Ghulami Kya Hai? Zauq-e-Husn-o-Zaibai Se Mehroomi | Bal-e-Jibril-021

WhatsApp Channel Join Now

Ghulami Kya Hai? Zauq-e-Husn-o-Zaibai Se Mehroomi

غلامی کیا ہے ذوقِ حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا
مطلب: حقیقت یہ ہے کہ اس قصیدہ نما نظم میں علامہ اقبال نے ایک سے زیادہ موضوعات کو اپنے اظہار میں پیش نظر رکھا ہے ۔ آئندہ جو تین اشعار ہیں ان میں اپنے نقطہ نظر سے غلامی او آزادی کا تجزیہ کیا ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ غلامی دراصل حسن و زیبائی سے محرومی کا نام ہے ۔ اور فکر و عمل کی آزادی کے بغیر کوئی شخص بھی آزاد تصور نہیں کہا جا سکتانا ہی اس کی رائے کو کوئی اہمیت دی جا سکتی ہے ۔

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
معانی: بصیرت: عقل مندی کی نظر ۔ مردانِ حُر: آزاد مرد ۔ بینا: دیکھنے والی آنکھ ۔
مطلب: اس شعر میں بھی گزشتہ شعر کے موضوع کے تسلسل میں علامہ نے کہا ہے کہ غلاموں کی بصیرت بھی ناقابل اعتماد ہوتی ہے اس لیے کہ بصیرت تو صرف ان مردان حر کے پاس ہوتی ہے جو بلاخوف و خطر حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں ۔

وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہرِ فردا
معانی: صاحب امروز: وقت کی نبض پہچاننے والا ۔ گوہرِ فردا: کل کا موتی یعنی آئندہ آنے والی نعمت ۔
مطلب: وہی آج کے عہد کا کامیاب و کامران قائد ہے جو اپنی ہمت و صلاحیت کے بل بوتے پر مستقبل کے متوقع مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان سے نمٹنے کی قدرت رکھتا ہو ۔ مقصد یہ کہ عہد حال میں جو کچھ آنکھوں کے سامنے عمل میں آ رہا ہے اس کا اندازہ تو قریب قریب ہر سمجھدار شخص کو ہو سکتا ہے لیکن حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو اپنی دوربیں نگاہوں اور ادراک و شعور سے مستقبل میں وجود پذیر ہونے والے معاملات تک رسائی حاصل کر سکے ۔ ایسا شخص ہی اپنے دور کے علاوہ آئندہ عہد کی نسلوں کی رہنمائی کا حقدار ہو تاہے ۔

فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھر ہو گئے پانی
مری اکسیر نے شیشے کو بخشی سختیِ خارا
مطلب: مذکورہ بالا تین اشعار کے بعد اقبال پھر اپنا موضوع بدلتے ہیں ۔ ان کے مطابق اہل یورپ نے مشرق کی مستحکم اور باوقار قوتوں کو اپنی شعبدہ بازی اور مکاری کے ذریعے ان کی تمام صلاحیتوں اور قوتوں سے محروم کر رکھا ہے ۔ لیکن مجھے قدرت نے ایسی توفیق عطا کر دی ہے کہ جس کے ذریعے میں اہل مشرق میں ہمت اور مقابلے کی استطاعت پیدا کر سکوں ۔

رہے ہیں اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک
مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدِ بیضا
معانی: ہر چند کہ اس عہد کے فرعون میرے افکار کے شدت سے مخالف ہیں اور ہر لمحے مجھے شکست سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے جال بچھائے رہتے ہیں لیکن جس طرح فرعون کے بالمقابل حضرت موسیٰ ید بیضا سے کام لیتے تھے اسی طرح میرے افکار و عمل اور قدرت خداوندی پر اعتماد کا جذبہ میرے دشمن فراعین کے لیے یدبیضا کی سی حیثیت رکھتے ہی ۔

وہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب جائے
جسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا
معانی: نیستاں : بانس کا جنگل ۔
مطلب: اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے علامہ زیر تشریح شعر میں یوں گویا ہیں کہ میرا فکر و عمل کسی منفی قوت سے ناکارہ نہیں ہو سکتا ۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے مشرق کی اقوام میں عزم و ہمت کی ایک نئی لہر اور جذبہ پیدا ہو جائے گا ۔ اس لیے کہ یہ قوت و صلاحیت مجھے خود ذات باری تعالیٰ نے عطا کی ہے ۔

محبت خویشتن بینی، محبت خویشتن داری
محبت آستانِ قیصر و کسریٰ سے بے پروا
مطلب: وہ عشق جو مجھے ذات رسول مقبول سے ہے وہ اپنی حقیقت کو پہچاننے میں مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن ضروری ہے کہ اس جذبہ عشق پر قائم رہنے اور اسے برقرار رکھنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا جائے کہ یہ عشق تو قیصر و کسریٰ جیسے بادشاہوں کے آستانوں سے حاصل ہونے والی عزت و حرمت سے بھی بے نیاز کر دیتا ہے ۔ مراد یہ کہ حضور سے عشق ہی وہ مقتدر جذبہ ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی ۔

عجب کیا گر مہَ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں
کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سرِ خودرا
مطلب: اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ میں ارتقاء کے ان مراحل سے گزر رہا ہوں جن کی بنیاد پر چاند اور ثریا پر اپنا تسلط جما لوں تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ میں تو ذہن اور فطری طور پر اس بلند و بالا ہستی کے خاک پا کی حیثیت رکھتا ہوں جو نبی آخر الزماں ہے اور ازل سے ابد تک پوری کائنات میں اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ چنانچہ اس بلند و بالا شخصیت کے طفیل اگر میں کوئی اعلیٰ مرتبہ حاصل کر لوں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے ۔

وہ دانائے سبل ختم الرُسل مولائے کُل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
معانی: دانائے سبل: راستے جاننے والا ۔ ختم الرسل: آخری رسول ۔ مولائے کل: تمام انسانوں کا رہنما ۔ غبارِ راہ: رستے کی دھول ۔ فروغ: ترقی، بلندی ۔ وادیِ سینا: سینا کی وادی کی عظمت ۔
مطلب: حضور مقبول کی ذات والا صفات تو عقل و دانش کی کلیت سے ہم آہنگ ہے ۔ یہی وہ ذات پاک ہے جو خداوند عزوجل تک رسائی کی ضمانت دے سکتی ہے ۔ یہ وہ ذات والا صفات ہے جس پر اس دنیا میں آنے والے انبیاء اور پیغمبروں کا سلسلہ ختم ہوا کہ وہی تو نبی آخر الزماں ہیں ۔ اور وہی اس پوری کائنات کے آقا و مولا ہیں ۔ انہی کی خاطر یہ کائنات وجود میں آئی ۔ یہی وہ ذات پاک ہے جو راستے کی گرد کو بھی کوہ طور کی تجلیوں میں ڈھالنے کی قدرت رکھتی ہے ۔

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یٰسیں ، وہی طہٰ
معانی: نگاہِ عشق و مستی: عشق کے معاملات ۔ وہی اول وہی آخر: وہی ابتدا ہے اور وہی انتہا ۔
مطلب: پیغمبر آخر الزماں کی عظمت بیان کرتے ہوئے علامہ فرماتے ہیں کہ یہی ذات والا صفات ہے جو نگاہ عشق و مستی میں سب سے ارفع و اعلیٰ ہے ۔ اور اس کائنات میں جس کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی اور جس کی شخصیت دنیا کے آخری مرحلے تک برقرار رہے گی ۔ یہی وہ ہستی ہے جو اخلاق قرآنی کا مکمل نمونہ تھی ۔ یہی ہستی قرآن بھی تھی اور اس کو یٰسین و طہٰ کے القابات سے یاد کیا گیا ہے ۔

سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ
ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لُولوئے لالا
معانی: غواصی: غوطہ زنی، یعنی گہری تلاش ۔ لولوئے لالا: قیمتی موتی ۔
مطلب: اس قصیدہ نما نظم کو تمام کرتے ہوئے آخری شعر میں علامہ فرماتے ہیں کہ حکیم سنائی کا احترام دامن گیر نہ ہوتا تو حضور ختمی مرتبت کی شان میں اسی نعتیہ قصیدے میں جو بحر استعمال کی گئی ہے اس میں مزید اشعار تخلیق کرتا کہ حضور تو اتنی صفات کے مالک ہیں جن کا شمار انسانی فہم سے بالاتر ہے ۔

Ghulami Kya Hai? in Roman Urdu

Ghulami Kya Hai ? Zauq-e-Husn-o-Zaibai Se Mehroomi
Jise Zaiba Kahin Azad Bande, Hai Wohi Zaiba

Bharosa Kar Nahin Sakte Ghulamon Ki Baseerat Par
Ke Dunya Mein Faqat Mardan-e-Hur Ki Ankh Hai Beena

Wohi Hai Sahib-e-Amroz Jis Ne Apni Himat Se
Zamane Ke Sumander Se Nikala Gohar-e-Farda

Farangi Shisha Gar Kar Ke Fun Se Pathar Ho Gaye Pani
Meri Ikseer Ne Shishe Ko Bakhshi Sakhti-e-Khara

Rahe Hain, Aur Hain Firon Meri Ghaat Mein Ab Tak
Magar Kya Gham Ke Meri Asteen Mein Hai Yad-e-Baiza

Wo Chingari Khas-o-Khashaak Se Kis Tarah Dab Jaye
Jise Haq Ne Kiya Ho Neestan Ke Wastay Paida

Mohabbat Khaweshtan Beeni, Mohabbat Khwaestan Dari
Mohabbat Astan-e-Qaisar-o-Kasra Se Beparwa

Ajab kya Gar Meh-o-Parveen Mere Nakhcheer Ho Jaen
Ke Bar Fatraak-e-Sahib Doulatay Bistam Sar-e-Khud Ra’

Wo Dana-e-Subul, Khatam-Ur-Rusul, Moula-e-Kul (S.A.W.) Jis Ne
Ghubar-e-Rah Ko Bakhsha Farogh-e-Wadi-e-Sina

Nigah-e-Ishq-o-Masti Mein Wohi Awal, Wohi Akhir
Wohi Quran, Wohi Furqan, Wohi Yasin, Wohi Taha

Sanayi Ke Adab Se Mein Ne Gawwasi Na Ki Warna
Abhi Iss Behar Mein Baqi Hain Lakhon Lulu-e-Lala …

Slavery—exile in English

Slavery—exile from the love of beauty:
Beauty—whatever free men reckon so;

Trust no slave’s eyes, clear sight and liberty
Go hand in hand. His own resolves bestow

The empire of To‐day on him who fishes
To‐morrow’s pearl up from Time’s undertow.

The Frankish glassblowers’ arts can make stone run:
My alchemy makes glass flint‐hard.

Pharaoh plotted and plots against me; but what harm?
Heaven lifts my hand, like Moses’, white as snow;

Earth’s rubbish‐heaps can never quell this spark
God struck to light whole deserts, His flambeau!

Love, self‐beholding, self‐sustaining, stands
Un‐awed at the gates of Caesar or Khosro;

If moon or Pleiades fall my prey, what wonder—
Myself bound fast to the Prophet’s saddle‐bow!

He—Guide, Last Envoy, Lord of All—
Lent brightness of Sinai to our dust;

Love’s eyes, not slow to kindle, hail him Alpha and Omega,
Chapter, and Word, and Book. I would not go

Pearl‐diving there, for reverence of Sina‘i;
But in these tides a million pearls still grow.

Full Book BAL-E-JIBRIL

people found this article helpful. What about you?
Leave a Reply 0

Your email address will not be published.