Bohat Dekhe Hain Main Ne Mashriq-o-Maghrib Ke Maikhane | Bal-e-Jibril-020

WhatsApp Channel Join Now

Bohat Dekhe Hain Main Ne Mashriq-o-Maghrib Ke Maikhane

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا
مطلب: اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ مشرق و مغرب کے مابین جو تضاد ہے وہ بالکل واضح ہے ۔ عملاً اس شعر میں وہ مشرقی اور مغربی تہذیب و علوم کا موازنہ یوں کرتے ہیں کہ یہ بدقسمتی ہے کی مشرق میں بے پناہ علوم و فنون موجود ہیں لیکن ان کو وسعت دینے کی صلاحیت سے اہل مشرق محروم ہیں ۔ اس کے مقابلے میں اہل مغرب اپنے علم و فن کو وسعت دینے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن ان علوم و فنون میں وہ روح نہیں جو انسان پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے ۔ بالفاظ دگر مغربی تہذیب و علوم راہ حق دکھانے کے بجائے صرف مادی افادیت سے ہم کنار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بس ۔

نہ ایراں میں رہے باقی، نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قیصر و کسریٰ
مطلب: جن اہل حق اور جرات مند انسانوں نے روم و ایران کی سلطنتوں اور تہذیب کو اپنی حق گوئی بے باکی اور جرات و شجاعت سے خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اب وہ شخصیتیں نہ تو ایران میں باقی ہیں نہ توران میں ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مشرق کے اسلامی ملک اب ایسے صاحب کردار اور جانباز فرمانرواؤں سے محروم ہو چکے ہیں جن کی شان و شوکت اور دبدبہ ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اب تو صورت حال یکسر بدل گئی ہے ۔

یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا
معانی: شیخ حرم: مسجد کا مولوی ۔ گلیم بوذر: ابوذر غفاری کی چادر ۔ دَلقِ اویس: حضرت اویس قرنی کی گدی ۔ چادر زہرا: حضرت فاطمۃ الزہرا کی چادر ۔
مطلب: اقبال عرب ممالک کی صورت حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ وہ ممالک تھے جنہیں کعبہ کا سردار کہا جاتا تھا لیکن اب کیفیت یہ ہے کہ یہاں کے سرداروں نے ابوذر غفاری کی گدڑی ، حضرت اویس قرنی کا خرقہ اور سیدہ فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیہا کی چادر تک بیچ کھائی ہے ۔ اقبال کا مفہوم یہ ہے کہ عرب کے سردار غیرت و حمیت سے محروم ہو چکے ہیں اور انھوں نے اپنے باوقار اور صاحب کردار آباء و اجداد کا ترکہ بھی داوَ پر لگا دیا ہے ۔ وہ تمام اسلامی اور انسانی خصوصیات سے محروم ہو چکے ہیں ۔ ان کے نزدیک تو عیاشی اور شکم پروری ہی سب کچھ ہے ۔ اس مقصد کے لیے وہ نچلی سے نچلی سطح تک جانے کو تیار ہیں ۔

حضورِ حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی
یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا
معانی: اسرافیل: فرشتہ جو صور پھونکنے پر مقرر ہے ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ اقبال حضرت اسرافیل کے حوالے سے اپنی حق گوئی اور بے باکی کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ فرشتوں کو بھی اس امر کا خوف ہے کہ میری یہ صلاحتیں اور جرات مندی کہیں قیامت سے پہلے قیامت برپا نہ کر دے چنانچہ انھوں نے اس امر کی خداوند تعالیٰ کے روبرو شکایت کی ۔

ندا آئی کہ آشوبِ قیامت سے یہ کیا کم ہے
گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا
مطلب: اس شعر کے مطابق فرشتے کی شکایت کے جواب میں عرش معلی سے آواز آئی کہ یہ حقیقت ہی قیامت سے کیا کم ہے کہ کعبہ سے ہزاروں میل دور رہنے والے اہل چین تو عمرہ و حج کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں جب کہ خود اہل مکہ کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے نواحات میں خواب خرگوش میں مبتلا ہیں ۔ اقبال کے اس شعر کا دوسرا مصرعہ حکیم سنائی کے قصیدے سے اقتباس ہے ۔

