Aftab-e-Subah | Bang-e-Dra : 20
Aftab-e-Subah
آفتابِ صبح
شورشِ مے خانہِ انساں سے بالاتر ہے تو
زینتِ بزمِ فلک ہو جس سے ، وہ ساغر ہے تو
معانی: آفتاب: سورج ۔ شورش: شور، ہنگامہ، غل غپاڑا ۔ میخانہَ انساں : مراد یہ دنیا ۔ بالاتر: بہت اونچا ۔ زینت: سجاوٹ ۔ بزم فلک: مراد چاند، ستارے وغیرہ ۔ ساغر: شراب کا پیالہ ۔
مطلب: علامہ اقبال طلوع ہوتے ہوئے آٖفتاب سے یوں مخاطب کرتے ہیں کہ بے شک تو انسانی دنیا کے ہنگاموں سے بہت زیادہ بلند و بالا ہے اس اعتبار سے بلند ہے کہ تیرا وجود انسانی دنیا سے بہت زیادہ دور ہے اور تیرا تعلق آسمان سے ہے ۔
ہو دُرِ گوشِ عروسِ صبح وہ گوہر ہے تو
جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو
معانی: دُر: موتی ۔ گوش: کان ۔ عروس: دلہن ۔ گوہر: موتی ۔ سیمائے افق: افق کا ماتھا ۔ نازاں ہونا: فخر کرنا ۔
مطلب: تیرے ہی دم سے وہاں کا حسن اور رونق برقرار ہے ۔ اگر صبح کو دلہن کی مانند تصور کر لیا جائے تو اے آفتاب تجھے اس کے کان کو زینت بخشنے والا موتی تصور کیا جائے گا ۔ تو ایسے حسین زیور کی طرح ہے جو افق کی پیشانی کے لیے بھی باعث ناز و فخر ہے ۔
صفحہَ ایام سے داغِ مدادِ شب مٹا
آسماں سے نقشِ باطل کی طرح کوکب مٹا
معانی: صفحہَ ایام: مراد زمانے کا صفحہ یعنی خود زمانہ ۔ مدادِ شب: رات کی سیاہی ۔ مٹا: رگڑ کر صاف کر دے ۔ نقشِ باطل: مراد غلط تحریر ۔ کوکب: ستارہ ۔
مطلب: اے آفتاب! تیرے طلوع ہو نے کے ساتھ ہی دنیا سے رات کی تاریکی کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ آسمان پر ستارے بھی حرف غلط کی مانند غائب ہو جاتے ہیں ۔
حُسن تیرا جب ہوا بامِ فلک سے جلوہ گر
آنکھ سے اُڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر
معانی: بامِ فلک: آسمان کی چھت ۔ جلوہ گر: روشن ۔ اثر اڑنا: اثر ختم ہونا ۔ خواب کی مے: مراد نیند ۔
مطلب: تو جس لمحے طلوع ہوتا ہے اور تیری حسین اور خوبصورت شعاعیں زمین پر عکس ریز ہوتی ہیں تو دنیا بھر کے لوگوں کی نگاہوں سے نیند کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے ۔
نُور سے معمور ہو جاتا ہے دامانِ نظر
کھولتی ہے چشمِ ظاہر کو ضیا تیری مگر
معانی: معمور: بھرا ہوا ۔ دامانِ نظر: نظر کی جھولی ۔
مطلب: اور ان کی نظریں تیری روشنی سے لبریز ہو جاتی ہیں ۔ اگرچہ تیری روشنی بظاہر آنکھوں کو نور عطا کرتی ہے ۔
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے
چشمِ باطن جس سے کھل جائے، وہ جلوا چاہیے
معانی: چشمِ باطن: ضمیر کی آنکھ، بصیرت ۔ جلوا: روشنی ۔
مطلب: تاہم امر واقع یہ ہے کہ میں وہ منظر دیکھنے کا خواہاں ہوں جس کی بدولت کائنات کے پوشیدہ اسرار مجھ پر وا ہو جائیں اور میں حقیقت کا ادراک کر سکوں ۔
شوقِ آزادی کے دنیا میں نہ نکلے حوصلے
زندگی بھر قید زنجیرِ تعلق میں رہے
معانی: حوصلہ نکلنا: آرزو پوری ہونا ۔ زنجیر تعلق: مراد دنیاوی دلچسپیوں کی زنجیر ۔
مطلب: اے آفتاب! ہر چند کہ میں ہمیشہ سے آزادی کا خواہاں تھا لیکن میری یہ طلب پوری نہ ہو سکی اس کے برعکس ساری زندگی دنیوی تعلقات کے جھمیلوں میں پھنسا رہا ۔
زیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے لیے
آرزو ہے کچھ اسی چشمِ تماشا کی مجھے
معانی: زیر و بالا: نیچے اور اوپر ۔ چشم تماشا: دیکھنے والی آنکھ، نگاہ ۔
