ہوتا ہے ۔


بوند اک خون کی ہے تو لیکن
غیرتِ لعلِ بے بہا ہوں میں
معانی: لعلِ بے بہا: بہت قیمتی لعل ۔
مطلب: تیری حیثیت تو اے دل بس اتنی ہی ہے کہ تو خون کی ایک بوند کی مانند ہے جب کہ میرا وجود ایک نایاب لعل کی طرح سے ہے جس کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا ۔


دل نے سن کر کہا، یہ سب سچ ہے
پر مجھے بھی تو دیکھ کیا ہوں میں
مطلب: عقل کی زبان سے یہ الفاظ سن کر دل نے جواب میں کہا، تو نے جو کچھ کہا ہے بے شک درست ہے لیکن تو نے میری حقیقت کو جاننے کی بھی کوشش نہیں کی نہ ہی اس امر کا تجزیہ کر سکی کہ فی الواقع میں کیا شے ہوں ۔


رازِ ہستی کو تو سمجھتی ہے
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں
مطلب: مانا کہ زندگی کے اسرار کا تجھ کو ادراک ہے لیکن یہ نہ بھول کہ میں تو ان کو خود اپنی آنکھوں کی بصیرت سے دیکھنے کا اہل ہوں ۔


علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو، خدا نما ہوں میں
معانی: خدا جو: خدا کو تلاش کرنے والی ۔ خدا نما: خدا کا پتہ بتانے والا ۔
مطلب: تیرا واسطہ تو محض ظاہری اشیاَ سے ہے جب کہ میں داخلی سطح پر ہر شے کے باطن سے شناسا رہتا ہوں ۔ اس حقیقت کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ تیرا دائرہ کار علم ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کائنات کے جملہ اسرار کی پہچان کا منبع میں ہوں ۔ خدا کو شناخت کرنے کا عمل بھی تیری بجائے میری وجود سے وابستہ ہے ۔


علم کی انتہا ہے بے تابی
اس مرض کی مگر دوا ہوں میں
معانی: مرض: بیماری، مراد حقیقت مطلقہ تک پہنچ نہ ہونا ۔
مطلب: اے عقل! یہ بھی جان لے کہ علم جب اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اس کا رد عمل اضطراب اور بے چینی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے لیکن یہ تو محض ایک عارضہ ہے ۔ چنانچہ میری ذات ہی اس مرض کے لیے مسیحا کی حیثیت رکھتی ہے ۔


شمع تو محفلِ صداقت کی
حُسن کی بزم کا دیا ہوں میں
معانی : محفل صداقت: حقیقت کی بزم ۔ حُسن: مراد محبوب حقیقی کا حسن وجمال ۔
مطلب: تو اگر سچائی کی محفل میں شمع کے مانند ہے تو میں بھی حسن کی بزم میں ایک روشن دیے کی حیثیت رکھتا ہوں ۔ ٍ


تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائرِ سدرہ آشنا ہوں میں
معانی: رشتہ پا: جس کے پاؤں میں دھاگا بندھا ہوا، ایسا پرندہ جو خاص حد تک اڑ سکے ۔ طائر: پرندہ ۔ سدرہ آشنا: جبرئیل کے ٹھکانے سے واقف ۔
مطلب: اے عقل! اگر تیری رسائی زمان و مکان تک ہے تو یہ نہ بھول کہ میری پرواز ان مراحل تک ہے جہاں زمان و مکان کی حدود ختم ہو جاتی ہیں ۔


کس بلندی پہ ہے مقام مرا
عرش ربِ جلیل کا ہوں میں
معانی: ربِ جلیل: بڑی عظمت والا خدا ۔
مطلب: بس اس سے زیادہ اور میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ میرا رتبہ انتہائی بلند ہے ۔ بس اتنا جان لے کہ میرا وجود تو رب جلیل کے عرش کی مانند ہے ۔

Aqal-o-Dil in Roman Urdu

Aqal ne aik din ye dil se kaha
Bhoole bhatke ki rahnuma ho mein

Hun zameen par guzr falak pe mera
Dekh to kis qadr rasa ho mein

Kaam dunya main rahbari hai mera
misl e khizer e khajasta pa hun mein

Hum mufassir e kitab e hasti ki
Mazhar e shan e kibriya ho mein

Hun mufassir e kitab e hasti ki
Mazhar e shan e kibriya ho mein

Boond ek khoon ki hai tu lekin
Ghairat e laal e be baha ho mein

Dil ne sun kar kaha ye sub sach hai
Par mujhe bhi to dekh kya ho mein

Raaz e hasti ko ti samjhti hai
Aur ankhon se dakhta ho mein

Hai tujhe wasta mazahir se
Aur batin se ashna ho mein

Ilm tujh s to masrifat mujhe se
Tu khuda jo Khuda numa ho mein

Ilm ki intiha hai betabi
Iss marz ki magr dawa ho mein

Shama tu mehfil e sadaqt ki
husn ki bazm ka diya ho mein

Tu zaman o makan se rishta bapa
Taeer e sidra se ashna ho mein

Kis bulandi pe hai maqam mera
Arsh Rab e jaleel ka ho Mein

Reason and Heart in English

One day reason said to the heart
I am a guide for those who are lost

I live on earth but roam the skies
Just see the vastness of reach

My task in the world is to guide and lead
I am like khizr of blessed steps

I interpret the book of life
And through me divine glory shines forth

You are no more than a drop of blood
While i am the envy of the Priceless pearl

The heart listened and then said this is all true
But now look at me and see what i am

you penetrate the secret of existence
but i see it with my eyes

You deal with the outward aspect of things
I know what lies within

Knowledge comes from you gnosis from me
You seek Allah i reveal him

Attaining the ultimate in knowledge only makes one restless
I am the cure for that malady

You are candle of the assembly of truth
I am the lamp of the Assembly of beauty

You are hobbled by space and time
while i am the bird in the lotus tree

My status is so high
I am the throne of the God of Majesty

Full Book with Translation BANG-E-DRA

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.