Sama Sakta Nahin Pehnaay Fitrat Mein Mera Soda

WhatsApp Channel Join Now

Sama Sakta Nahin Pehnaay Fitrat Mein Mera Soda

اعلیٰ حضرت شہید نادر شاہ غازی کے لطف و کرم سے نومبر 33ء میں مصنف کو حکیم سنائی غزنوی کے مزار مقدس کی زیارت نصیب ہوئی ۔ یہ چند افکار پریشاں جن میں حکیم ہی کے ایک مشہور قصیدے کی پیروی کی گئی ہے اس روز سعید کی یادگار میں سپرد قلم کئے گئے ۔ ما ازپے سنائی و عطار آمدیم

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازہَ صحرا
معانی: ما از پئے سنائی و عطارآمدیم: ہم حکیم سنائی اور فرید الدین عطار کے بعد آئے(مولانا روم) ۔ پہنائے فطرت: قدرتی کھلی میدان ۔ سودا: جنون ۔ اندازہَ صحرا: صحرا کی وسعت کا اندازہ غلط تھا ۔
مطلب: زیر تشریح نظم بھی انھوں نے حکیم سنائی کے ایک مشہور قصیدے سے متاثر ہو کر اسی اسلوب میں تخلیق کی ہے ۔ اس کے مطلع میں اقبال کہتے ہیں کہ میرے جذبہ عشق میں اتنی شدت اور وسعت ہے کہ اگر اس کا احاطہ کیا جائے تو وہ صحرا کی لامحدود پہنائیوں میں بھی نہیں سما سکتا ۔ وہ اس شعر میں اپنی اس جذباتی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں جو خود ان کے اپنے اندازے سے بھی کہیں زیادہ شدید ہے ۔ جنون عشق میں روایتی سطح پر صحرا ہی پناہ گاہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ میرے لیے تو وسعت صحرا بھی ناکافی ہے ۔

خودی سے اس طلسمِ رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا
معانی: طلسم رنگ و بو: رنگ و بو کا جادو یعنی دنیا کا جادو توڑ سکتے ہیں ۔
مطلب: کائنات کے جو رازہائے سربستہ ہیں وہ محض خودی کے توسط سے ہی منکشف ہو سکتے ہیں اگر یہ طلسم ٹوٹ جائے تو پھر ذات باری تعالیٰ کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے ۔ توحید عملاً اسی حقیقت سے ہم آہنگ ہے جسے ابھی تک فی الواقع کوئی بھی سمجھ نہیں سکا ۔

نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عینِ فطرت ہے
کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا
معانی: تجلی عین فطرت: نور الہٰی فطری ہے ۔
مطلب: انسان عملاً اس حقیقت سے کلی طور پر غافل ہے کہ نور مطلق ہی دراصل فطرت کی حقیقی روح ہے ۔ جس طرح دریا اپنی موجودگی کے بغیر محض ایک ٹھہرے ہوئے پانی کا ذخیرہ بن سکتا ہے ۔ یہی کیفیت نور مطلق کے شعور کے بغیر انسان کی ہے اور بدقسمتی یہ کہ انسان ابھی تک اسی شعور سے بیگانہ ہے ۔

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلّاج کی سُولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا
مطلب: علم و حکمت میں مخالفت اہلِ مسجد (خطیبوں ) کی غلطی ہے ۔ وہ حلاج کی سولی کو اپنا دشمن جانتا ہے یعنی ظاہری طور پر دیکھنے والے عالموں نے غلط فہمی کی بنا پر انھیں ایک دوسرے کا حریف بنا دیا ۔ اس لیے ان لوگوں نے منصور بن حلاج جس کو انا الحق کہنے کی پاداش میں سولی پر چڑھادیا گیا تھا اپنا رقیب سمجھ لیا ۔ یعنی اس کی مخالفت میں کمر بستہ ہو گئے ۔

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں ، غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا
مطلب: اس شعر میں اقبال نے ایک ایسا اہم نکتہ بیان کیا ہے جو ہمیشہ سے زیادہ آج کی صورتحال میں زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اقتدار ہو یا محکومی دونوں حالتوں میں سچے اور نیک باطن لوگ حرص و ہوس سے بے نیاز ہو کر ہی انتشار و اضطراب اور بنی نوع کے مسائل سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں یعنی استغنا ایسا عمل ہے جو ہر حالت میں انسان کو تمام مسائل و آلام سے محفوظ رکھتا ہے ۔

نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کی
تن آسانی عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اولیٰ
مطلب: اس شعر میں اقبال فرشتوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ تم ہم ایسے عمل پسند اور عشق حقیقی میں سرشار لوگوں کی تقلید کیا کرو گے کہ تمہارے نزدیک تو ہر لمحہ ذکر خداوندی، تسبیح خوانی اور عرش الہٰی کا طواف ہی کافی ہے ۔ جب کہ عشق حقیقی کی راہیں بے حد کٹھن ہیں ۔ اس حقیقت کا عرفان تمہیں ہو ہی نہیں سکتا ۔

Sama Sakta Nahin in Roman Urdu

Sama Sakta Nahin Pehna’ay Fitrat Mein Mera Soda
Galat Tha Ae Junoon Shaid Tera Andaza’ay Sehra

Khudi Se Iss Tilism-E-Rang-O-Boo Ko Torh Sakte Hain
Yehi Touheed Thi Jis Ko Na Tu Samjha Na Mein Samjha

Nigah Payda Kar Ae Ghafil Tajali Aen-E-Fitrat Hai
Ke Apni Mouj Se Begana Reh Sakta Nahin Darya

Raqabat Ilm-O-Irfan Mein Galat Beeni Hai Manbar Ki
Ke Woh Hallaj Ki Sooli Ko Samjha Hai Raqeeb Apna

Khuda Ke Pak Bandon Ko Hukoomat Mein, Ghulami Mein
Zirah Koi Agar Mehfooz Rakhti Hai To Istagna

Na Kar Taqleed Ae Jibraeel Mere Jazb-O-Masti Ki
Tan Asan Arshiyon Ko Zikr-O-Tasbeeh-O-Taawaf Aola !

All Nature’s in English

All Nature’s vastness cannot contain you, oh
My madness: vain, those wanderings to and fro In deserts!

By self-hood only are the spells of sense broken,
That power we did not know.

Rub your eyes, sluggard! Light is Nature’s law,
And not unknown to Ocean its waves flow.

Where reason and revelation war, faith errs
To think the Mystic on his cross its foe,

For God’s pure souls, in thralldom or on thrones,
Have one safe shield, his scorn of this world’s show.

But do not, Gabriel, envy my rapture:
Better for Heaven’s dounce folk the prayer and the beads’ neat row!

Full Book BAL-E-JIBRIL

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.