مطلب: جب کہ تیری روشنی یہاں ہر ادنیٰ و اعلیٰ شخص کے لیے اور ہر کوئی بلا امتیاز اس سے استفادہ کر سکتا ہے ۔ مجھے بھی ایسی آنکھ درکار ہے جو تیری مانند ہر پست و بلند اور اپنے بیگانے کو کسی امتیاز کے بغیر دیکھنے کی حامل ہو ۔
آنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہو
امتیازِ ملت و آئیں سے دل آزاد ہو
معانی: سرشک آباد: مراد روتے رہنے والی ۔ امتیاز ملت و آئیں : مذہب اور رسموں وغیرہ میں فرق پیدا کرنے کی کیفیت ۔
مطلب: میں توایسی آنکھ چاہتا ہوں جو ہر کہہ و مہ کے دکھ درد میں آنسو بہانے کی قائل ہو ۔ یہی نہیں بلکہ مختلف اقوام اور وہاں کے قوانین سے منفی انداز کی تکلیف دہ روش سے آزاد ہو ۔
بستہَ رنگِ خصوصیت نہ ہو میری زباں
نوعِ انساں قوم ہو میری، وطن میرا جہاں
معانی:بستہ رنگ خصوصیت: خاص گروہ سے تعلق ہونے کی حالت ۔ نوع: قسم، گروہ، جماعت ۔
مطلب: میرا لب و لہجہ اور زبان ایسی ہو کہ کسی مخصوص جماعت یا گروہ کے اثرات سے ہم آہنگ نہ ہو ۔ میری خواہش تو یہ ہے کہ پوری انسانیت میری قوم ہو اور پوری دنیا میری وطن کی مانند ہو ۔
دیدہَ باطن پہ رازِ نظمِ قدرت ہو عیاں
ہو شناسائے فلک شمعِ تخیل کا دھواں
معانی: دیدہَ باطن: دل، ضمیر کی آنکھ، بصیرت ۔ نظم قدرت: قدرت کا بندوبست ۔ شناسائے فلک: آسمان سے واقف یعنی آسمان تک پہنچنے والا ۔ تخیل: چند معلوم باتوں کو ذہن میں لا کر ان سے ایک نیا خیال نکالنا ۔
مطلب: مجھ پر قدرت کی نعمتوں کے راز سربستہ افشاء ہو جائیں ۔ یہی نہیں بلکہ میرا تخیل آسمان کی بلندیوں تک بھی رسائی رکھنے کا اہل ہو ۔
عقدہَ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے
حُسنِ عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے مجھے
معانی: عقدہَ اضداد کی کاوش: مراد انسانوں کے باہمی اختلافات اور دشمنی وغیرہ کی الجھن ۔
مطلب: اے آفتاب صبح! میری یہ دلی آرزو ہے کہ مجھے اس عالم فانی کے تفرقے اور جھمیلے پریشان نہ کریں ۔ اس کے برعکس مجھے ہر شے میں ایسا حسن اور خوبصورتی نظر آئے جو میرے عشق ِ جنوں خیز میں لمحہ لمحہ اضافہ کر دے یعنی ہر شے سے بے نیاز ہو کر محبت اور وفا کو ہی اپنا مسلک سمجھوں ۔
صدمہ آ جائے ہوا سے گُل کی پتی کو اگر
اشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر
معانی: اے آفتاب صبح! میں تو اس قدر گداز طبع ہوں کہ اگر کسی پھول کی پتی کو بھی کوئی تکلیف پہنچے تو میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاءیں
دل میں ہو سوزِ محبت کا وہ چھوٹا سا شرر
نور سے جس کے ملے رازِ حقیقت کی خبر
معانی: سوزِ محبت: محبت کی آگ ۔ شرر: چنگاری ۔ رازِ حقیقت: مراد اس دنیا کو پیدا کرنے کا اصل بھید ۔
مطلب: یہی نہیں بلکہ میرے دل میں محبت کی ایسی آگ روشن ہو گئی ہے جس کی روشنی سے مجھ پر راز حقیقت کا انکشاف ہو جائے ۔
شاہدِ قدرت کا آئینہ ہو دل، میرا نہ ہو
سر میں جُز ہمدرد انساں کوئی سودا نہ ہو
معانی: ہمدردیِ انساں : انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونا ۔ سودا: شوق، دھن ۔
مطلب: جہاں تک میرے دل کا تعلق ہو وہ فطرت کے آئینے کی مانند ہو کہ اس میں سب کچھ نظر آ جائے ۔
تو اگر زحمت کشِ ہنگامہَ عالم نہیں
یہ فضیلت کا نشاں اے نیرِ اعظم نہیں
معانی: زحمت کش: تکلیف اٹھانے والا ۔ ہنگامہَ عالم: دنیا کا شور، غل ۔ نیر اعظم: سب سے زیادہ روشنی پھیلانے والا، یعنی سورج ۔