لبالب شیشہَ تہذیبِ حاضر ہے مئے لا سے
مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہَ اِلَّا
مطلب: مغربی تہذیب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مغرب میں تو اب خدا کی ذات سے بھی انکار ہو رہا ہے اور کوئی اس کے احکام کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ۔ عملاً وہاں ابلیس کی حکمرانی ہے ۔ اس کے برعکس وہاں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو اہل مغرب کو خدا کے وجود اور اس کے احکامات کو تسلیم کرنے پر آمادہ کر سکے ۔

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سُروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا
معانی: زخمہ ور: ساز کو چوٹ لگانے والا ۔ تیز دستی: تیز ہاتھ نے دبا رکھا ہے ۔ بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا: یورپ کا شور و غوغا ابھی بہت مدھم ہے ۔
مطلب: افکار خداوندی اور اس کے احکامات کی عدم تکمیل کے سبب مغرب میں جو انتشار و اضطراب کا غلغلہ ہے ہر چند کی اس کو خوش آئند نعروں اور اسی نوع کی دوسری چیزوں نے عارضی طور پر دبا رکھا ہے لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکے گا ۔ بالاخر اس صورت حال کا ردعمل کسی نہ کسی شکل میں واضح ہو کر سامنے آئے گا ۔

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موجِ تُند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا
معانی: تند جولاں : تیز چلنے والی لہر ۔ نہنگوں : مگر مچھوں ۔ نشیمن: گھر ۔ تہ و بالا: برباد ہو جاتے ہیں ۔
مطلب: ہر چند کی یورپ اس وقت بڑی طاقتوں کا مرکز ہے اس نے دنیاوی سطح پر بھی بڑی ترقی کر لی ہے لیکن آخر کار وہاں موجود تہذیب ہی ان طاقتوں کی تباہی کا سبب بنے گی ۔

Bohat Dekhe Hain Main Ne in Roman Urdu

Bohat Dekhe Hain Main Ne Mashriq-o-Maghrib Ke May Khane
Yahan Saqi Nahin Payda, Wahan Be-Zauq Hai Sehba

Na Iran Main Rahe Baqi, Na Tooran Mein Rahe Baqi
Woh Banday Faqr Tha Jin Ka Halaak-e-Qaisar-o-Kasra

Yehi Sheikh-e-Haram Hai Jo Chura Kar Baich Khata Hai
Galeem-e-Bu Zar (R.A.)-o-Dalaq-e-Awais (R.A)-o-Chadar-e-Zahra (R.A.)

Huzoor-e-Haq Mein Israfeel Ne Meri Shikayat Ki
Ye Banda Waqt Se Pehle Qayamat Kar Na De Barpa

Nida Ayi Ke Ashob-e-Qayamat Se Ye Kya Kam Hai
‘Garaftah Cheeniyan Ahram-o-Makki Khufta Dar Batha’

Labalab Shisha’ay Tehzeeb-e-Hazir Hai Ma’ay ‘LA’ Se
Magar Saqi Ke Hathon Mein Nahin Paymana’ay ‘ILLAH’

Daba Rakha Hai Uss Ko Zakhmawer Ki Taiz Dasti Ne
Bohat Neeche Suron Mein Hai Abhi Yourap Ka Wavela

Issi Darya Se Uthti Hai Woh Mouj-e-Tund Joulan Bhi
Nehnangon Ke Nasheman Jis Se Hote Hain Teh-o-Bala

I have seen many a in English

I have seen many a wine‐shop East and West;
But here no Saki, there in the grape no glow.

In Iran no more, in Tartary no more,
Those world‐renouncers who could overthrow

Great kings; the Prophet’s heir filches and sells
The blankets of the Prophet’s kin.

When to The Lord I was denounced for crying Doomsday
Too soon, by that Archangel who must blow Its trumpet

God made answer—Is Doomsday far
When Makkah sleeps while China worships?

Though the bowl of faith finds none to pour, the beaker
Of modern thought brims with the wine of No.

Subdued by the dexterous fiddler’s chords there murmurs
In the lowest string the wail of Europe’s woe—

Her waters that have bred the shark now breed
The storm‐wave that will smash its den below!

Click Here Full book

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.