مطلب: اے آفتاب! اگر تو دنیا کے ہنگاموں اور مصائب کو برداشت کرنے کا اہل نہیں ہے تو یہ امر قطعی فخر و مباہات کا سبب نہیں ۔
اپنے حُسنِ عالم آرا سے جو تُو محرم نہیں
ہمسر یک ذرہَ خاکِ درِ آدم نہیں
معانی: حُسنِ عالم آرا: دنیا کو سجانے والا حسن، روشنی ۔ ہمسر: برابر کی شان ۔ خاکِ درِ آدم: انسان کے دروازے کی مٹی، مراد حقیر شے ۔
مطلب: جب تو اپنے حسن کی حقیقت سے آگاہ ہی نہیں جو پوری کائنات کو منور کرنے کا باعث ہوتا ہے تو اس صورت میں انسان کی ہمسری اور برابری کا ہل نہیں ۔
نورِ مسجودِ ملک گرمِ تماشا ہی رہا
اور تو منت پذیرِ صبحِ فردا ہی رہا
معانی: نورِ مسجودِ ملک: وہ نور جسے فرشتوں نے سجدہ کیا، مراد آدم کا نور ۔ گرمِ تماشا: مسلسل نظارے میں مصروف رہنے والا ۔ منت پذیر: دوسرے کا احسان اٹھانے والا ۔ صبحِ فردا: آنے والے کل کی صبح ۔
مطلب: انسانی نگاہ تو اے سورج تجھ کو دیکھتی رہی لیکن تو تھا کہ آنے والی کل کا منتظر ہی رہا ۔
آرزو نورِ حقیقت کی ہمارے دل میں ہے
لیلیِ ذوقِ طلب کا گھر اسی محمل میں ہے
معانی : نورِ حقیقت: حقیقتِ کائنات کو جاننے کی روشنی ۔ لیلیٰ: مجنوں کی محبوبہ ۔ ذوقِ طلب: تلاش کا ذوق ۔
مطلب: ہم تو حقائق کے نور کی خواہش دل میں لیے ہوئے ہیں جو کائنات کے رازوں کو بے نقاب کر دے کہ یہی ہمار بنیادی مسئلہ ہے ۔
کس قدر لذت کشودِ عقدہَ مشکل میں ہے
لُطفِ صد حاصل ہماری سعی بے حاصل میں ہے
معانی: کشودِ عقدہَ مشکل: پیچیدہ مسئلے حل کرنے کی حالت ۔ صد حاصل: مراد بہت سے فائدے، نتیجے ۔ سعی بے حاصل: ایسی کوشش جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے ۔
مطلب: تو اس حقیقت سے قطعی طور پر بہرہ ور نہیں ہے کہ مشکل مسائل کو حل کرنے میں کس قدر لطف موجود ہے اور اسی کوشش میں وہ کیفیت موجود ہے جو کچھ پانے کی جستجو سے تعلق رکھتی ہے ۔
دردِ استفہام سے واقف ترا پہلو نہیں
جستجوئے رازِ قدرت کا شناسا تو نہیں
معانی: دردِ استفہام: سوال کرنے، جستجو و تلاش کی تکلیف ۔
مطلب: اے آفتاب! آگاہی کے اس جذبے سے تو قطعی محروم ہے اس لیے کہ فطرت کے اسرار کوپانے کی طلب تجھ میں موجود ہی نہیں ہے
Aftab-e-Subah in Roman Urdu
Shourish e maikhana e insan se baalatar hai tu
Zeenat e bazm e falak ho jis se woh saghir hai tu
Ho dar e gosh e uroos e subah woh gohar hai tu
Jis pe seemaye ufaq nazaan ho woh zaiwar hai tu
Safha e ayyam se dagh e maddad e shab milta
Asman se nawqsh e batil ki tarah koukob mita
Husn tera jab huwa baam e falak se jalwa gar
Ankh se urta hai yak dam khawab ki main ka asar
Noor se maanor ho jata damaan e nazar
Kholti hai chashm e zahir ko zia tri magr
Dhoondti hain jis ko ankhain wo tamasha chahiya
Chashme d batin jis se khul jaye wo jalwa chahiye
Zair o bala aik hain teri nighon k liye
Arzoo hai kuch issi chashme tamaha ki mujhe
Ankh meri aru ke gham mein sar shak abad ho
Imtiaz e milta o aeen se dil azad ho
Basta e rang e khasusiat na ho meri zuban
Noo e insan qoum ho meri watan mera jahan
Didah e batin pe raaz e nazm e qudrat ho ayan
Ho shanasaye falak shama e takhiyul ka duhwan
Uqda e azdad ki kawish na tarpaye mujhe
Husn e ishq angiaz har shay mein nazar aye mujhe
Sadma a jaye hawa se gul ki patti ko agr
Ashak ban kar meri ankhon se tapak jaye asar
Dil main ho souz e mohabbat ka woh chota sa sharar
Noor se jis ki mile raaz e haqiqat ki khabar
Shahid e qudrat ka aeena ho dil mera na ho
Sar main juz hamdardi e insan koi souda na ho
Tu agr zehmat kash e hangama e alam nahi
Ye fazilat ka nishan ae naiyyar e azam nahi
Apne husn e alam ara se jot u mehram nahi
Humsar e yak zara e khak e dar e adam nahi
Noor e masjood e malak garam tamasha hi raha
Aur tu minnat pazeer e subah e farda hi raha
Arzoo noor e haqiqat ki humare dil main hai
Laila e zauq e talab ka ghr iss mehmil main hai
Kis Qadar lazzat kuchood e aqdah e mushkil main hai
Lutf sad hasil humri sae e behasil mein hai
Dard e istafhaam se waqif tera phlu nahi
Justujoo e raaz e qudrat ka shanasa to nahi
The Morning Sun
Far from the ignoble strife of man’s tavern you are
The wine cup adorning the sky assemblage you are
The jewel which should be the pearl of the morning bride’s ear you
The ornament which would be the pride of horizon’s forehead you are
The blot of nights ink from times page has been removed
The star from sky like a spurious picture has been removed
Perception’s expanse gets filled with light
Though opens only the material eye your light
The spectacle which the eyes seek is desired
The effulgence which would open the insight is desired
The high and the low are alike for your eye
I too have longing for such a discerning eye
May my eye shedding tears in sympathy for others ‘woes be
May my heart free from the prejudice of nation and customs be
May my tongue be not bound with discrimination of color
May mankind be my nation, the whole world my country be
May secret of natures organization clear to my insight be
May smoke of my imaginations candle rising to the sky be
May search for secrets of opposites not make me restless?
May the love creating beauty in everything appear to me?
If the rose petals get damaged by the breeze
May its pain dropping from my eye as a tear be
May my heart not mine but the beloveds mirror be
May no thought in my mind except human sympathy be
If you cannot endure the hardships of the tumultuous world
O the great luminary that is not the mark of greatness
As you are not aware of your world decorating beauty
You cannot be equal to a speck of dust at the man’s door
The light of man eager for the spectacle ever remained
And you obligated to the tomorrows morning ever remained
Opening of the difficult knot, oh what a pleasure it is
The pleasure of universal gain in our endless effort is
Your bosom is unacquainted with the pain of investigation
You are not familiar with searching of the secrets of nature
Full Book with Translation BANG-E-DRA